Own Goal Karne Walay Khilari Ka Qatal Aur Qatil Ka Anjam
اون گول کرنے والے کھلاڑی کا قتل اور قاتل کا انجام

امریکا میں جاری فیفا ورلڈکپ کے راؤنڈ آف 32 میں آج کولمبیا کا مقابلہ گھانا سے ہوگا۔ 32 سال پہلے جب امریکا ہی میں ورلڈکپ ہوا تھا تو اس کے دوران ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے پورے کولمبیا اور فٹبال سے محبت کرنے والے ہر شخص کو دکھی کردیا تھا۔ کولمبیا کے دفاعی کھلاڑی آندریس اسکوبار نے امریکا کے خلاف میچ میں اون گول کردیا تھا۔ صرف دس دن بعد انھیں کولمبیا میں اپنے ہی شہر میڈیین میں قتل کردیا گیا تھا۔
آندریس اسکوبار 1967 میں ایک نسبتاً خوشحال خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بینکر تھے، اس لیے وہ کولمبیا کے ان بیشتر فٹبالروں سے مختلف تھے جو غربت سے نکل کر کھیل کی دنیا میں آتے ہیں۔ انھوں نے بچپن ہی سے فٹبال کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں وہ ایتھلیٹیکو ناسیونال کے نوجوانوں کے اسکواڈ میں شامل ہوگئے اور چند برس بعد قومی ٹیم تک پہنچ گئے۔
اسکوبار کا کھیل ان کی شخصیت کی طرح پُرسکون تھا۔ وہ جارحانہ یا شور مچانے والے کھلاڑی نہیں تھے بلکہ ایسے ڈیفنڈر تھے جو میدان میں گھبراہٹ ختم کردیتے تھے۔ مخالف ٹیم کا حملہ ان کے سامنے آکر جیسے اپنی رفتار کھو دیتا تھا۔ اسی لیے انھیں "ایل کابالیرو دل فتبول" یعنی "فٹبال کا شریف آدمی" کہا جاتا تھا۔ ان کے ساتھی کھلاڑی کہتے تھے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے۔ 1994 کے ورلڈکپ میں ایک ساتھی کھلاڑی کے بھائی کی وفات ہوئی تو میچ سے پہلے وہ پوری رات اس کے ساتھ بیٹھے رہے تاکہ وہ تنہا محسوس نہ کرے۔
اسکوبار کی نجی زندگی غیرمعمولی نظم و ضبط کی مثال تھی۔ وہ مذہبی ذہن کے تھے اور روزانہ بائبل کا کچھ حصہ پڑھتے تھے۔ ان کی بائبل میں دو تصویریں بک مارک کے طور پر رکھی رہتی تھیں، ایک ان کی والدہ کی اور دوسری ان کی منگیتر پامیلا کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جس شخص کی ذاتی زندگی بے ترتیب ہو، وہ میدان میں بھی اچھا نہیں کھیل سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ شراب سے دور رہتے اور اپنی فٹنس پر بہت توجہ دیتے تھے۔
اسکوبار نے 1988 میں انگلینڈ کے خلاف ویمبلے اسٹیڈیم میں ہیڈر پر گول کیا تھا جس پر مقابلہ 1-1 سے برابر ہوگیا۔ یہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا واحد گول تھا۔ بعد میں ان کا نام دنیا بھر میں ایک اور گول کی وجہ سے مشہور ہوا لیکن وہ گول اپنی ہی ٹیم کے خلاف تھا۔
ورلڈکپ 1994 سے پہلے کولمبیا کو ٹورنامنٹ کی سب سے خطرناک ٹیموں میں شمار کیا جارہا تھا۔ اس نے ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں ارجنٹینا کو بیونس آئرس میں پانچ صفر سے شکست دی تھی۔ یورپ کے بڑے کلب اے سی میلان نے آندریس اسکوبار کو اپنے لیجنڈری ڈیفنڈر فرانکو باریزی کی جگہ ٹیم میں شامل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا موقع تھا۔
لیکن پھر سب کچھ بگڑنا شروع ہوگیا۔ ورلڈکپ کے پہلے میچ میں رومانیہ نے کولمبیا کو تین ایک سے شکست دے دی۔ اس کے بعد حالات صرف کھیل تک محدود نہیں رہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کوچ فرانسسکو ماتورانا اور مڈفیلڈر گیبریئل گومیز کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں۔ حیران کن بات یہ تھی کہ یہ دھمکیاں بعد میں ٹیم ہوٹل کے تمام کمروں میں موجود ٹیلی وژن اسکرینوں پر بھی نمودار ہوئیں۔ اس سے ایک روز پہلے ٹیم کے کھلاڑی لوئس ہیریرا کے بھائی کولمبیا میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ کھلاڑی ذہنی طور پر شدید دباؤ میں تھے لیکن دنیا کو اس کا اندازہ تک نہیں تھا۔
ان دنوں کولمبیا منشیات فروش گروہوں کی جنگ کا مرکز تھا۔ پابلو اسکوبار اگرچہ چند ماہ پہلے مارا جاچکا تھا، لیکن اس کی بنائی ہوئی جرائم کی سلطنت زندہ تھی۔ اغوا، قتل، بھتا خوری اور سیاسی تشدد معمول تھے۔ ایسے ماحول میں فٹبال ٹیم صرف ایک کھیل کی نمائندہ نہیں بلکہ پورے ملک کی امید سمجھی جاتی تھی۔ اس پر دباؤ بھی ناقابل تصور تھا۔
لاس اینجلس کے روز باؤل اسٹیڈیم میں 22 جون 1994 کو امریکا کے خلاف میچ کولمبیا کے لیے "کرو یا مرو" کی حیثیت رکھتا تھا۔ پہلے ہاف میں امریکی ونگر جان ہارکس کے خطرناک کراس کو روکنے کی کوشش میں آندریس اسکوبار نے سلائیڈ کیا، لیکن گیند ان کے پاؤں سے لگ کر سیدھی اپنے ہی جال میں چلی گئی۔ چند لمحوں کے لیے پورا اسٹیڈیم خاموش ہوگیا۔ بعد میں امریکا نے وہ میچ ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیت لیا اور کولمبیا عملاً ورلڈکپ سے باہر ہوگیا۔
میچ کے بعد آندریس مکمل طور پر ٹوٹ چکے تھے۔ ان کے بڑے بھائی سانتیاگو اسکوبار نے بتایا کہ آندریس بار بار یہی کہتے رہے کہ انھوں نے پوری زندگی میں کبھی اون گول نہیں کیا تھا اور بدقسمتی سے ورلڈکپ کے سب سے اہم موقع پر ان سے سرزد ہوگیا۔ انھیں یقین ہوگیا تھا کہ اے سی میلان اب انھیں سائن نہیں کرے گا۔ سانتیاگو نے انھیں سمجھایا کہ اتنا بڑا کلب ایک دو میچوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتا، لیکن آندریس بے حد مایوس تھے۔
کولمبیا نے آخری گروپ میچ میں سوئٹزرلینڈ کو دو صفر سے ہرایا لیکن اس کے لیے ٹورنامنٹ ختم ہوچکا تھا۔ سانتیاگو اسکوبار کو دل میں عجیب سا خوف محسوس ہوا۔ انھوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ چند دن امریکا ہی میں خاندان کے ساتھ گزارو، پھر واپس جانا۔ ان کی منگیتر پامیلا بھی امریکا آسکتی تھی۔ لیکن آندریس نے انکار کردیا۔
واپسی سے پہلے آندریس نے کولمبیا کے معروف اخبار ال تیئمپو میں ایک کالم لکھا۔ اس میں انھوں نے شائقین سے مایوس نہ ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ کھیل میں جیت اور ہار ہوتی رہتی ہے۔ ان کا سب سے مشہور جملہ تھا، زندگی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ان الفاظ نے بعد میں پڑھنے والے کو جھنجھوڑ دیا کیونکہ صرف چند دن بعد ان کی زندگی واقعی ختم کردی گئی۔
دو جولائی 1994 کی رات وہ اپنے چند قریبی دوستوں کے ساتھ میڈیین کے ایک کلب پاڈووا گئے۔ راستے میں مداحوں سے ملے، آٹوگراف دیے اور ورلڈکپ پر گفتگو کرتے رہے۔ رات تقریباً تین بجے وہ پارکنگ میں اپنی نیلی ہونڈا سوک کے پاس پہنچے تو چند افراد نے انہیں اون گول کا طعنہ دینا شروع کردیا۔ آندریس نے جھگڑا کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ انھوں نے جان بوجھ کر غلطی نہیں کی اور ان سے احترام سے بات کی جائے۔ اسی لمحے حملہ آور نے ایک پستول نکالا اور قریب سے ان پر چھ گولیاں چلادیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ہر گولی کے ساتھ قاتل چلاتا رہا، گول۔ گویا وہ ورلڈکپ کے اس بدقسمت لمحے کا مذاق اڑا رہا ہو۔ آندریس اسکوبار صرف 27 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔
اس وقت سانتیاگو اور خاندان کے دوسرے افراد لاس ویگاس میں تھے۔ رات دو بجے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف گیبریئل گومیز تھے، جنھوں نے صرف اتنا کہا، انھوں نے آندریس کو قتل کردیا ہے۔ سانتیاگو کے بقول وہ ان کی زندگی کا بدترین لمحہ تھا۔ خاندان فوراً لاس ویگاس سے ہیوسٹن، پھر میامی اور وہاں سے میڈیین روانہ ہوا۔ اس پورے سفر کے دوران انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک فٹبال میچ کے بعد ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ آج بھی سانتیاگو کہتے ہیں کہ بتیس برس گزرنے کے باوجود وہ اپنے بھائی کو یاد کرکے رو پڑتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق حملہ آور ہمبرتو مونوز کاسترو تھا، جو گایون برادران کا ڈرائیور اور باڈی گارڈ تھا۔ اس نے قتل کا اعتراف کیا اور اسے 43 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں "اچھے رویے" کی بنیاد پر اسے صرف گیارہ سال بعد رہا کردیا گیا۔ استغاثہ کا خیال تھا کہ گایون برادران نے، جن کے منشیات فروش گروہوں سے تعلقات تھے، ورلڈکپ پر بھاری رقم کا جوا ہارا تھا اور انتقام میں آندریس اسکوبار کو قتل کرایا۔ لیکن یہ الزام عدالت میں ثابت نہیں کیا جاسکا۔
اس کہانی کا ایک باب اسی سال یعنی 2026 میں مکمل ہوا جب کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اعلان کیا کہ گایون برادران میں سے ایک، سانتیاگو گایون ہیناؤ میکسیکو میں قتل کردیا گیا ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ آندریس اسکوبار کے قتل کا ذمے دار تھا۔ بعد میں تصدیق ہوئی کہ گایون کو میکسیکو کے ایک ریستوران میں گولی مارکر قتل کیا گیا۔
لیکن سانتیاگو اسکوبار کو اس خبر سے کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے شخص کی موت سے آندریس واپس نہیں آسکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کے بھائی کو صرف اس المناک انجام سے نہ پہچانے بلکہ اس انسان کے طور پر یاد رکھے جو دیانت دار، شائستہ، ذمے دار اور اپنے پیشے سے بے حد مخلص تھا۔
آج جب امریکا ایک بار پھر ورلڈکپ کی میزبانی کررہا ہے اور کولمبیا ایک بار پھر کھیل رہا ہے تو آندریس اسکوبار کی یاد دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔ ان کا کردار اور ان کی کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ ایک غلطی پر کسی انسان کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

