Kon Si Team Favourite, Kon Se Khilari Markaz e Nigah?
کون سی ٹیمیں فیورٹ، کون سے کھلاڑی مرکز نگاہ؟

ورلڈکپ شروع ہونے سے پہلے ایک سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے، اس بار چیمپین کون بنے گا؟ نیویارک ٹائمز، بی بی سی، گارڈین، ای ایس پی این، ہر بڑے میڈیا پلیٹ فارم پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے اور ماہرین اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔ بیشتر کے خیال میں فرانس اور اسپین سب سے مضبوط امیدوار ہیں، جبکہ ارجنٹینا، انگلینڈ، برازیل اور پرتگال بھی ان ٹیموں میں شامل ہیں جن کے چیمپین بننے پر کسی کو تعجب نہیں ہوگا۔
نیویارک ٹائمز نے ڈیٹا کی بنیاد پر ماڈل تیار کیا، جس کے مطابق گروپ مرحلے میں سب سے مضبوط ٹیمیں اسپین، فرانس، ارجنٹینا، بیلجیم، پرتگال، جرمنی، برازیل اور نیدرلینڈز کی ہیں۔ اسپین اپنے گروپ میں ٹاپ رہنے کی 81 فیصد صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ فرانس، ارجنٹینا اور بیلجیم کے لیے یہ شرح 70 فیصد کے قریب ہے۔
بی بی سی کے 17 ماہرین میں سے 9 نے فرانس کو چیمپین قرار دیا جبکہ 7 نے انگلینڈ کا انتخاب کیا اور ایک نے اسپین کو فاتح کہا۔ تقریباً سبھی ماہرین نے فرانس، اسپین اور انگلینڈ کو ٹاپ دعوے داروں میں شامل کیا۔
گارڈین کے ماہرین کی آرا بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ کئی لکھاریوں نے فرانس کو فاتح قرار دیا، جبکہ متعدد نے اسپین کو چیمپین یا فائنلسٹ منتخب کیا۔ کچھ تجزیہ کاروں نے فرانس اور ارجنٹینا کے درمیان 2022 کے فائنل کا دوبارہ امکان بھی ظاہر کیا۔
ای ایس پی این کے 19 ماہرین کی رائے شاید سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ ان میں سے 16 نے فرانس یا اسپین کو چیمپئن منتخب کیا۔ اسپین واحد ٹیم تھی جو ہر ماہر کی ٹاپ فور پیش گوئی میں شامل رہی، جبکہ فرانس کو بھی بھاری حمایت حاصل ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر سات ماہرین نے ارجنٹینا کو فائنل فور تک پہنچنے کا امیدوار قرار دیا، لیکن کسی نے بھی اسے مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن نہیں چنا۔
اگر مجموعی اتفاقِ رائے کو دیکھا جائے تو فرانس اور اسپین کے جیتنے کے امکانات سب سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ ارجنٹینا، انگلینڈ اور برازیل کا امکان بھی ہے، جبکہ پرتگال، جرمنی اور نیدرلینڈز دوسری صف کے دعوے دار ہیں۔ مراکش، جاپان اور کولمبیا کو ممکنہ "ڈارک ہارس" قرار دیا جارہا ہے جو کسی بڑے آپ سیٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔
جہاں تک کھلاڑیوں کا تعلق ہے، اس ورلڈ کپ میں متعدد ایسے نام ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ مسلسل خبروں اور تجزیوں کا مرکز رہیں گے۔ ان میں پہلے اسپین کے 18 سالہ لامین یامال ہیں۔ ای ایس پی این کے 19 میں سے 13 ماہرین نے انھیں بہترین نوجوان کھلاڑی کا انعام جیتنے کا امیدوار قرار دیا، جبکہ کئی نے ان کے ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی بننے تک کی پیش گوئی کی ہے۔
فرانس کے کیلیان ایمباپے دنیا کے خطرناک ترین فارورڈز میں شمار ہوتے ہیں اور متعدد ماہرین نے انھیں گولڈن بوٹ کا مضبوط امیدوار قرار دیا ہے۔ ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی اپنے چھٹے اور آخری ورلڈکپ میں شرکت کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی عمر اب 39 برس ہے، لیکن ماہرین اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ انگلینڈ کے ہیری کین بھی گولڈن بوٹ کے بڑے امیدواروں میں شامل ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کریں گے۔ پرتگال کے رونالڈو اور برازیل کے نیمار بھی توجہ کا مرکز رہیں گے۔
ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں اور ان کی موجودگی نے ناروے کو خطرناک ٹیم بنادیا ہے۔ برازیل کے وینیسیئس جونیئر کو اس نسل کے بہترین ونگرز میں شمار کیا جاتا ہے اور برازیل کی امیدیں بڑی حد تک ان سے وابستہ ہیں۔ پرتگال کے برونو فرنینڈس اور نونو مینڈس کو بھی اہم کرداروں میں دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے ڈیزائرے دوئے اور مائیکل اولیزے نوجوان ستاروں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کھلاڑی فرانس کو فیصلہ کن لمحات میں برتری دلا سکتے ہیں۔ جرمنی کے فلوریان ورٹز بھی ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع کی جارہی ہے۔ 2022 میں سیمی فائنل تک پہنچنے والی مراکش کی ٹیم کو اس بار بھی خطرناک سمجھا جارہا ہے اور اچراف حکیمی اس کے سب سے نمایاں کھلاڑی ہیں۔
ورلڈ کپ 2026 میں پہلی وسل سے پہلے اگرچہ فرانس اور اسپین سب سے مضبوط امیدوار نظر آتے ہیں، لیکن ٹورنامنٹ غیر معمولی حد تک اوپن ہے۔ میسی ایک اور تاریخی کارنامہ انجام دے سکتے ہیں، انگلینڈ کا طویل انتظار ختم ہوسکتا ہے، جبکہ برازیل یا پرتگال بھی کسی وقت منظر نامہ بدل سکتے ہیں۔ یہ ٹیمیں اور ان کے اسٹار کھلاڑیوں کی پرفارمنس فٹبال کے عالمی کپ کو دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ بناتی ہے۔

