لکھنے والے مجھے تو نے کیا لکھ دیا؟

گفتگو کا موضوع تھا "اُسلوبِ بیان اور اثرآفرینی کا فن"۔ گفتگو کا مقام تھا ادارۂ معارفِ اسلامی، فیڈرل بی ایریا کراچی اور اِس مہا بَکّو کو وہاں گفتگو کرنے کا موقع دیا تھا جناب محمود الحق صدیقی نے۔ ہوا یوں کہ گزشتہ ہفتے ادارۂ معارفِ اسلامی، کراچی نے اپنے کتب خانے کی سماعت گاہ میں اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے سہ روزہ تربیتی تدریس کا اہتمام کیا۔ خطا اُن سے یہ ہوئی کہ تدریس کے آخری دن اِس کالم نگار کو بھی بطور مربی مدعو کرلیا۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ نشست دو گھنٹے سے زائد دورانیے پر محیط ہوگئی۔ مگر رہی بہت پُرلطف۔ سوالات ہوئے۔ جوابات دیے گئے اور اُسلوبِ بیان کی مثالیں دینے کو پُراثر اقتباسات، پُرتجسس قصے اور قہقہہ آور لطیفے سنائے گئے۔ بہرحال خوشی یہ ہوئی کہ اس خانقاہ، سے لوگ خوشی خوشی اُٹھے۔ اقبالؔ کی طرح غم ناک نہیں اُٹھ گئے کہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ۔
ساری گفتگو تو صفحے بھر میں سمیٹی نہیں جا سکتی۔ ہاں کچھ اہم نِکات ایسے ہیں جو ہمارے کالموں کے قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ چناں چہ چند ترامیم کے ساتھ اُس روزکی گفتگو کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ بس اسی ملخص کو آج کا کالم جانیے۔
صاحبو! بیان، کے بنیادی معنی ہیں کسی بات کی وضاحت، انکشاف یا کسی معاملے کو اپنے الفاظ میں پیش کرنا۔ گفتگو اور اظہار۔ قول، کلام، تقریر اورکسی بھی نکتے کو تحریری یا زبانی طور پر واضح کرنا۔ کسی موضوع یا واقعے کی تفصیل بتانا۔ ہاں، پولیس یا عدالت کے روبرو گواہوں اور مدعی کا اظہار بھی بیان، کہلاتا ہے۔ مگر اردو ادب میں بیان، سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے سے عبارت کو زیادہ فصیح اور واضح انداز میں اور مختلف طریقوں سے پیش کیا جاسکے۔ دیکھیے غالبؔ نے اپنے اشعار میں تصوف کے اسرار و رموز بیان کیے تو اس بات کو یوں پیش کیا:
یہ مسائلِ تصوف، یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
گویا بادہ خوار ہوتے ہوئے بھی چچا خود کو کسی ولی سے کم نہیں جانتے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ
اہلِ وَرَع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
پر عاصیوں کے زُمرے میں مَیں برگزیدہ ہوں
بات کو یوں بیان کرنا غالبؔ کا اُسلوب تھا۔ اُسلوب عربی الاصل لفظ ہے۔ اس کی جمع اسالیب ہے۔ لغوی معنی ہیں طریقہ، طرز، چال ڈھال اور اندازِ بیان۔ اسلوب طرزِ تحریرکو بھی کہتے ہیں۔ کسی مصنف، شاعر یا عام انسان کا بات کہنے یا لکھنے کا اپنا ڈھنگ، سلیقہ اور طور طریقہ۔ ہر ادیب کے لکھنے کا انداز یا اسلوب، اُس کے طرزِفکر اور مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلوب شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ اسلوب شخصیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ (یہاں شرکا کو مولانا مودودی، ملا واحدی اور مختار مسعود کے اسالیب سے مثالیں دی گئیں۔)
اُسلوب پُرکشش ہو، تو بات قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ اسی کو اثر آفرینی، کہتے ہیں۔ فارسی مصدر آفریدن سے آفرینی، بنا ہے۔ آفریدن کا مطلب ہے پیدا کرنا۔ شیخ سعدیؔ کی مقبول کتاب "بوستان" کا آغاز ایک حمدیہ شعر سے ہوتا ہے:
بنامِ جہاں دارِ جان آفریں
حکیمے سخن بر زبان آفریں
دنیا کے مالک کے نام سے جس نے جان پیدا کی۔ وہ ایسی حکمت والا ہے کہ اس نے زبان میں بات کرنے کی طاقت پیدا کردی۔ اثر آفرینی، کا مطلب ہے متاثر کرنے کی صلاحیت۔ تاثیر پیدا کرنے کا عمل۔ کسی بات، تحریر، یا کسی عمل کے ذریعے سے سامعین و ناظرین و قارئین کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑنا۔ انھیں متاثر کرنا۔ کسی شے کا اتنا پُراثر اورحسین ہونا کہ دیکھنے یا سننے والا اس کی طرف کھنچا چلا جائے۔ کسی اقدام یا کوشش کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہونا اور اپنے ہدف کو مؤثر انداز میں حاصل کرنا۔ یہ اثرآفرینی، میں شمار ہوتا ہے۔ شعر و ادب میں بھی اس ترکیب کا استعمال اسی تناظر میں ہوتا ہے۔ یعنی کلام میں ایسی معنویت و جذباتیت پیدا ہوجانا کہ پڑھنے والے کا دل چھولے۔
اسلوبِ بیان کیا ہے؟ موقعے اور محل کے مطابق موزوں ترین الفاظ کا استعمال۔ عمدہ طرزِ ادا۔ جملوں کی ساخت اور ان کا باہمی ربط۔ تشبیہات و استعارات کا استعمال۔ تحریر کو پُرکشش بنانے کے لیے علامتی انداز اختیار کرنا اور اپنے مخصوص انداز میں لکھنا یا بولنا وغیرہ۔
اُسلوب میں اثرآفرینی کے لیے متعدد عناصر سے کام لیا جاتا ہے۔ مگر دو بنیادی عناصر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے پہلا عنصر ہے فصاحت۔ فصاحت کا لغوی مطلب ظاہر اور صاف ہونا، ہے۔ مگر ادب کی اصطلاح میں فصاحت سے مراد ایسی زبان، کلمہ یا کلام ہے جو بولنے اور سننے میں رواں، شستہ اور بامحاورہ ہو، جس میں کوئی لفظ نامانوس نہ ہو، کوئی فقرہ کانوں کو ناگوار نہ گزرے۔ ہر جملہ قواعد کے مطابق ہو۔ سننے میں بھلا لگے اور زبان پر بھاری نہ پڑے، وغیرہ وغیرہ۔
دوسرا عنصر ہے بلاغت۔ بلاغت کے لغوی معنی ہیں پہنچنا، انتہا کو پہنچنا، یامقررہ حد تک پہنچ جانا۔ ادبی اصطلاح میں اس سے مراد ہے موقعے اور محل کے مطابق، سامع یا قاری کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، بامقصد، مختصر اور مؤثر انداز میں بات کرنا۔ بات کو قاری کے ذہن و قلب تک پہنچا دینا۔ بلاغت کی بہترین مثالیں قرآنِ کریم کی معجزانہ آیات میں ملتی ہیں۔ عربوں میں "قتل کے بدلے قتل" کا مقولہ رائج تھا۔ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 179میں قرآن نے "وَ لَکُمُ فِی الُقِصَاصِ حَیٰوۃٌ" (تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے)کے مختصر الفاظ میں وہ حقیقت بیان کردی جس پر کتابوں کی کتابیں تحریر کی جا سکتی ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے متعلق اکبرؔالٰہ آبادی کیا خوب کہہ گئے:
سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں
اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
حاصلِ کلام یہ کہ اپنی تحریر میں اثر آفرینی کے لیے اگر آپ چار باتوں کا خیال رکھیں تو تحریر میں چار چاند لگ جائیں:
1۔ صداقت اور خلوص۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔ یہ اثر آفرینی کی پہلی شرط ہے۔
2۔ ایجاز و اختصار۔ بات کو طویل اور اُکتا دینے والی چیزنہ بنانا۔ کم سے کم الفاظ میں اپنی پوری بات کہہ دینا۔ چھوٹے چھوٹے فقرے لکھنا۔ اطناب، یعنی بات کو لمبا کھینچنے یا گفتگو دراز کرنے سے بچنا۔ ایسا نہ ہو کہ پڑھنے والا ضمیرؔ جعفری کی طرح اپنا سر ہی پیٹتا رہ جائے:
لکھنے والے مجھے تُو نے کیا لکھ دیا؟
خط لکھا یا خطِ استوا لکھ دیا
3۔ روانی اور تسلسل۔ تحریر میں دریا جیسی روانی ہونی چاہیے۔ جملوں کا آپس میں ایسا ربط ہو کہ قاری ایک جملہ پڑھے تو اگلا جملہ پڑھنے کے لیے بے چین ہوجائے۔ پڑھنا شروع کرے تو پڑھتا ہی چلا جائے۔ روکے نہ رُک سکے۔
4۔ موقع محل کا لحاظ۔ خوشی کے موقعے پر شگفتہ اور غم پر درد انگیز اسلوب اختیار کرنا۔ جلال کی جگہ جلال اور جمال کی جگہ جمال ہو۔
اگر آپ اپنے بیان یا تحریر میں اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو مزید تین باتیں یاد رکھیے۔ ایک یہ کہ جتنا وسیع مطالعہ ہوگا، الفاظ کا ذخیرہ بھی اتنا ہی وسیع اور پُرکشش ہوگا اور جتنا اچھا مشاہدہ ہوگا تحریر اتنی ہی پُراثر ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ سادگی میں سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ پیچیدہ اور مشکل الفاظ کا زبردستی استعمال تحریر کو بوجھل بنا دیتا ہے۔ مختصر جملے آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں اور تیسری بات یہ کہ لکھنے والے کو اپنی تحریر کے قاری کی نفسیات کا ادراک ہونا چاہیے۔ علم ہونا چاہیے کہ وہ کس سے مخاطب ہے؟ بچوں سے، نوجوانوں سے، یا اہل علم سے؟

