Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Haider Javed Syed
  3. 8 February, Sutter Down, Basant Aur Asma Jahangir Conference

8 February, Sutter Down, Basant Aur Asma Jahangir Conference

آٹھ فروری، شٹر ڈاؤن، بسنت اور عاصمہ جہانگیر کانفرنس

آٹھ فروری گزر گئی لاہور میں بسنت منالی گئی اور ملک بھر میں "دھواں دار" شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی ہوگئی۔ سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ ملکِ پاکستان میں ہو کا عالم تھا۔ لاہور میں بھی بسنتیوں یعنی بسنت منانے والوں کے علاوہ کوئی گھر سے نہیں نکلا لیکن سوشل میڈیا پر ہی وہ ویڈیوز وائرل رہیں جن سے پتہ چلا کہیں جزوی شٹر ڈاؤن ہوا کہیں مکمل ناکام اور کہیں تحریک انصاف کے جذباتی کارکن دکانیں زبردستی بندکرواتے دیکھائی دیئے۔ ٹریفک معطل کی لوگوں اور مسافروں سے ہاتھا پائی و تلخ کلامی ایک جگہ تو مریض ہسپتال لیجانے والے شہری کے منہ پر کہہ دیا "مرجائے تمہارا مریض ہم تو راستہ نہیں کھولیں گے"۔

ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں کہ آٹھ فروری کے دن ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف انجمن محبانِ عمران خان ہے۔ سیاسی جماعت نہیں بن پائی اس رائے کی وجہ دریافت کرنے پر جواب ملا سیاسی جماعت کسی تحریک ہڑتال یا احتجاجی اجتماعات کیلئے مشاورت کے جس عمل کو ضروری سمجھتی تحریک انصاف اس سے بہت دور ہے۔ بس ایک حکم کہیں سے آتا ہے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا مجاہدین زمین گرم کردیتے ہیں اس کے بعد وہی ہوتا ہے جو اکثر دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے بعض ذمہ داران کا موقف ہے کہ آٹھ فروری کی شٹر ڈاؤن و ٹریفک جام ہڑتال کی اپیل اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین کی جانب سے تھی ہماری پارٹی نے اتحاد کی ایک جماعت کے طور پر جو ممکن ہوا وہ تعاون کیا اور جو سماں بندھا وہ ہمارے کارکنوں کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔

یہاں تک تو بات درست ہے کہ شٹر ڈاؤن و ٹریفک جام ہڑتال کی اپیل تحریک تحفظ آئین کے قائدین نے کی تھی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری نے اسے معرکہ حق و باطل قرار دیتے ہوئے بعض مواقع پر قرانی آیات اور مقدس اقوال سے اپنی تحریک ہڑتال اور جدوجہد کو عینِ حسینیت ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی لیکن اسلام آباد میں 8 فروری کی شام والے جلوس میں جسکی قیادت وہ خود چند دیگر رہنماوں کے ہمراہ کررہے تھے عوام اور کارکنوں سے زیادہ تو یوٹیوبرز بیٹ رپوٹرز اور پولیس والے تھے۔

تحریک تحفظ آئین نامی اپوزیشن اتحاد کی نمائیاں پارٹیاں تحریک انصاف مجلس وحدت مسلمین پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بی این پی مینگل گروپ ہیں باقی تو تانگے کی سواریاں ہیں وہ نومولود انقلابی دانشور مصطفیٰ نواز کھوکھر ہوں یا سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کچھ اور لوگ بھی ہیں ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی دو علاقائی جماعتیں پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور بی این پی آٹھ فروری کو بلوچستان میں شٹر ڈاؤن و ٹریفک بند ہڑتال 99 فیصد کامیاب کرواسکتی ہیں تو ملک گیر سطح پر سرگرم عمل تحریک انصاف اور ایم ڈبلیو ایم ملکر ویسی کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہ کرسکیں؟

سوشل میڈیا پر البتہ ان دونوں جماعتوں کے "کی بورڈ واریئرز" نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا نتیجہ سمجھنا ہوتو تحریک تحفظ آئین کے اسلام آباد میں "8 فروری کی شام والے" مرکزی احتجاجی جلوس کی ویڈیوز تلاش کرکے دیکھ لیجے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اتحاد کے صدر محمود خان اچکزئی نے احتجاجی جلوس میں شرکت کی بجائے لاہور میں مرحومہ عاصمہ جہانگیر کے حوالے منعقدہ سیمینار میں شرکت کو ترجیح دی اس سیمینار میں ان کی تقریر نے ملکی و عالمی میڈیا کو گرماگرم خبر عطا کی۔ جبکہ اسی اپوزیشن اتحاد کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر کہیں تھے کہ نہیں البتہ ان کے آبائی علاقے مرغز صوابی میں شٹر ڈاؤن و ٹریفک جام ہڑتال چاروں شانے چت رہے۔

کیا اپوزیشن اتحاد نے بلوچستان کی 99 فیصد شٹر ڈاؤن و ٹریفک جام ہڑتال خیبر پختونخوا کی جزوی اور پنجاب و سندھ میں کھوکھلے دعووں والی صورتحال سے کوئی سبق سیکھا؟ اور تجزیہ کرنے کی زحمت کریں گے کہ تحریک انصاف کی پنجاب میں دستیاب "بابو" قیادت سارادن کہاں "گم" رہی اور شام کے بعد من پسند یوٹیوبرز و بیٹ رپوٹرز کو جمع کرکے الفاظ چبا چبا کر کہہ رہی تھی ہمارا احتجاج کامیاب رہا لوگ گھروں سے نہیں نکلے یہی ہم چاہتے تھے۔

اس انقلابی میڈیا ٹاک کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پرانی مشعل بردار ریلی کی ویڈیو اس دعوے کے ساتھ وائرل کی گئی کہ لاہوریوں نے شام ہوتے ہی فارم 47 کا بوکاٹا کردیا۔

بہرطور اچھا لگے یا برا حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی پنجاب میں دستیاب بابو قیادت بری طرح ناکام رہی۔ تحریک بابو نہیں سیاسی کارکن چلاتے ہیں لیکن تحریک انصاف میں عموماً سوشل میڈیا کی فتوحات کے دعووں کو زمینی حقائق کے طور پر لیا جاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے اسلام آباد اور پنجاب کے کارکنان 6 فروری کے سانحہ ترلائی کلاں اسلام آباد کی بدولت غم زدہ تھے اور اتوار 8 فروری کو ہی شہدائے ترلائی کلاں کا سوئم بھی تھا۔

اس طور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بسنت ملتوئی کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو سانحہ ترلائی کلاں کے چالیس شہدا کے سوئم والے دن اپنی شٹر ڈاؤن اور ٹریفک جام ہڑتال بھی ملتوی کردینی چاہئے تھی اس سے بسنت ملتوی کرنے کے ان کے مطالبہ کو اخلاقی قوت ملتی اور کچھ لوگ یہ نہ کہہ پاتے کہ سانحہ ترلائی کلاں کے بعد بسنت ملتوی کرنے کا مطالبہ کرنے والے ہجوم کے اڈیالہ جیل میں قید قائد نے سانحہ اے پی ایس پشاور کے ماحول میں سات محرم کو دوسری شادی کرتے وقت ملک پر چھائی سوگواریت کو مد نظر کیوں نہیں رکھا تھا۔

ہماری رائے میں ایک غلطی دوسری غلطی کا جواز بناکر پیش کرنا کج بحثی ہے البتہ تحریر نویس بسنت ملتوی کرنے کا حامی نہیں تھا اس حوالے سے پنجاب حکومت نے بسنت میلے کی جو سرکاری تقریبات ملتوی کیں وہ درست فیصلہ تھا سرکاری سرپرستی کی افتتاحی تقریب بھی اگر نہ ہوتی تو بسنت میلے پر فرق نہیں پڑنا تھا کیوں؟ اس سوال کا جواب سابق وزیر اعظم عمران خان کی بڑی بہن محترمہ علیمہ خان کے اُس بیان میں موجود ہے جو انہوں نے بسنت کے بعد ایک صحافی کے اس سوال پر دیا کہ آپ کے تو بچوں نے بسنت منائی؟ علیمہ خان نے کہا لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکتا ہے بسنت منانے کیلئے لاہوریوں کا اپنا جنون ہے میرا بیٹا بھی لاہوری ہے اور بسنت کا جنونی شوقین۔

خیر ہم آگے بڑھتے ہیں بسنت میلے کے دنوں میں ہی لاہور میں محترمہ عاصمہ جہانگیر مرحومہ سے منسوب سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی اس کانفرنس کی فنڈنگ کے حوالے سے امسال کچھ نرم گرم اور سستے الزامات بھی مارکیٹ میں آئے لیکن ایک سنگین ترین الزام یہ لگا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس بعض علیحدگی پسند پاکستانی گروہوں کو مرکزی مقام پر خیالات کے اظہار کیلئے اسٹیج مہیا کرتی ہے۔

فنڈنگ اور یہ الزامات ہمارا موضوع ہیں نہ ان پر بحث اٹھانے کی خواہش کیونکہ جب عاصمہ جہانگیر زندہ تھیں تو تب بھی ان پر بعض حلقے سنگین الزامات لگایا کرتے تھے ان الزامات نے مرنے کے بعد بھی ان کی جان نہ چھوڑی یہاں تک کہ ان کی نماز جنازہ فتووں کی زد میں آگئی اور بالآخر جماعت اسلامی کے بانی مرحوم سید مودودیؒ کے صاحبزادے حیدر فاروق مودودی نے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائی تو فتوے ان کے گلے کا ہار بن گئے۔

امسال کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں حسبِ سابق مختلف الخیال شخصیات مقررین میں شامل تھیں۔ ویسے ننانوے فیصد مقررین وہی تھے جو ہر سال ہوتے ہیں بلکہ خصوصی اہتمام کے ساتھ بلائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں منعقدہ دوروزہ کانفرنس کے وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ خان کی تقریر کے دوران شرکا میں سے کسی نے انہیں "شٹ آپ" کہہ دیا بعد ازاں بلوچ مندوبین اور ترقی پسند کہلانے والے شرکا کی بڑی تعداد ان کی تقریر کا بائیکاٹ کرکے حال سے باہر چلی گئی۔

دوسری بار بدمزگی جرمن سفیر کے خطاب کے دوران پیدا ہوئی جب کسی نے ان سے جرمنی کی اسرائیل نواز غزہ پالیسی پر سوال کیا بعد ازاں سوال کرنے والے کو کانفرنس حال سے نکال دیا گیا۔

اسی کانفرنس میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزی کی تقریر کا بھونچال گزشتہ روز قومی اسمبلی میں محسوس کیا گیا جہاں اس تقریر کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف اور محمود خان اچکزئی آمنے سامنے آگئے (جواب و الجواب کے طور پر) ایک لطیفہ یہ بھی ہوا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کی گئی۔ سردار اخترجان مینگل کی تقریر کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کے دفتر سے ان کے قومی اسمبلی کی نشست سے سترہ ماہ قبل دیئے گئے استعفیٰ کی منظوری کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

جس سے ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی کہ کیا ملک کے لولے لنگڑے سول نظام کو بھی "کوئی اور چلارہا ہے" بادی النظر میں یہ سوال اور بحث کچھ غلط بھی نہیں ایک خاص موقع پر کی گئی تقریر کے بعد ہی کیوں یہ استعفیٰ سترہ مہینوں میں پہلے کسی وقت منظور کیوں نہ کیا گیا؟

کیا یہ فیصلہ اس لیئے کیا گیا کہ سراد اختر جان مینگل نے یہ کہا کہ "بلوچستان اور پاکستان دو اچھے پڑوسیوں کی طرح رہ سکتے ہیں" آخری بات کیا دوبار بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہنے والے سردار اختر جان مینگل نے اپنا بچا کھچا سیاسی وزن بی ایل اے کے پلڑے میں ڈال دیا ہے؟ ایسا ہے تو مستقبل کا منظر نامہ ابتر سے بھی زیادہ خوفناک بنتا دیکھائی دے رہا ہے۔

Check Also

Ti Ti Ti, Chari Chari Chari

By Fazal Tanha Gharshin