Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Syed Badar Saeed
  3. IG Jail Ka Intikhab, Mayar Kya Hoga?

IG Jail Ka Intikhab, Mayar Kya Hoga?

آئی جی جیل کا انتخاب، معیار کیا ہوگا؟

پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات میں اہم انتظامی تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کا باقاعدہ آغاز موجودہ آئی جی میاں فاروق نذیر کی ریٹائرمنٹ کے نوٹیفکیشن سے ہوا۔ کسی بھی اہم سرکاری ادارے میں سربراہ کی تبدیلی محض معمول کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اس ادارے کی مستقبل کی سمت اور کارکردگی کا تعین کرتی ہے۔ میاں فاروق نذیر کے رخصت ہونے کے بعد اب سب کی نظریں اس سوال پر جمی ہیں کہ جیلوں کے نظم و ضبط اور قیدیوں کی بحالی کی ذمہ داری کس کے کندھوں پر ڈالی جائے گی۔

یہ بحث صرف سرکاری ملازمین تک محدود نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس حوالے سے واضح لہر دکھائی دے رہی ہے جہاں لوگ کسی ایسے مسیحا کے منتظر ہیں جو فرسودہ نظام میں نئی روح پھونک سکے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نئے آئی جی کی تعیناتی کے لیے جہاں مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے وہیں سوشل میڈیا پر ہونے والے سروے اور جیل ملازمین کی رائے نے ایک حیران کن نام سامنے لا کھڑا کیا ہے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اوپن فورم سروے میں جس شخص کا نام لیا گیا وہ اس سے پہلے آئی جی جیل تعینات رہے ہیں لیکن اس عہدے پر ان کی مدت انتہائی مختصر تھی۔ ان کا نام ملک مبشر احمد ہے۔ ملک مبشر احمد کی شخصیت اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا سب سے منفرد پہلو ان کا وہ مختصر ترین دورِ اقتدار ہے جب وہ اس سے قبل آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے پر فائز رہے تھے۔

ریکارڈ بتاتا ہے کہ انہیں اپنی اصلاحات نافذ کرنے کے لیے صرف چار ماہ کا وقت ملا جو کہ کسی بھی بڑے ادارے میں تبدیلی لانے کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر انہوں نے اسی مختصر عرصے میں وہ کر دکھایا جو کئی دہائیوں سے تعینات رہنے والے افسران نہ کر سکے۔ انہوں نے نہ صرف جیل کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر کیا بلکہ قیدیوں کی فلاح و بہبود اور ان کی انسانی تذلیل کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ان کے مقابلے میں ایسے آفیسر بھی اس دوڑ میں شامل ہیں جنہیں زیادہ مدت کے لیے کمانڈنگ پوسٹ مل چکی ہے۔

ملک مبشر احمد کا نام اچانک سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو میں نے ان کی پر ریسرچ کی۔ مختلف فورمز پر ان کے خیالات جاننے کا موقع ملا تو مزید حیرت ہوئی۔ ملک مبشر احمد جیلوں کو محض مجرموں کو بند رکھنے کی جگہ نہیں بلکہ 'اصلاحی مراکز' کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ جیلوں کو اکثر و بیشتر جرائم کے ٹریننگ سینٹر سمجھا جاتا ہے جہاں ایک معمولی جرم میں آنے والا شخص سنگین جرائم پیشہ افراد کی صحبت میں رہ کر مزید بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس ملک مبشر احمد کا فلسفہ یہ ہے کہ جیل کا مقصد ملزم کو معاشرے کے لیے ناسور بنانا نہیں بلکہ اسے ایک مفید شہری کے طور پر دوبارہ تیار کرنا ہوتا ہے۔ ان کی سابقہ اصلاحات میں قیدیوں کی اخلاقی تربیت، پیشہ ورانہ مہارتوں کی فراہمی اور ان کی ذہنی حالت کو مثبت رکھنے پر خصوصی توجہ شامل تھی جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔

موجودہ ملکی حالات اور جیلوں کی سنگین صورت حال کا تقاضا ہے کہ کسی ایسے افسر کو کمان سونپی جائے جو نظام کی خرابیوں سے نہ صرف واقف ہو بلکہ ان کا حل نکالنے کی جرات بھی رکھتا ہو۔ ملک مبشر احمد نے ماضی میں ثابت کیا تھا کہ اگر انہیں مستقل بنیادوں پر کام کرنے کا موقع ملتا تو شاید آج پنجاب کی جیلوں کا منظر نامہ بالکل مختلف ہوتا۔ ان کی دوبارہ تعیناتی کی صورت میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کے حقوق کی پاسداری، ان کی اخلاقی تربیت اور جیل ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ایک نیا باب کھلے گا۔

اگر اس بار بھی انہیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تو انہیں چاہیے جہاں قیدیوں کو دستکاری، قالین بانی اور ایسے ہنر سکھائے جاتے ہیں وہیں انہیں جدید ٹیکنالوجی، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ، سی کامرس اور اے آئی جیسی جدید سکلز بھی سکھائیں تاکہ وہ قیدی رہائی کے بعد مفید شہری ثابت ہوں۔ کسی بھی ریاست کا نظامِ عدل اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب سزا کا مقصد انتقام کے بجائے اصلاح ہو۔ ان کی ممکنہ تعیناتی نہ صرف محکمہ جیل خانہ جات کے لیے ایک خوش آئند پیغام ہوگی بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہوگا کہ حکومت عوامی خواہشات اور میرٹ کو ترجیح دیتے ہوئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کر رہی ہے جس کے پاس کام کر دکھانے کا جذبہ اور ماضی کا شاندار ریکارڈ موجود ہے۔

Check Also

Bhool Bhulaiyaa Rastay

By Ashfaq Inayat Kahlon