Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Shaheen Kamal/
  4. Zamhareer (1)

Zamhareer (1)

کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ بہت زور سے چیخوں اور پوچھوں کہ آخر میں ہی کیوں؟ میرے پاس ڈھیر سارے سوالات ہیں جو میں اللہ تعالیٰ سے پوچھنا چاہتی ہوں۔ مگر بے ادبی کے خوف سے انہیں دل میں ہی گھونٹ رکھا ہے۔ مگر وہ تو علیم و خبیر ہے اس سے بھلا کیسے چھپے گا؟ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ میں کافر ہوں۔

ویسے تو صوم وصلاۃ کی پابند ہوں مگر یہ سب میرا ظاہر ہے۔ میرے اندر دن رات سوالات کی جو بھابھنڑ جلتی رہتی ہے ناں، یہ کمبخت کہیں مجھے جہنم کا ایندھن ہی نہ بنا دے۔ کبھی کبھی تو بنانے والے کی ستم ظریفی پر ہنسی بھی آتی ہے۔ دیکھا! پھر کفر شروع۔ اچھا ایسا ہے کہ میں آج شہر زاد بنتی ہوں اور آپ کو اپنی کہانی شروع سے سناتی ہوں۔

میرا نام ثروت ہے۔ یہ پہلی ستم ظریفی میرے ماں باپ کی ہے مجھ پر۔ مجھ خالی ڈھنڈر کا نام ثروت؟ شکل و عقل میری اوسط۔ عسرت تو شاید جچتا بھی پر ثروت تو کہیں سے بھی فٹ بیٹھتا ہی نہیں۔ یہ صرف میرا خیال نہیں اس پر توثیق کی مہر میرے میاں فیض نے بھی لگا دی ہے۔ میرے ماں باپ کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے۔ ان کے ماں باپ نے ہندوستان (کلکتے) سے ہجرت کی اور مشرقی پاکستان کو اپنا مسکن بنایا۔

جتنی سینتالیس کی تقسیم کی دلدوز کہانیاں ہیں نا وہ سب کی سب آپ اپنے ذہن میں دہرا لیجیے۔ بس وہ سب کچھ بیتا ان مظلوموں پر۔ اس لال آندھی میں آدھا خاندان ہو گیا، یہ لوگ صرف اپنی جان لیکر پاکستان پہنچے اور ڈھاکہ میں نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ ابا ہمارے ایک ہی بھائی بہن تھے۔ ابا یعنی انیس الرحمان اور پھوپھی انجم خاتون، یہیں ڈھاکہ کے علاقے عظیم پور میں رہے بسے۔ قائداعظم کالج سے گریجویشن کے بعد ابا کی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں نوکری لگی۔

دادی کو ابا کے سہرے کے پھول کھلانے کی سوجھی۔ نظر انتخاب جیٹھ کی بیٹی اور بیٹے پر ٹھہری گویا ایک پنتھ دو کاج۔ ایک ہی ہلے میں بیٹی اور بیٹے دونوں کو نبٹا دیا۔ پرانا زمانہ تھا خاندان اور ہڈی کی اہمیت زیادہ تھی باقی باتیں ثانوی تھیں۔ ویسے بھی ہمارے یہاں شادی برادری سے باہر نہیں ہوتی تھی۔ شکل صورت میں ابا بالکل سنتوش کمار سے مشابہ تھے۔ امی بھی صبیحہ سے کم نہیں تھیں۔ گویا شمس و قمر کی جوڑی تھی۔

پر کیا کیجیے کے نصیب نے ملن بھی شمس و قمر جیسا ہی رکھا کہ دل ملا ہی نہیں فاصلہ ہی فاصلہ رہا۔ وجہ؟ وجہ وہی پاپی پرانی یعنی دل کی کہانی۔ ابا کا دل اپنے دوست کی بہن پر آیا اور وہ چونکہ برادری سے نہیں تھیں سو ہماری دادی راضی نہیں ہوئی پر ایک وجہ اور بھی تھی اور وہ یہ کہ میری پھوپھی انجم کا جھکاؤ میرے ماموں اختر کی جانب تھا۔ جب بیٹی اور بیٹے کا مقابلہ ہوتا ہے تو اکثر مائیں بیٹوں کے حق میں ڈنڈی مار جاتی ہیں۔

سو میری پھوپھی دل کی بازی جیت گئی۔ میری پھوپھی انجم اور ماموں اختر بھی رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ یہ ایک وٹہ سٹہ شادی تھی۔ جس میں ایک جوڑا آباد اور دوسرا تاراج ہوا۔ کچھ عرصے بعد پھوپھی اور پھوپھا(ماموں اختر) مغربی پاکستان آ گئے۔ اختر ماموں اسمارٹ آدمی ہیں۔ ان کی بزنس کی سوجھ بوجھ ہمشہ سے بہت اچھی رہی اور کچھ نصیب نے بھی یاوری کی۔ یہ فیصل آباد میں سیٹ ہوئے اور کپڑے کی کھڈی لگا لی۔

اب تو خیر سے کھڈی سے فیکٹری تک آ گئے ہیں۔ میرے ابا کی خوش قسمتی کہ 1970 میں جب میں، کچھ ماہ کی تھی تو ابا کی پوسٹنگ کراچی ہو گئ۔ یوں وہ سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے سے بال بال بچے۔ کراچی میں ہم لوگوں کی رہائش واٹر پمپ میں تھی۔ میری باقی دونوں بہنیں مدحت، عطرت اور ہمارا اکلوتا بھائی شہزاد، یہ تینوں کراچی ہولی فیملی ہسپتال میں پیدا ہوئے۔ کراچی آنے کے ایک سال بعد ہی دادی کا انتقال ہو گیا۔

دادا تو ابا اور پھوپھی کی شادی سے پہلے ہی کالا زار کے مرض میں مبتلا ہو کر میڈفورڈ ہسپتال میں مہینے بھر رلنے کے بعد عدم آباد سدھارے تھے۔ جہاں تک مجھے اپنا بچپن یاد ہے، ہمارا گھر ٹھٹھرا ہوا تھا۔ ہمارے گھر محبت کی حرارت مفقود تھی کہ ابا ایک انتہائی مطلق العنان حاکم اور امی جو حکم میرے آقا کی تفسیر۔ مجھے اپنا گھر زہر لگتا تھا۔ یہ نہیں تھا کہ میں نے باہر کی دنیا دیکھی تھی۔ نہیں صاحب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ہم لوگوں کا ملنا جلنا انتہائی محدود تھا۔ امی اس قدر کم گو تھیں کہ محلے کی عورتوں نے دو چار بار آنے کے بعد آنا ہی چھوڑ دیا۔ ہاں رات کے کھانے کے بعد گھر کے باہر چبوترے پر ابا کی محفل ضرور جمتی تھی۔ چار چھ اڑوسی پڑوسی جمع ہوتے اور مردوں کا من پسند موضوع حالات حاضرہ چھڑ جاتا۔ ہم بچوں کو کسی دوست کے گھر جانے یا ان کو اپنے گھر بلانے کی ممانعت تھی۔ شام میں جب تک ہم سب چھوٹے تھے گھر کے باہر پہل دوج یا پٹھو گرام کھیل لیتے تھے۔

دس گیارہ کا سن لگتے لگتے ہم سب زندان کے قیدی ہوتے گئے۔ میری باہر کی دنیا سے جو بھی واقفیت تھی وہ اسکول کی لڑکیوں سے بریک کے دوران معمولی سی گپ شپ یا ٹی وی ڈراموں کے طفیل تھی۔ ڈرامے مجھے بہت اچھے لگتے تھے۔ وہ تو کسی اور ہی جہان کی سیر کرا دیتے تھے، انکل عرفی، ان کہی اور زیر زبر پیش، تنہائیاں ہائے کیسے کیسے خوب صورت ڈرامے تھے۔ ان میں کیسے اچھے مکمل گھر اور بھرپور رشتے دکھاتے تھے۔

نویں کلاس سے رات کی روٹیاں بنانی میری ذمہ داری ٹھہری تھی۔ ابا ٹھیک رات نو بجے کھانا کھاتے تھے اس لیے ڈرامے کے آخری وقفہ سے پہلے ہی مجھے ڈرامہ چھوڑ کر باورچی خانے میں روٹیاں بیلنا شروع کرنی پڑتی تھی اور میں دل مسوس کر رہ جاتی۔ ابا دفتر سے واپسی پر سبزی گوشت لیتے آتے اور اگلے دن کا مفصل ہدایت نامہ جاری کر دیتے تھے۔ ہمارے گھر کا ایک لگا بندھا معمول تھا۔ میرا تو دل گھر سے گھبرا گیا تھا پر کرتی کیا نہ جائے رفتن نہ پائے مانند۔

کلفٹن، میوزیم اور چڑیا گھر کے ناموں سے بس کتابوں تک آشنائی تھی۔ ہم لوگ ان کی موجودگی سے قطعی نابلد تھے۔ مجھے پڑھائی سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اور میں خاصی کوڑھ مغز تھی۔ مر مر کر میں نے میٹرک پاس کیا البتہ مدحت پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔ عطرت بھی ٹھیک تھی لیکن شہزاد میری ہی طرح غبی تھا، اسی لیے ابا سے آئے دن مار کھاتا تھا۔ لڑکیوں کو ابا نے کبھی مارا تو نہیں پر خراب رزلٹ لانے پر ہمارا کھانا ضرور بند ہوا۔

اس سارے منظر نامے میں امی بالکل غیر جانبدار فریق کا کردار ادا کرتیں۔ جانے یہ ان کی بے حسی تھی یا بے بسی پر جو بھی تھی، مجھے ان سے مزید متنفر کرتی۔ ایک عجیب بات کہ امی اور ابا دونوں بہت خوشکل تھے جبکہ میں اور عطرت جمال کم نما کی مثال اور مدحت اور شہزاد بہت خوش جمال۔ مجھے اپنی اوسط شکل کا ادراک بچپن میں ہی ہو گیا تھا مگر میں نے اس کو روگ نہیں بنایا اور نہ ہی مجھے کبھی مدحت سے جلن محسوس ہوئی۔

لوگ بھی کیا خوب ہوتے ہیں۔ میرے منہ پر ہی امی سے کہتے تھے یہ دونوں (میں اور عطرت) کس پر چلی گئی ہیں؟ آپ تو بہت خوب صورت ہیں۔ امی مسکرا کر خاموش رہتی۔ مجھے حسرت ہی رہی کہ کبھی امی یہ کہیں کہ نہیں میری بیٹی تو بہت پیاری ہے۔ کیسی جاذب نظر، گو کہ یہ جھوٹ ہی ہوتا پر وہ سچ بھی کس کام کا جو جگر کو پاش کرے۔

میری انٹر میں سپلی آئی تو ابا بہت ناراض ہوئے اور مجھے مزید پڑھانے سے انکاری۔ مجھے کیا فرق پڑتا تھا میں تو خوش تھی کہ پڑھائی کے جنجال سے جان چھوٹی مگر وہ جو ایک ذرا سی دیر کو تازہ ہوا ملتی تھی سانس لینے کو اور باہر کی دنیا کی رونق جو دوران سفر بس کی چھوٹی سی کھڑکی سے نظر آتی تھی۔ پی ٹی گراؤنڈ سے نظر آتا وسیع نیلا آسمان اور اس پر اڑتے آزاد پرندے ان سب کے چھوٹنے کا قلق ضرور تھا۔

انٹر کے بعد میں نے کلی طور پر کچن اپنا لیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو کسی نہ کسی ہنر سے ضرور نوازتا ہے۔ میرے ہاتھوں میں بلا کا ذائقہ ہے۔ میری بنائی ہوئی دال، مرغی پر بھاری ہے۔ ابا کھانے کے شوقین تھے اور میرے پکانے کے شوق نے ان کے بجٹ کو تلپٹ تو کیا پر کیا کیا جائے کہ زبان کا چسکا بھی برا ہے۔ کھانے کے مد میں ابا خرچ کر ہی دیتے تھے۔ ہم لوگوں نے بازار کی شکل کبھی نہیں دیکھی تھی۔

جو ابا نے لا دیا وہی امی نے سیدھا سادا سی دیا، ایک تھیلا نما قمیص، کیسا فیشن اور کہاں کا فیشن؟ ٹرینڈ کس چڑیا کا نام ہے اور برینڈ کیا بلا ہے؟ ہمارے فرشتے بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔ ٹی وی کی دنیا اور تھی اور ہم لوگ کسی اور ہی ٹائم زون کی مخلوق۔ امی کے ہاتھوں میں سارا سال اون اور سیلائیاں ہوتی پر وہ بنتی کم اور ادھیڑتی زیادہ تھیں۔ جانے کون سا شاہکار تھا جو کبھی مکمل ہی نہیں ہو پایا۔

ہفتے کے سارے دنوں میں مجھے اتوار سب سے زیادہ برا لگتا تھا کیوں کہ اس دن ابا گھر پر ہوتے اور ان کے رعب کی وجہ سے ہم بھائی بہن بات بھی سرگوشیوں میں کرتے تھے اور اس دن گھر میں امی کی چپ بہت گونجتی تھی۔ امی ابا کا کمرہ باورچی خانے کے ساتھ ہی تھا۔ میں باورچی خانے آتے جاتے ہوئے کن انکھیوں سے ان کے کمرے کو ضرور تاڑتی۔ ابا سرہانے تکیہ لگائے اخبار پڑھ رہے ہوتے اور امی پئتانے ادھیڑنے اور بننے میں مصروف اور پورے کمرے میں ایک جامد خاموشی کہرے کی طرح چھائی ہوتی۔

میرا بڑا دل چاہتا تھا کہ میرے ماں باپ بھی ڈراموں والے ماں باپ کی طرح خوش گپیاں کریں اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم کھل کر لڑ ہی لیں۔ کسی طور بھی سہی یہ جامد چپ تو ٹوٹے پر میں اور میری تشنہ آرزوئیں۔ سارے سال میں خوشی کی گھڑی بس وہ ہوتی جب نانی فیصل آباد سے آتیں۔ نانی کا سال میں کراچی کا ایک چکر لازمی لگتا۔ عموماً وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں آتی تھیں۔ نانی اس قدر سوغاتیں لاتی تھیں کے گھر بھر جاتا تھا۔ میری نانی سے بہت اچھی دوستی تھی۔

Check Also

Wo Youn Aye Janaze Par

By Khadija Bari