Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Dr. Ijaz Ahmad

Mehangai Ka Tor

مہنگائی ایک ایسا سبجیکٹ ہے جس پر سبھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ اپوزیشن کے لئے یہ مضمون دل کو بہت بھاتا ہے۔ اور ہر حکومت اس مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں ناکام رہتی ہے۔ پاکستان بننے سے لے کر آج تک آپ غور کر لیں، موازنہ کر لیں ہر دور میں (کسی کے دور میں شرح زیادہ یا کم) بہر طور اس مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند نہیں کیا جا سکا۔ تو پھر ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم ہر بار ان کٹھ پتلی سیاست دانوں کے ہاتھوں کیوں استعمال ہو جاتے ہیں؟

کیوں ہم ہر بار ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتے ہیں؟ کہ شاید مہنگائی کم ہو جائے گی۔ یہ ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ خوش فہمی میں رہنے کے لئے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا سو اسی خوش فہمی کو انجوائے کریں۔ دیکھا جائے تو معاشرے میں جو سب سے زیادہ طبقہ اس مہنگائی سے متاثر ہوتا وہ تنخواہ دار اور سفید پوش مڈل کلاس ہے۔ یہ نہ تو کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتی ہے اور نہ ہی اپنی عزت نفس کو کھونا چاہتی ہے۔

اور جس طرح آبادی کا بہاؤ جاری و ساری ہے آنے والا وقت مزید الارمنگ ہے۔ کاروبار میں منافع زیادہ حاصل کرنے کا ایک سادہ اصول یہ بھی ہے کہ اپنے خرچے کو کم سے کم سطح پر لایا جائے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے ذاتی اخراجات پر کٹ لگانا ہو گا۔ خود کی قربانی دینی پڑے گی۔ دیکھا جائے تو سب سے زیادہ تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ یوٹیلٹی بل پر آتا ہے۔ ماہ گزرتے پتہ ہی نہیں چلتا اور بل ادا کرنے کی تاریخ سر پر پھن پھیلائے کھڑی ہوتی ہے۔ اور اس میں بجلی کا بل سب سے ٹاپ پر آتا ہے۔

حکومتوں کے اللے تللے اور غلط معاہدے، آئی ایم ایف کا دباؤ، کسی طور بھی ادھر سے ریلیف ملنے کا کوئی چانس نہیں۔ تو کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم متبادل توانائی کے ذرائع پر منتقل ہو جائیں؟ اس مہنگائی کے توڑ کے لئے پہلا قدم ہمارا یہ ہونا چاہئے ہم اپنی بجلی شمسی توانائی سے حاصل کریں۔ جو کہ قدرت نے ہمیں وافر مقدار میں مفت عطا کی ہوئی ہے۔ گو کہ یہ ایک مہنگا عمل ہے پر ایک بار کڑوا گھونٹ پی لیا جائے تو آنے والے وقت میں کافی آسانی رہے گی۔

حکومت کو بھی چاہیے بینک سیکٹر سے عوام کو سہولت پہنچائی جائے۔ اس پروجیکٹ میں وہی خون نچوڑنے والی کمپنیاں رکاوٹ کا باعث ہیں وہ نہیں چاہتی کہ ان کے مقابل کوئی آئے۔ گرمی کا دورانیہ زیادہ ہو گیا ہے تو پنکھے زیادہ چلتے ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں کے پنکھے مرحلہ وار تبدیل کر لینے چاہئے اب انورٹر ٹیکنالوجی کے حامل پنکھے دستیاب ہیں جو بجلی کی بچت میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پرانی طرز کی ٹیوب لائٹس اور بلب جو زیادہ واٹ کے حامل ہیں ان کو بھی ایل ای ڈی میں تبدیل کروا لیں اس سے بھی بل میں کمی آئے گی۔

دوسرا زیادہ خرچہ وہ فیول کی مد میں ہوتا ہے۔ اس کے لئے انفرادی اور قومی سطح پر بائی سائیکل کو ترجیح دینا ہو گی۔ ہمیں اپنی سڑکوں میں ایک لین سائیکل کے لئے مختص کرنی ہو گی۔ اور تمام بڑے شہروں میں سائیکل سروس شروع کرنا ہو گی اس سلسلے میں ہم دوسرے ممالک کے سسٹم کو سٹڈی کر سکتے ہیں اس سے فیول میں بچت ہو گی، صحت کے لئے ایک اچھی تھیراپی ہے۔ اس سب سے بڑھ کر یہ ماحول دوست بھی ہے اور غریب لوگوں کی روزی روٹی کے لئے وافر مواقع ہوں گے۔ ہمیں خود بھی پیدل چلنے کو ترجیح دینی چاہئے۔ جس سے ہم کافی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور اس خرچے سے بھی بچ سکتے ہیں جو دوائیوں کی صورت میں ادا کرنے ہوتے ہیں۔

اسی طرح ہم لوگ مرعوبیت کا شکار ہو کر میڈیا کے ہاتھوں مجبور ہو کر باہر کے فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس اور مستزاد یہ کہ اب یہ سب آن لائن ایک کلک کی دوری پر ہوتا، نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اپنا بہت سا سرمایہ اس خوراک پر ضائع کر دیتے ہیں اور بچوں کی صحت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہمیں بچوں کو پاکٹ منی دینےکی بجائے گھر سے کچھ تیار کر کے دے دینا چاہئے جو کہ حفظان صحت کے لئے بھی اچھا اور جیب پر بوجھ بھی کم پڑے گا۔

ہم جو پانی منرل واٹر سمجھ کے خرید لیتے یاد رکھے یہ سب منرل واٹر نہیں ہیں۔ گھر میں فلٹر لگوالیں یا ابال شدہ پانی استعمال کریں۔ ہر فرد کے پاس موبائل یہ بھی ایک اضافی خرچ ہے حتی الامکان اس خرچ سے بچنے کی بھی کوشش کریں، یاد رکھیں موبائل ہمارے لئے ہے ہم موبائل کے لئے نہیں ہیں۔ ہمیں سادگی کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اسراف سے گریز کرنا ہو گا۔ اپنی فیملی کو محدود رکھنا ہو گا۔ یہ آنے والی نسل پر احسان عظیم ہو گا۔

اپنے بچوں کو ہنرمندی کی تعلیم دلوائیں گورنمنٹ نوکری سب کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ سمال انڈسٹری کی طرف توجہ دیں۔ کوئی بھی چھوٹا موٹا کاروبار کچھ نہ کرنے سے بہتر ہوتا۔ بھیڑ چال سے اجتناب کرنا چاہئے۔ وہ ممالک جن کو افرادی قوت کی ضرورت ہے ہماری حکومت اور متعلقہ وزارت کو چاہئے کہ ترجیحی بنیادوں پر نوجوانوں کو روزگار کے لئے ان ممالک میں بھیجنے کا بندوبست کریں ہمارا ہمسایہ ملک اس سلسلے میں ہم سے بہت آگے ہے۔ ہمیں اس خلاء کو پر کرنا چاہئے۔

ہم چینی مہنگی کا رونا روتے ہیں دیکھا جائے تو چینی جسے عرف عام میں سفید زہر سے موسوم کیا جاتا ہے اور ذیابیطس کے مرض کی روح رواں بھی ہے موٹاپے کا باعث بھی بنتی ہے۔ اس کے استعمال کو کم سے کم سطح پر لے آئیں۔ ہمارا زیادہ زرمبادلہ چائے کی پتی خریدنے پر چلا جاتا ہے حکومت کو چاہئے کہ ملک کے اندر اس کی پیدوار کے لئے اقدامات کرے اور ہم کم استعمال کریں۔ تاکہ معاشی بوجھ کم ہو۔

مجھے علم ہے یہ سب پر گراں گزر رہا پر کیا کریں میں زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا ہوں، کہ دل کو سمجھانے کے لئے غالب یہ خیال اچھا ہے۔

Check Also

Farq

By Hania Irmiya