اقوامِ متحدہ کا کشکول خالی ہے

اس دنیا کی سفاکیوں اور خود غرضیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اقوامِ متحدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ دنیا نے دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ڈر کر اکیاسی برس پہلے بڑے ارمانوں سے جو ادارہ بنایا اسے رفتہ رفتہ اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اب یہ نوبت ہے کہ سب سے بڑی عالمی تنظیم شاہراہِ عالم پر کشکول لیے کھڑی ہے۔ کوئی اس کشکول میں چند سکے ڈال دیتا ہے اور بہت سے منہ پھیر کے گزر جاتے ہیں اور کچھ تو حقارت سے تھوکتے ہوئے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ایک ہڈ حرام سفید ہاتھی ہے۔ یہ ادارہ دنیا سے جنگیں، بے گھری، ماحولیاتی ابتری اور بھوک مٹانے کی بنیادی ذمے داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہے۔ اسے ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔ ہم کہاں تک اس بڑھیا کو گود میں اٹھائے اٹھائے گھومتے پھریں۔
مگر اس منافقانہ پروپیگنڈے کا پول دو برس پہلے ہی کھل گیا تھا جب اقوامِ متحدہ نے سال دو ہزار پچیس کے لیے اپنے ارکان سے چورانوے ارب ڈالر کی اصل ضرورت کو کم کرکے صرف سینتالیس ارب ڈالر انسانی امداد کی مد میں طلب کیے۔ پھر بھی بارہ ارب ڈالر ہی میسر آ سکے۔ یہ رقم ایک چوتھائی عالمی انسانی ضروریات کے لیے بھی ناکافی تھی۔
اس بے حسی کو دیکھتے ہوئے رواں برس کے لیے اقوامِ متحدہ نے صرف تئیس ارب ڈالر چندے کی درخواست کی ہے تاکہ دنیا کے سب سے زیادہ ابتر خطوں کے لوگ کم ازکم جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ باقی مصیبت زدگان اوپر والے کے حوالے۔
اقوامِ متحدہ کو بیشتر امداد یورپ اور امریکا سے ملتی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں ان مغربی مخیر ممالک نے مختلف حیلوں بہانوں سے خاصی حد تک ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے سربراہ ٹام فلیچر کے بقول " ہمیں پیسہ نہیں مل رہا اور ہمارے بازوعالمی انسانی ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے شل ہو چکے ہیں۔ ہمارے امدادی اہلکار دنیا بھر میں مسلح حملے بڑھنے کے سبب خود کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ پھر بھی ہم انسانیت کو آگ سے نکالنے کے لیے ایمبولینس سروس چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ آگ بجھانا بھی ہماری ہی ذمے داری ہے۔ مگر ہم کریں تو کیا کریں؟ آگ بجھانے کے لیے ہمیں مطلوبہ پانی بھی نہیں مل رہا اور گولیاں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہیں "۔
ٹام فلیچر کے مطابق اس وقت دنیا میں ستاسی ملین وہ لوگ ہیں جن کی زندگی براہِ راست خطرے میں ہے۔ حالانکہ ہم چاہتے ہیں کہ موت و زندگی کے درمیان معلق ایک سو پینتیس ملین دیگر لوگوں کی مدد بھی کر سکیں مگر اس کے لیے درکار تینتیس ارب ڈالر کون دے گا۔
اس لمحے اگر اقوامِ متحدہ تمام انسانی سرگرمیاں ترک بھی کر دے تب بھی غزہ اور مغربی کنارے کے تیس لاکھ لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اسے دو ہزار چھبیس میں کم ازکم چار ارب ڈالر درکار ہیں۔
دوسرے نمبر پر سوڈان کی خانہ جنگی کے ڈسے لگ بھگ دو کروڑ دربدر لوگ ہیں۔ ان کے فوری بچاؤ کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔ تیسرے نمبر پر شام کے اندر اور باہر موجود چھیاسی لاکھ پناہ گزینوں کے لیے دو اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر چاہئیں۔
عالمی برادری کی امدادی بے حسی کے سبب اقوامِ متحدہ فی الحال باقی دو سو چالیس ملین لوگوں کے لیے ہنگامی امداد مانگنے سے ڈر رہی ہے جنھیں موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور وباؤں نے کہیں کا نہ رکھا۔ ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ اب تو نوبت یہ آ گئی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے رکن امیر ممالک کا رویہ دیکھ کر ہم سول سوسائٹی، کارپوریٹ دنیا اور عام مخیر حضرات کے آگے بھی کشکول پھیلانے کا سوچ رہے ہیں۔ ایسا پچھلے اسی برس میں کبھی نہیں ہوا۔
اقوامِ متحدہ کی عالمی امن اور فلاح کی سرگرمیاں ارکان کے چندے کی مرہونِ منت ہیں۔ ہر رکن ملک پر ایک خاص شرح سے چندہ دینا لازم ہے۔ اس کا تعین رکن ملک کی قومی آمدنی، آبادی، قرضوں کے بوجھ، معیارِ زندگی وغیرہ کو مدِ نظر رکھ کے ایک فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے۔ ایک درجن سے زائد امیر ممالک کی امداد ادارے کے کاموں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔
تاہم اس وقت اقوامِ متحدہ کو واجب الادا چندے کی مد میں لگ بھگ تین ارب ڈالر کا خسارہ درپیش ہے۔ امریکا کے ذمے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بقایا جات ہیں۔ نادہندگان کی فہرست میں چین، سعودی عرب، روس، میکسیکو اور وینزویلا بھی شامل ہیں۔
امریکا گزشتہ برس تک اقوامِ متحدہ کے کل بجٹ کا اکتیس فیصد بھرتا آیا ہے۔ اس کے بعد جرمنی اقوامِ متحدہ کے بجٹ میں دس فیصد، برطانیہ سات فیصد اور چین پانچ فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ دیگر ارکان بشمول یورپی یونین و جاپان تنظیم کے بجٹ کا بقیہ سینتالیس فیصد پورا کرتے ہیں۔ مگر اب ان کلیدی چندہ دھندگان نے بھی ٹال مٹول شروع کر دی ہے۔
چنانچہ اقوامِ متحدہ اپنی بڑھتی ہوئی عالمی ذمے داریوں مگر کمزور مالی حالات کے سبب بری طرح ہانپ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیموں مثلاً عالمی ادارہِ خوراک (ایف ڈبلیو او)، عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ادارہ برائے پناہ گزیناں (یو این ایچ سی آر)، ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، ادارہ برائے تعلیم و ثقافت (یونیسکو)، انسانی حقوق کونسل، عالمی عدالتِ انصاف و جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت اور امن فوج کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر اور اچانک پالیسیوں کے سبب اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی امداد اکتیس فیصد سے گھٹ کر دو ہزار چھبیس کے لیے پندرہ اعشاریہ چھ فیصد تک آ گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعلی اہلکار ٹم فلیچر مزید کہتے ہیں کہ ایک جانب تو ادارے کی مالی حالت گھمبیر ہے اور دوسری جانب مغربی ممالک میں دائیں بازو کی قوتیں عام آدمی کو یہ تاثر دینے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں کہ تمہارے ٹیکسوں کو امداد کے نام پر لٹایا اور ضایع کیا جا رہا ہے۔ ٹم فلیچر نے طنز کیا کہ جو دنیا اسلحے کی خریداری پر سالانہ دو اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر خرچ کر رہی ہے وہی دنیا اس خرچے کا محض ایک فیصد بھی اقوامِ متحدہ کو فراہم نہیں کر پا رہی۔

