Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Dr. Ijaz Ahmad/
  4. Aadat e Bad

Aadat e Bad

بری عادات تو بہت سی شمار کی جاتی ہیں۔ ان میں سے نشہ کی لت کو فوقیت حاصل ہے۔ وہ نشہ چاہے اقتدار کا ہو، دولت کا ہو، یا پھر کسی ڈرگ کا ہو۔ انسان کے حواس خمسہ پر اس طرح حاوی ہوتا ہے، کہ انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔ ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اور ان میں ذہانت اور قابلیت بھی مسلمہ ہے۔ لیکن ہم سب کے لئے جو لمحہ فکریہ ہے۔ وہ نوجوان نسل کا نشہ کی طرف راغب ہونا الارمنگ ہے۔

ایلیٹ کلاس کی نوجوان نسل بطور فیشن اس کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ مڈل اور لوئر کلاس کی نسل غربت اورنا انصافی پر مبنی نظام کے ہاتھوں مایوسی کا شکار ہو کر وقتی طور پر غم غلط دور کرنے کے چکر میں اپنی جمع پونجی اور صحت برباد کر لیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو افغان وار سے پہلے ام الا خبائث، افیون، یا بھنگ، لوگ اسی پر اکتفا کر لیتے تھے۔ شراب اور افیون کے ٹھیکے ہوتے تھے۔

گنتی کےچند لوگ ہی ان بری علتوں کے شکار تھے۔ معاشرہ میں ان کو ان عادات کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ بھٹو حکومت کے دور میں ایک تحریک کے رد عمل کے نتیجے میں ان اشیاء پر روکاوٹ لگا دی گئی۔ جو کہ آج بھی جوں کی توں ہیں۔ قانون بنایا ہی اسی لئے جاتا ہے کہ اس پر عمل درآمد ہوتا کہ معاشرہ بہتر طریقے سے نشونما پا سکے۔ پر ہمارے ہاں اس کے بر عکس ہوا افیون کی جگہ زیادہ خطرناک ہیروئین معرض وجود میں آگئی۔

ام الاخبائث میں ملاوٹ اور قیمت میں اضافہ دیکھنےکو آیا۔ ایلیٹ کلاس تو خیر آج بھی اس سے مستفید ہوتی رہتی ہے۔ اگر سائنس کی رو سے دیکھےاور قانون قدرت بھی یہی ہے کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا جتنی قدغنیں لگائی گئیں یہ اس سے زیادہ شدت سے ہمارے معاشرے میں سرائیت کر گئی۔ افغان جنگ کے اور دوسرے نقصانات سے ہٹ کر صرف ایک نقصان جو سب سے بڑھ کر ہوا وہ منشیات کی بڑھوتری تھی۔

جس نے نوجوان نسل کےساتھ ساتھ ہماری معشیت کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا۔ اب تو نا جانے کون کون سے جدید منشیات آگئی ہیں۔ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ کہ ہمارے اسکول، کالجز، یونیورسٹیز نشہ بیچنے والوں کے لئے ایک آسان ٹارگٹ ہیں۔ بچوں کے ساتھ ساتھ نا سمجھی میں بچیاں بھی اس مکروہ لت کاشکار ہو رہی ہیں۔ یہ ظالم لوگ کسی ایک طالب علم یا طالبہ کو اپنا ٹارگٹ بناتے اپنے دوام میں پھنساتے ہیں۔

جب وہ پوری طرح ان کے رحم و کرم پر ہوتا تب اس کو گاہک بنا کر یا ڈھونڈ کر لانے کاٹاسک دیا جاتا۔ اور اس طرح یہ شیطان کی آنت کی طرح سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جب کسی گھر کو ایک فرد اس نشہ کی لت میں مبتلا ہوتا ہے۔ تو وہ اپنے ساتھ پورے خاندان کو امتحان میں ڈال دیتا ہے۔ اس گھر میں لوگ رشتہ داری کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ کئی گھر ایسے دیکھے جن کی بہنوں کی شادی اس وجہ سے نہیں ہو سکی کہ ان کا بھائی نشئی تھا۔

اس عادت بد کے آگے بند باندھنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ والدین اور پورے معاشرے کو اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔ بچوں کو خود اعتمادی دیں۔ شفقت دیں۔ عموما منشیات کی طرف وہی بچے راغب ہوتے جن کو گھر سے پیار نہیں ملتا، پھر وہ خود کو اس دنیا کا باسی بنا لیتے یہاں سے واپسی تقریبا نا ممکن ہوتی۔ ماحول بہت اہم رول پلے کرتا ہے۔

محلے کی سطح پر ایسی کمیٹیاں ہونی چاہئے۔ جو نشہ بیچنے والوں پر نظر رکھیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ نفرت مجرم سے نہیں جرم سے کرنی چاہئے۔ نشے کا مارا ہوا انسان تو پہلے ہی مر چکا ہوتا ہے۔ اس پراپنا غصہ مت نکالے۔ حکومت کو چاہئے حکومتی سطح پر جو لنگر کھانے کھولے گئے تھے شید ہے کہ بند کر دئیے گئے ہیں۔ ان کو دوبارہ سے نشہ کی عادی افراد کے لئے کھول دیا جائے۔ وہاں انکا نفسیاتی اور جسمانی علاج کیا جائے۔

تا کہ وہ کار آمد شہری بن سکے۔ ہو سکے تو ان کو کوئی کل سکھا دی جائے اور ان کو صحت یاب ہونے کےبعد روزگار کے سلسلہ میں کسی بیرون ملک بھیج دیا جائے تا کہ وہ دوبارہ سے اس ماحول میں جا کر پھر سے نشہ نہ شروع کر دیں۔ ایسا عموما دیکھا گیا کہ ایک بار نشے کی عادت چھڑائی گئی۔ جونہی وہ اس ماحول میں گیا پھر سےشروع ہو گیا۔ سو اس کو اس ماحول سے دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ نشے کے حوالے سے علامہ اقبال رح کا شعر یاد آرہا ہے۔

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ عوام کو نشہ کے مضر اثرات سے آگہی دے۔ اساتذہ کو بالخصوص اپنے طالب علموں پر نظر رکھنی چاہئے۔ یہ لوگ ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کو اس موذی عادت بد کے ہاتھوں تباہ و برباد نہیں ہونے دینا چاہئے۔

Check Also

Syedna Hussain Kirdar O Fazail

By Noor Hussain Afzal