سکرولنگ کا نشہ اور مفلوج ہوتا انسانی دماغ

چند دہائی قبل اگر کوئی کہتا کہ انسانی یادداشت کو کسی بیرونی آلے کے بغیر ہی "ہیک" کیا جا سکے گا تو شاید اسے دیوانے کا خواب سمجھا جاتا لیکن آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہماری جیب میں موجود سمارٹ فون خاموش قاتل کی طرح ہماری سوچنے، سمجھنے اور معلومات کو یکجا کرنے کی صلاحیت کو چاٹ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سائنسی جریدے سائی پوسٹ (PsyPost)، میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے کئی سوال کھڑے کر دئیے ہیں۔
یہ تحقیق اس ذہنی زوال کا نوحہ ہے جس کی طرف ہماری نوجوان نسل تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جسے ہم انٹرٹینمنٹ، سمجھ کر سکرول کر رہے ہیں وہ دراصل ہمارے اعصابی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ نفسیات اور نیورو سائنس کی زبان میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے "کوجنیٹیو فریگمنٹیشن (Cognitive Fragmentation)" کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں اسے "ذہنی انتشار" کہہ سکتے ہیں۔ جب ہم ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز یا یوٹیوب شارٹس پر پندرہ پندرہ سیکنڈ کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو ہمارا دماغ ایک ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے جہاں اسے ہر چند لمحوں بعد بالکل نیا موضوع، نیا رنگ اور نیا جذبہ ملتا ہے۔
ابھی ایک ویڈیو میں کوئی حادثہ دیکھ کر دماغ افسردہ ہونے کی کوشش کرتا ہے کہ اگلی ہی سیکنڈ میں کوئی مزاحیہ کلپ سامنے آ جاتا ہے۔ جذبات کا یہ تلاطم دماغ کو اس بات کی مہلت ہی نہیں دیتا کہ وہ معلومات کو پراسیس کر سکے۔ اس عمل کو ماہرین "ایونٹ سیگمنٹیشن" کی ناکامی قرار دیتے ہیں یعنی جب دماغ واقعات کے درمیان کڑیاں جوڑنے میں ناکام ہو جائے تو وہ انہیں یادداشت کے طویل مدتی خانے میں محفوظ نہیں کر پاتا۔
سائی پوسٹ کی اس رپورٹ میں 57 طلبہ پر کیے جانے والے تجربے نے خوفناک صورت حال سامنے رکھ دی ہے۔ تحقیق کے مطابق وہ طلبہ جنہوں نے 10 منٹ کی ایک تسلسل والی ویڈیو دیکھی ان کے دماغ نے معلومات کو ایک کہانی کی شکل میں محفوظ کر لیا لیکن اس کے برعکس جنہیں وہی معلومات چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں دی گئیں ان کا دماغ "انفارمیشن اوور لوڈ" کا شکار ہوگیا۔ اس تجربے کے دوران کیے گئے ایم آر آئی نے ثابت کیا کہ مختصر ویڈیوز دیکھنے والوں کے دماغ کے وہ حصے بالکل خاموش یا انتہائی کم فعال تھے جو توجہ اور یادداشت کے ذمہ دار ہیں۔
یہ انتہائی خوفناک صورتحال ہے کیونکہ یہ حصے صرف یادداشت ہی نہیں بلکہ ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے بھی ضامن ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شارٹس اور ریلیز ہماری تخلیقی صلاحیت ختم کر رہی ہے۔ یہاں ایک اور اہم اصطلاح بھی سامنے آتی ہے جسے "ڈوپامائن لوپ" کہا جاتا ہے۔ ہر نئی مختصر ویڈیو ہمارے دماغ میں خوشی کا ایک ہارمون "ڈوپامائن" خارج کرتی ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی نشہ ہے جیسا کہ منشیات یا جوئے کا ہوتا ہے۔
انسان مسلسل سکرول کرتا جاتا ہے تاکہ اسے وہ اگلی "لذت" مل سکے لیکن اس دوران اس کا خود پر قابو پانے اور فیصلے کرنے کا مرکز یعنی "پری فرنٹل کورٹیکس" کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شارٹ ویڈیوز کے عادی افراد میں نہ صرف یادداشت کی کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ ان میں غصہ، بے صبری اور عدم توجہ بھی بڑھ رہی ہیں۔ وہ لوگ جو گھنٹوں ان ویڈیوز میں گم رہتے ہیں وہ "دماغی تھکن" کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے بعد روزمرہ کے سادہ کاموں میں بھی غلطیاں کرنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اسے عام سی بات سمجھا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کو خاموش کرانے کے لیے فون ان کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور انہیں علم ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے "آئی کیو" کا قتل کر رہے ہیں۔
جب دماغ کو مسلسل ٹکڑوں میں معلومات لینے کی عادت پڑ جاتی ہے تو وہ گہری سوچ کے قابل نہیں رہتا۔ کتاب پڑھنا یا کسی طویل لیکچر کو سننا ایسے بچوں اور نوجوانوں کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ ان کی یادداشت "شارٹ ٹرم" تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ کسی بھی چیز کی گہرائی تک پہنچنے کے بجائے سطح پر رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یہ قومی سطح کا سنگین معاملہ ہے جس کے لیے آگاہی مہم بہت ضروری ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال بُرا نہیں لیکن اس کا طریقہ کار تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ہمیں "ڈیجیٹل ڈی ٹوکس" کی طرف جانا چاہیے یعنی دن کا کچھ حصہ انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کے بغیر گزارنا اور خاص طور پر طویل دورانیے کے مواد جیسے دستاویزی فلمیں، کتابیں یا طویل مضامین پڑھنے کی عادت ڈالنا ہوگی۔
یہ عمل ہمارے دماغ کے ان حصوں کو دوبارہ متحرک کرتا ہے جو مختصر ویڈیوز کی وجہ سے سست پڑ چکے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ انسانی دماغ کو جتنا چیلنج دیا جائے گا یہ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اگر ہم اسے پندرہ سیکنڈ کے لقموں پر پالیں گے تو یہ اپاہج ہو جائے گا۔ ہمیں اپنی اور اپنی اگلی نسل کی یادداشت اور ذہنی صحت کو بچانے کے لیے "سکرولنگ کے جال" سے نکلنا ہوگا ورنہ مستقبل میں ہمارے پاس ایسی نسل ہوگی جس کے پاس معلومات کا انبار تو ہوگا لیکن ان معلومات کو سمجھنے اور یاد رکھنے والا ذہن ختم ہو چکا ہوگا۔ اس وقت ضروری ہے کہ ہم سکرین سے نظریں ہٹا کر زندگی کے تسلسل کو سمجھیں کیونکہ زندگی مختصر ویڈیو نہیں بلکہ ایک طویل اور مربوط کہانی ہے۔

