Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. 2 Wonderful Boy

2 Wonderful Boy

2 ونڈر فُل بوائے

پاکستانی قوم کو ڈیم فول بنانے کا کام بہت برس پہلے شروع ہوا تھا اور ونڈر فول لانے کی باتیں بھی۔ یہ وہ دور تھا جب سٹار پلس کے ڈرامے پاکستانیوں میں بہت مقبول ہوا کرتے تھے اور وہ کانسپیرنسی تھیوریز پر بہت زیادہ یقین رکھتے تھے۔ قوم کو ڈیم فول بناتے ہوئے عمران خان نامی ونڈر فول متعارف کروایا گیا تھا جس نے اپنے سوا سب کو بدعنوان اور نااہل کہا تھا مگر پھر ثابت ہوا کہ دوسروں کو یہ سب کہنے والا خودسب سے بڑا ڈیم فول نکلا۔

ڈیم فول سے یاد آیا کہ اس ٹولے نے قوم کو ڈیموں کے نام سے بھی فول بنایا تھا اور بیس، بیس روپے جمع کرتے ہوئے اربوں روپے ٹھگ لئے تھے۔ پھر پتا چلا کہ جتنے ارب کی ڈیم کے لئے ٹھگی لگائی ہے اس سے زیادہ ارب روپوں کے تو اپنی شہرت اور بلے بلے کے لئے اشتہارات چلا لئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہردور میں سمجھتے ہیں کہ قوم کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے مگر کسی سیانے نے کہا تھا کہ تمام لوگوں کو تمام موقعوں پر بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ وقت آیا کہ لوگ سٹارپلس کے ڈراموں کی حقیقت بھی جان لئے کہ ڈھز دھز کرتے میوزک کے ساتھ اس کے ڈراموں کی کہانی کئی کئی قسطوں تک ایک ہی جگہ پھنسی رہتی ہے، اس کے بعد لوگوں کا انٹرسٹ ہی ختم ہوکے رہ گیا۔

جب ہر طرف سے ا چھی خبریں آ رہی ہیں، امریکہ کا صدر پاکستان کی تعریفیں کر رہا ہے، چین کے ساتھ تعلقات روایتی اور بہترین ہیں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے، ترکی اس میں شرکت کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے، شرح سود مسلسل کم ہو رہی ہے، انفلیشن ریٹ چالیس فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ چکا ہے، جی ڈی پی میں اضافہ ہو رہا ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان نے بھارت کو شکست دینے کی تاریخی کامیابی حاصل کی ہے توا یسے میں بھی ہمارے کچھ دوست حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات ڈھونڈ رہے ہیں، بہترین سول ملٹری ریلیشن شپ کو سراہنے کی بجائے افواہیں اڑ ارہے ہیں۔

میں ونڈر بوائے والی کہانی پر بعد میں جاتا ہوں، اس سے پہلے اس سٹوری پر بات کر لوں کہ فوج نے معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے سول حکومت کو چھ ماہ کی مہلت دے دی ہے اوراس کے بعد کیا ہوگا اس ٹیبل سٹوری کو ونڈر بوائے کی تلاش کے ساتھ جوڑ اجا رہا ہے۔ ایسی تمام کہانیاں ایک مایوس اور ناکام کلٹ کو خوش کرنے کے لئے ہیں جو محرومی اور نامرادی کی انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ یہ کہانیاں ایسی ہی ہیں جیسے کوئی خواجہ سرا، اپنے ساتھیوں کوبتائے کہ ایک پری آئے گی اور انہیں کاکا دے جائے گی۔ یہ انہی خوابو ں کی تکمیل ہے جن میں ائیرپورٹ پر رونے والا ایک شخص بتاتا ہے کہ عمران خان آ رہا ہے اور دم ٹھونک کر آ رہا ہے اور بھاٹی لوہاری سانڈے کا تیل بیچنے والی شخصیت، آواز اور لہجہ رکھنے والا بتاتا ہے کہ اڑتالیس گھنٹوں میں انقلاب آنے والا ہے حالانکہ موصوف کی شکل دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں انقلاب کی نہیں جلاب کی ضرورت ہے، افسوس، انہوں نے صحافت کو عطائیت بنا دیا ہے۔

چلیں، ونڈر فُل بوائے والی کہانی کا پوسٹ مارٹم کر لیتے ہیں۔ کیا فوج کو کسی ونڈر فل بوائے کی ضرورت ہے تواس کا جواب ہے ہرگز نہیں، اس کے پاس اس وقت ایک نہیں بلکہ دو، دو ونڈرفُل بوائز موجود ہیں، ایک فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صورت میں اور دوسرے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صورت میں۔ آج کی اسٹیبلشمنٹ کو آئین، قانون اورجمہوریت سے باہر کسی ونڈر بوائے کی ایک فیصد بھی ضرورت نہیں، یاد کیجئے، معین قریشی اور شوکت عزیز بھی ناکام ہوئے جنہیں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ونڈر فل بنا کے ہی پیش کیا تھا مگر ان کا پاکستان کی تاریخ میں زیرو پرسنٹ امپیکٹ بھی نہیں ہے لہذا اب ایسے کسی ونڈر فل بوائے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی تلاش۔ حکومتی حلقوں میں دو اور ونڈر فل بوائے بھی موجود ہیں ایک بلاول بھٹو زرداری اور دوسرے محسن نقوی مگر ان کا نمبر تب ہی آ سکتا ہے جب پہلے نمبر پر موجود ونڈر بوائے دستبردار ہوجائے مگر کیا اس کے امکانات موجود ہیں، ہرگز نہیں۔

شہباز شریف تو وہ ونڈر بوائے ہے جس نے کوٹ لکھپت میں بند اپنے بڑے بھائی کو لندن اور اڈیالہ میں قید اپنی بھتیجی کو جاتی امرا پہنچا دیا اور ان کا بدترین دشمن جوایوان وزیراعظم میں متمکن تھا اپنی حکمت عملی سے اسے پابند سلاسل کروا دیا اور خود ایوان وزیراعظم سنبھال لیا یعنی تختے کو تخت اور تخت کو تختہ کرنے والا ونڈر بوائے۔ ا سی ونڈر بوائے نے دیوالیہ ہوتے پاکستان کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بنا دیا۔ یہ وہی ونڈر بوائے ہے جس نے اس عدلیہ کو آئین کی ہتھکڑی پہنا دی جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہوا کرتا تھا اور وہ وزیراعظموں کے سر کچلا کرتی تھی اور دوسری طرف فوج کے ونڈر بوائے نے اپنی دس ارب ڈالر بجٹ والی فوج کے ساتھ اپنی دشمن اسی ارب ڈالر بجٹ والی فوج کو چار گھنٹوں میں گھٹنوں پر لانے کا کرشمہ کر دکھایا۔

یہ وہ ونڈر بوائے ہے جس نے مودی کا سرہی نہیں جھکایا بلکہ امریکی صدر کو بھی ایسا رام کیا کہ اب وہ ہر جگہ ان کی تعریفیں کرتا پھرتا ہے۔ یہ وہ ونڈر بوائز ہیں جن کے مقابلے میں وہ مہاطمع تھا جسے اپنے پیرنی کے جادو پر بہت ناز تھا مگر حافظ کا تعویذ ایسا چلا کہ وہ مہاطمع تو ایک طرف مودی اور ٹرمپ تک ڈھیر ہو گئے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ ونڈر بوائز سے بھی آگے بڑھ کے حکیم الامت، شاعر مشرق کے مرد مومن ہیں جن کے بارے کہا گیا نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو، یدبیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانیوں کو ایک طویل عرصے تک ایسی کہانیوں سے ڈیم فول بنایا جاتا رہا ہے مگر اب وہ ان کہانیوں کی حقیقت جان گئے ہیں۔ ٹیوے لگائے جاتے ہیں او ر نکتے سے نکتے کو جوڑا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سامعہ خان بنتے ہوئے ایک پیشین گوئی کر دی جاتی ہے۔ اگر قانون امکانات کے تحت وہ پیشین گوئی درست ہوجائے تواس پر خود اپنا منہ چوما جاتا ہے، خود پر صدقے واری ہوا جاتا ہے مگر میں ایک صحافی کے طور پر پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ابھی ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔

فوج اور حکومت مکمل طور پر ایک صفحے پر ہیں اور ا س حوالے سے تو مکمل طور پر ایک صفحے پر ہیں کہ نو مئی کے ذمے داروں، بالخصوص اس کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ ساز کو تو ضرورہی اس کے قانونی اور منطقی انجام تک پہنچانا ہے اور اگر کوئی اس سے ہٹ کر اپنی چڑیا اڑاتا ہے یا چیل، وہ بے پر کی ہے، وہ بہت جلد نیچے گر جاتی ہے۔ ابھی ایسے کوئی اشارے نہیں کہ حکومت اور فوج میں کوئی گڑبڑ ہے، جب ہوگی آپ کو بتا دیا جائے گا۔

Check Also

Kya UP Ki Ashrafia Ne Apni Zuban Pakistan Mein Bazor Nafiz Ki?

By Hafiz Safwan