بانی کی ڈیل ہو رہی ہے؟

لاہور میں سینئر صحافیوں کی اعلیٰ سیکورٹی ذرائع سے ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ڈیل یا رہائی کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر چورن بکنا شروع ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی کا وہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ جو ایک برس تک مسلسل عمران خا ن آ رہا ہے اور خم ٹھونک کے آ رہا ہے کے ٹوئیٹس کرتا رہا اس نے دوبارہ اپنی پسندیدہ ٹوئیٹ کاپی پیسٹ کرنا شروع کر دی ہے۔
دلچسپ تو یہ ہے کہ ایک صحافی جو کہہ رہے تھے کہ ایسی ملاقاتوں میں ڈر، ڈر کے سوالات ہوتے ہیں اور وہ سب سے بڑا اور تاریخی سوا ل کریں گے، ان کا سوال تھا کہ اگر حکومت عمران خان کو صحت کی بنیاد پر جیل، بنی گالہ یا ہسپتال منتقل کرتی ہے تو آپ اس کی مخالفت تو نہیں کریں گے تو اس کا جواب تھا کہ ان کا کام سیاسی اور عدالتی فیصلوں پر بات کرنا نہیں ہے، ان سے انٹرنل سیکورٹی اور ملک کے دفاع پر بات کی جائے۔
معاملہ بہرحال دلچسپ ہے کیونکہ ماضی کی طرح نو مئی کے حوالے سے بھی سخت بیان نہیں آیا او رکہا گیا کہ یہ مقدمات عدالتوں میں ہیں اور وہ ان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ جب اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار سے یہ سوال ہوا کہ ماضی میں عمران خان کو ذہنی مریض تک کہا گیا تو جواب تھا کہ پاکستان کی فوج تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیات کا احترام کرتی ہے، سب سے پہلے پاکستان ہے اور مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی خود کو پاکستان سے بھی پہلے اور اہم سمجھتا ہے۔
میرے خیال میں پی ٹی آئی جس طرح قانونی اور سیاسی میدان میں لاچاری اور ناامیدی کی مثال بنی ہوئی ہے توان کے لئے امید کی یہی کرن کافی ہے کہ اب ان پر اس طرح تنقید نہیں ہو رہی۔ یوں بھی اس کے ساتھ ساتھ جو معاملات چل رہے ہیں ان کے مطابق عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی مبینہ طور پر پندرہ فیصد رہ گئی ہے اور ایک دوسری اطلاع کے مطابق اس پر علیمہ خان صاحبہ کے آنسو بھی بہہ نکلے ہیں گویا پی ٹی آئی کا وہ دعویٰ بھی ختم ہوا کہ خان صاحب جیل جا کے بیمار نہیں ہوئے لہذا کانسپیرنسی تھیوریز کی کاشت کے لئے یہ وقت بہترین ہے اور آپ بتا سکتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی میں ڈیل ہو رہی ہے۔
اگر آپ سیکورٹی ذرائع سے ملاقات اور عمران خان کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں پر رائے پوچھیں تو اس وقت فوج (اور حکومت) کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ عمران خان نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ ایک دہشت گرد طویل عرصے کے بعد اسلام آباد کے نواح میں پہنچ کر پھٹ جاتا ہے۔ میں عمران خان کو اس لئے بھی فوج اور حکومت کے لئے مسئلہ نہیں سمجھتا کہ میں نے چھبیس نومبر 2024 کے بعد ابھی آٹھ فروری 2026 کا احتجاج بھی دیکھا ہے اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے ٹھُس بھی ہوچکی ہے اور پھُس بھی۔ اب یہ اپنے مخالفین کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
لیکن اس کے باوجو د اگر آپ کانسپرینسی تھیوریز کے شوقین ہیں تو یہ کالم آپ کی تسلی کر سکتا ہے کیونکہ وی لاگز کے لئے ہمارے پاس بہت سارا مواد اکٹھا ہوچکا ہے جو بتاتا ہے کہ پس پردہ کچھ معاملات طے ہو رہے ہیں مگرکچھ مطالبات مانے جا رہے ہیں مگر اب تک کی واقعاتی شہادتوں کے مطابق پی ٹی آئی ہمیں تین مطالبات مانتی اور ان پر عمل کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بنیاد شائد دسمبر میں رکھی گئی تھی جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے صوبے میں سیکورٹی فورسز کے شہدا کو ملنے والی گرانٹ اچانک پچاس لاکھ روپوں سے بڑھا کے ایک کروڑ روپے کر دی۔
میں نے چیک کیا تو پتا چلا کہ یہ کام وفاق یا دیگر صوبوں میں نہیں صرف کے پی میں ہوا ہے۔ ایسے اقدامات کو سی بی ایمز کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اصل تبدیلی اس کے بعد فروری میں آئی جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے مالیاتی مشیر کو لے کر اچانک وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ملاقات کے لئے پہنچ گئے حالانکہ جب پندرہ اکتوبر کو سہیل آفریدی نے حلف اٹھایا تھا تو وزیراعظم نے انہیں ٹیلی فون پر مبارکباد دیتے ہوئے ملاقات کی دعوت بھی دی تھی مگر انہوں نے جواب تک دینا مناسب نہ سمجھا تھا۔
اہم ترین یہ رہا کہ اس ملاقات میں عشق عمران والے وزیراعلیٰ نے عمران خان کی رہائی والی بات تک کرنا مناسب نہ سمجھی اور یہ ملاقات مکمل طورپر سیکورٹی اور فنانشل ایشوز پر رہی جیسے کہ وزیراعظم ہاوس سے باقاعدہ طور پر بتایا گیا کہ انہوں نے صوبائی حکومت کو امن و امان کے قیام کے لئے اپنا آئینی کردارادا کرنے پر زور دیا۔
معاملہ اس وقت مزید آگے بڑھا کہ جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا یہ عجیب وغریب موقف اختیار کررہے تھے کہ انہیں جنازوں میں شرکت کی دعوت نہیں دی جاتی وہ کیپٹن عباس شہید کے جنازے میں پہنچے اور ان کی میت کو کندھا بھی دیا۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ اگلے روز خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننت جنرل عمر بخاری نے بھی شرکت کی اور وہاں سیکورٹی کے مشترکہ ویژن، پر اتفاق ہوا۔
تہلکہ خیز وہ میٹنگ رہی جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکابینہ کے ارکان لے کر کور ہیڈکوارٹرز پہنچے جہاں آئی ایس آئی کے سربراہ اور قومی سلامتی کے مشیر کے علاوہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ وہ تین گھنٹے تک وہاں رہے، مسکراہٹوں اور مصافحوں کے ساتھ لنچ بھی اکٹھے کیا گیا اور خیبرپختونخوا کی حکومت نے مالاکنڈ میں امن و امان کے لئے اپنا ماڈل نافذ کرنے کی بھی حامی بھر لی یعنی نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں ایک بڑی کامیابی۔
میں یہاں ان لوگوں سے اتفاق کرتا ہوں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی ڈیل ہورہی ہے اور یہ ڈیل اس پر ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی بندے کی پتر بن جائے۔ اس کے ساتھ سیکورٹی سورسز کے ساتھ میٹنگ میں خود پی ٹی آئی کے حامی صحافیوں نے نشاندہی کی کہ ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاونٹس اب فوج اور شہدا کے بارے وہ سب غلاظت نہیں بک رہے جو پہلے بکی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی بڑی کامیابی ہے کیونکہ ان کے ماجھے گامے وہیں سے لائن لیتے ہیں۔
تیسری کامیابی یہ ہے کہ بہت جلد چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان کی نامزدگی پر بات چیت ہونے جار ہی ہے یعنی آئین کے مطابق آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہورہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اب تک پی ٹی آئی کی ایک ہی شرط مانی گئی ہے کہ اس کا وہ اپوزیشن لیڈر مان لیا گیا ہے جس سیکورٹی فورسز کو شدید اعتراضات تھے جو پاکستان کی فوج اور اسرائیل کی فوج کو ملا رہا تھابلکہ اب بھی فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ جہاں تک عمران خان کو ریلیف والی بات ہے وہ ان کے روئیے سے پر منحصر ہے جب ملاقاتیں کھلیں گی تو اس کے بعد ان کے بیانات کیا ہوں گے۔ آپ اسے فیز ٹو کہہ سکتے ہیں۔

