Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Rehana Shah
  4. Laqanooniyat, Jahalat Ya Zehniyat?

Laqanooniyat, Jahalat Ya Zehniyat?

لاقانونیت، جہالت یا زھنیت؟

سعادت حسین کا افسانہ "کھول دو" یا پھر عصمت چغتائی کا ناول "معصومہ" وہ آج کی معاشرے سی بھی زیاد تعفن زدہ تھے؟ ان کرداروں کو مختلف ادوار میں بہت سی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ معاشرے کی منافقت اور ذھنیت کو بے نقاب کر دیا۔ قانون اور انسان کے درمیان ہمیشہ ایک جنگ چھڑی رہتی ہے کے قانون نے اپنے ہاتھ باندھ لیے ہیں اور خاموشی سے عدالت عظمیٰ کے سامنے آویزاں انصاف کے علامتی مجسمے کی کالی پٹی جو کہ بلا امتیازی کی علامت ہے آنکھوں اور منہ پہ باندھ لی ہے کہ نہ کچھ دیکھا ہے اور نہ کچھ کہنا ہے! پھر پھر انسان سے بھی ایک سوال ہے کے اسکی انسانیت کہاں گئی؟ جب انسان ہی انسانیت کو پامال کرنے کی تُلا ہے تو پھر کیا انسانیت اور کیا لاقانونیت!

مختصر یہ کے اس مردوں کے معاشرے میں عورتوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کچھ سالوں میں جہاں تعلیم، شعور اور سوشل میڈیا کی سرگرمیاں عام ہوئی بجاے کہ ایک پُرامن معاشرہ جنم لے وہی عورت سب سے زیادہ شکار ہو رہی ہے عورت تو خیر سہ رہی تھی اب معصوم نھنی نھنی بچیاں کہا جائیں!

سات سالہ منتہیٰ زہرا کے زیادتی کے بعد قتل نے جہاں پہ ہمارے معاشرے پہ اتنے سوال اٹھائے ہیں کیا اسکے پیچھے درندگی، بےرحمی، قانون کا ڈر نہ ہونا، نفسیاتی مسائل ہیں؟ کہیں اسکے پیچھے ہماری عورت کو لے کر ذہنیت تو نہیں؟ یہ سوال ایک بہت بڑا المیہ ہے جس جواب ڈھونڈنا ایک پُرامن معاشرے کے ہے بہت ضروری ہے۔

قارئین کو یہ بات شاید ہضم نہ ہو لیکن جہاں تک میرا تجزیہ ہے کہ بالکل قانون پہ عملدرآمد بہت ضروری ہے لیکن ان اخلاقی حدود کو پامال کرنے والی سرگرمیوں کے پیچھے ہماری تربیت کی کجیاں اور برصغیر کے عورت کو لے کر جو بنیادی تصور ہیں انکا بڑا ہاتھ ہے۔ عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ وہ خود کی نمائش کر رہی ہے اور اگر پردہ کرکے اور نہ کرکے پھر بھی قتل، زیادتی، غیرت کے نام پہ قتل اور کمسنی کی زبردستی شادیاں پھر اسکا جواب کیا ہے انکے پاس جو عورت کے کردار پہ سب سے پہلے سوال اٹھاتے ہیں۔

صنفی بنیاد پہ تشدد پاکستان میں نہ صرف ایک اخلاقی بلکہ معاشرتی برائی اختیار کر چکا ہے۔

انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کے اور اس سال کی حالیہ رپورٹ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان چند مہینوں میں 29 خواتین کو غیرت کے نام پہ قتل کیا گیا ہے۔ حکومت سخت پالیسیوں کی وجہ سے کچھ عرصے تک تیزاب گردی پہ ایک کنٹرول رہا ہے لیکن گزشتہ ہفتوں پہلے ڈاکٹر ماہ نور ناصر جن کا تعلق بلوچستان سے ہے ہراساں اور تیزاب گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ صرف کچھ مہینوں میں مرکز کی پولیس نے 432 کیس درج کیے ہیں جس میں منتہیٰ زہرا کا کیس زیر بحث ہے۔

حاصلِ بحث کیا ہم ایک انسان کے درجے سے نیچے گر رہے؟ شرعی سزاؤں کا فقدان؟ قانون کی کمزور پالیسیاں؟ لاقانونیت، جہالت یا پھر وہی ذہنیت؟

Check Also

Khalaa Se Khet Tak: China Ki Khalai Gandum Aur Hamari Siasi Dhund

By Peer Intizar Hussain Musawir