Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Syed Badar Saeed
  3. Hum Mobile Addict Nahi Majboor Hain

Hum Mobile Addict Nahi Majboor Hain

ہم موبائل ایڈیکٹ نہیں مجبور ہیں

برسوں بعد یہ منظر دیکھنے کو ملا۔ لاہوریوں نے بسنت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے منائی۔ اس بار پتنگ بازی رات بارہ بجے شروع ہونی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر گیارہ بجے تک لاہور کی فضا خاموش تھی۔ لوگ انتظار کر رہے تھے مگر جلد بازی یا قانون شکنی نظر نہیں آئی۔ یہ وہی شہر ہے جہاں ماضی میں بسنت کی راتوں میں ہوائی فائرنگ، خطرناک ڈوریں اور حادثات معمول بن جاتے تھے۔ اس بار حکومت نے ریاستی رٹ قائم کی تو دوسری جانب عوام نے بھی غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں بعد ریاست اور شہری ایک ہی صفحے پر کھڑے ہوں۔

حکومت نے بسنت کو تین دنوں تک محدود رکھا، خطرناک کیمیکل ڈور، دھاتی تار اور پلاسٹک چڑھی ڈور پر مکمل پابندی لگائی، موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ لازمی قرار دیے اور ان عمارتوں و ہوٹلوں پر آگہی نوٹس لگائے جن کی چھتوں پر حفاظتی باڑ یا جنگلہ موجود نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بے ہنگم پن جو بسنت کے نام سے جڑا ہوا تھا اس بار بڑی حد تک قابو میں رہا۔ حادثات ہوئے مگر زیادہ تر شخصی غفلت یا لاپرواہی کا نتیجہ تھے نہ کہ منظم قانون شکنی کی وجہ سے ہوئے۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر تہوار کو نظم و ضبط کے ساتھ منظم کیا جائے تو روایت اور حفاظت ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔

اس بسنت کا سب سے روشن پہلو معیشت پر اس کے اثرات ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق لاہور میں ان تین دنوں کے دوران 4 سے 6 ارب روپے تک کا کاروبار ہوا۔ صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت نے دو ارب روپے سے زائد کا حجم پیدا کیا۔ اگر اس کے ساتھ کھانے پینے کے اسٹال، باربی کیو، مٹھائیاں، کولڈ ڈرنکس، کیٹرنگ، لائٹس، الیکٹریشن، چھتوں کے کرائے، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کو شامل کیا جائے تو بعض کاروباری حلقے اس مجموعی

سرگرمی کو 15 سے 20 ارب روپے تک قرار دیتے ہیں۔ یہ رقم کسی ایک کارپوریٹ ادارے کے پاس نہیں گئی بلکہ گلی محلوں کے عام شہریوں کی جیب میں پہنچی۔

بسنت کی تیاریوں میں گوشت عام قصاب بیچ رہا تھا، باربی کیو کا سامان چھوٹا دکاندار فراہم کر رہا تھا، رنگ برنگی لائٹس الیکٹریشن لگا رہے تھے، اندرون لاہور کی چھتیں عام لوگ کرایے پر دے رہے تھے، موٹر سائیکلوں کے آگے لگنے والے راڈ مقامی مکینک فٹ کر رہے تھے۔ حتی کہ حکومت کی جانب سے مفت تقسیم کیے گئے حفاظتی راڈ بھی لگوانے کے لیے پچاس سے سو روپے تک وہی محلے کا مکینک لے رہا تھا۔ امیر لوگ خرچ کر رہے تھے اور وہ خرچ سیدھا عام آدمی کی جیب میں جا رہا تھا۔ یوں وہ روپیہ جو تجوریوں میں بند رہتا تھا اب مارکیٹ میں آیا اور روزگار کا پہیہ تیزی سے گھوما۔

بسنت نے یہ بھی ثابت کیا کہ ثقافتی سرگرمیاں صرف تفریح نہیں ہوتیں بلکہ یہ معاشی سرگرمی کا بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ تین دنوں میں سیکڑوں عارضی روزگار پیدا ہوئے۔ ریڑھی والے، خوانچہ فروش، آئس کریم والے، سائونڈ سسٹم فراہم کرنے والے، فوٹوگرافر، ٹرانسپورٹر سمیت سب کی چاندی رہی۔ یہ وہ طبقہ ہے جو عام دنوں میں محدود آمدن پر گزارا کرتا ہے مگر ایسے تہوار اسے سانس لینے کا موقع دیتے ہیں۔

سماجی پہلو سے دیکھا جائے تو اس بسنت کے دوران ایک اور بڑی تبدیلی نظر آئی۔ ان تین دنوں میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال نمایاں حد تک کم دکھائی دیا۔ لوگ تصاویر تو بنا رہے تھے مگر اسکرینوں میں گم نہیں تھے۔ چھتوں پر بیٹھ کر گفتگو ہو رہی تھی، قہقہے لگ رہے تھے، خاندان اور دوست اکٹھے تھے۔ وہ رجحان کم نظر آیا جس میں لوگ ساتھ بیٹھ کر بھی موبائل اسکرینوں میں مصروف رہتے ہیں۔ گویا بسنت نے لوگوں کو یاد دلایا کہ حقیقی تفریح سکرینوں کے اندر نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان ہوتی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ موبائل ایڈکشن کی ایک بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں تفریحی مواقع کا کم ہونا بھی ہے۔ ہمارے کھیل کے میدان کم ہو رہے ہیں، روایتی کھیل مٹ رہے ہیں، میلے ٹھیلے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ جب معاشرے سے اجتماعی تفریح ختم ہوتی ہے تو انسان کی آخری پناہ گاہ موبائل اسکرین بن جاتی ہے۔ اگر حکومت اسی طرح روایتی کھیلوں، میلوں، ثقافتی ایونٹس اور عوامی اجتماعات کو فروغ دے تو لوگ کا ایک دوسرے کو نظر انداز کرکے موبائل میں گم رہنے کی شکایت بڑی حد تک کم ہو سکتی ہے۔

حفاظتی پہلو سے اگرچہ اس بسنت کو نسبتاً محفوظ کہا جا سکتا ہے مگر بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ برس بسنت سے پہلے باقاعدہ آگہی مہم چلائی جائے، اسکولوں اور محلوں کی سطح پر تربیتی سیشن ہوں، سروے کرکے معلوم کیا جائے کہ حادثات کن وجوہات سے ہوئے اور ان وجوہات کو دور کیا جائے۔ اگر عوامی شعور اور حکومتی نظم ایک ساتھ چلتے رہے تو بسنت نہ صرف محفوظ بلکہ ایک مثالی ثقافتی ماڈل بن سکتی ہے۔ ایسے تہوار روپیہ کے نچلی سطح تک گردش کا باعث بن کر غربت میں کمی کر سکتے ہیں۔

اس بسنت سے واضح ہوا کہ روایت کو ختم کرنا حل نہیں بلکہ اسے منظم کرنا ہی اصل کام ہے۔ یہ تہوار اگر بے لگام ہو تو خطرناک ہے مگر قانون اور نظم کے ساتھ ہو تو معیشت، ثقافت، سماجی تعلقات اور شہری خوشی کو ایک ساتھ زندہ کر دیتا ہے۔ لاہور کے آسمان پر اڑتی پتنگیں صرف رنگ نہیں بکھیر رہی تھیں بلکہ وہ یہ بھی بتا رہی تھیں کہ جب ریاست اور شہری ایک سمت چلیں تو تہوار بھی محفوظ ہو سکتے ہیں اور بازار بھی آباد ہوتے ہیں۔ ایک عرصہ بعد لاہور میں لوگوں کو موبائل کی سکرین کی بجائے اپنوں میں دلچسپی لیتے دیکھنا خوشگوار تجربہ تھا۔ دولت کا ایلیٹ کلاس کی تجوری سے نکل کر گلی محلے کے عام شہری کے روزگار تک پہنچنا بھی معاشرے کی بڑی کامیابی ہے۔ بلاشبہ پنجاب حکومت نے انتہائی مشکل فیصلہ کیا تھا۔ اس کے نتائج برے نکلتے تو یہ بوجھ بھی حکومت کو اٹھانا تھا اب حکومت کامیاب رہی تو اس کا کریڈیٹ بھی حکومت کو ہی جاتا ہے۔

Check Also

School

By Rao Manzar Hayat