Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Aik Tareekhi Kidar: Dr. Ruth Pfau

Aik Tareekhi Kidar: Dr. Ruth Pfau

ایک تاریخی کردار: ڈاکٹر رُوتھ فاؤ

بعض انسان اپنے وطن کی سرحدوں سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ اُن کی شناخت کسی ایک نسل، ایک مذہب یا ایک قوم تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ بھی ایسی ہی ایک عظیم ہستی تھیں۔ وہ جرمنی کی ایک نوجوان، تعلیم یافتہ اور خوش حال خاتون تھیں۔ اُن کے سامنے یورپ کی روشن اور آسودہ زندگی تھی، آرام و سکون کے بے شمار مواقع تھے، عزت، شہرت اور دولت کے دروازے کھلے ہوئے تھے، مگر اُنہوں نے اپنی زندگی کا رخ اُس سرزمین کی طرف موڑ دیا جہاں غربت تھی، بیماری تھی، محرومی تھی اور سب سے بڑھ کر ایسے انسان تھے جنہیں معاشرے نے جیتے جی مردہ قرار دے دیا تھا۔

یہ انیس سو ساٹھ کی بات ہے جب ایک تیس سالہ جرمن خاتون کراچی پہنچیں۔ اُن کے دل میں ایک عجیب بے چینی تھی۔ یہ بے چینی اُنہوں نے اُس وقت محسوس کی جب انہوں نے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں پاکستان کے جذام زدہ مریضوں کی حالت دیکھی۔ وہ لوگ جن کے جسم گل رہے تھے، جن کے ہاتھ پاؤں بکھر رہے تھے، جن کے زخموں سے پیپ بہتی تھی، مگر اُن کے جسم سے زیادہ اُن کی روحیں زخمی تھیں کیونکہ معاشرہ اُنہیں عذابِ الٰہی سمجھ کر چھوڑ چکا تھا۔ انسان جب بیماری سے زیادہ تنہائی میں مرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ تہذیب اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے۔ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے اُس شکست خوردہ انسانیت کو سہارا دینے کا فیصلہ کیا۔

کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ کے قریب وہ بدنام بستی جہاں جذام کے مریضوں کو گویا زندہ لاشوں کی طرح پھینک دیا جاتا تھا، ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے وہیں ایک جھونپڑی میں اپنا چھوٹا سا کلینک قائم کیا۔ اُس وقت لوگ ان مریضوں کے قریب جانے سے خوفزدہ رہتے تھے۔ کئی لوگ دور کھڑے ہو کر روٹیاں پھینک جاتے تھے تاکہ چھونے کی نوبت نہ آئے۔ اپنے بھی اُن سے منہ موڑ لیتے تھے۔ یہ صرف بیماری نہ تھی، یہ سماجی جلاوطنی تھی۔ مگر ایک غیر ملکی عورت اُن کے زخم دھو رہی تھی، اُن کی پٹیاں بدل رہی تھی، اُن کے سروں پر ہاتھ رکھ رہی تھی، اُنہیں دلاسہ دے رہی تھی۔

یہ منظر کسی افسانے سے کم نہ تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ صرف دوائی دینا کافی نہیں، اس قوم کے ذہن سے خوف اور جہالت بھی نکالنی ہوگی۔ تین برس تک وہ مسلسل لوگوں کو یہ سمجھاتی رہیں کہ جذام کوئی آسمانی سزا نہیں بلکہ ایک بیماری ہے اور بیماری کا علاج ممکن ہے۔ یہ آسان کام نہ تھا۔ صدیوں سے جمی ہوئی سوچ کو بدلنے کے لیے صرف علم کافی نہیں ہوتا، اُس کے لیے کردار کی سچائی درکار ہوتی ہے اور ڈاکٹر رُوتھ فاؤ کے پاس یہی سب سے بڑی طاقت تھی۔ آہستہ آہستہ لوگ اُن کے ساتھ جڑتے گئے۔ ڈاکٹر آئی کے گل اور اُن کے ساتھی آگے بڑھے، نرسیں شامل ہوئیں، کارکن آئے اور ایک عورت کا تنہا سفر ایک قافلے میں بدلنے لگا۔

انیس سو پینسٹھ میں "میری ایڈ لیپریسی سینٹر" کا قیام صرف ایک اسپتال کا بننا نہیں تھا بلکہ یہ اُس سوچ کی فتح تھی جو انسان کو اُس کی بیماری سے بڑا سمجھتی ہے۔ اس ادارے کے قیام کے لیے جب لاکھوں روپے درکار تھے تو ڈاکٹر رُوتھ فاؤ جرمنی واپس گئیں۔ وہاں انہوں نے اپنی قوم کے سامنے پاکستان کے ان مجبور انسانوں کی تصویر رکھی اور مدد کی اپیل کی۔ وہ خالی ہاتھ واپس نہ آئیں۔ یہ وہ عورت تھی جو دولت اپنے لیے نہیں بلکہ اُن لوگوں کے لیے مانگ رہی تھی جن سے اُس کا نہ خون کا رشتہ تھا، نہ زبان کا، نہ قومیت کا۔ پھر پورے پاکستان میں جذام کے خلاف ایک منظم جدوجہد شروع ہوئی۔

سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، شمالی علاقہ جات، دور دراز دیہات، ریگستان، پہاڑ، جنگل، کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نہ پہنچیں۔ وہ جیپوں میں سفر کرتیں، بعض اوقات پیدل جاتیں، گرد و غبار، گرمی، بیماری اور تھکن کو خاطر میں نہ لاتیں۔ اُن کے لیے سب سے قیمتی چیز ایک مریض کی آنکھ میں واپس لوٹ آنے والی امید تھی۔ اُنہوں نے صرف اسپتال نہیں بنائے بلکہ انسانوں کو دوبارہ معاشرے میں جینے کا حق دلوایا۔ وہ مریض جو کبھی سڑک کنارے مرنے کے لیے چھوڑ دیے جاتے تھے، اب علاج پا کر زندگی کی طرف واپس آ رہے تھے۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب دنیا نے پاکستان کی اس جدوجہد کو تسلیم کیا۔ انیس سو چھیانوے میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دیا۔ یہ صرف ایک طبی کامیابی نہ تھی بلکہ انسانیت کی فتح تھی اور اس فتح کے مرکز میں ایک جرمن خاتون کھڑی تھی جس نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے نام کر دی تھی۔ اُنہیں پاکستانی شہریت دی گئی، بڑے بڑے اعزازات ملے، حکومتوں نے اُنہیں سراہا، عوام نے عقیدت دی، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اُن کی اپنی زندگی انتہائی سادہ رہی۔ نہ کوئی عالی شان بنگلہ، نہ دولت کے انبار، نہ ذاتی آسائشیں۔ ایک چھوٹا سا کمرہ، ایک چارپائی، پانی کا کولر اور چند کتابیں، یہی اُن کی کل کائنات تھی۔ آج جب دنیا نمود و نمائش میں گم ہو چکی ہے، جب خدمت بھی اشتہار بن گئی ہے، جب لوگ ایک معمولی نیکی کے بعد تصویریں بنواتے اور تعریفی جملے جمع کرتے ہیں، وہاں ڈاکٹر رُوتھ فاؤ کی زندگی خاموش خدمت کی ایسی مثال بن جاتی ہے جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ انہوں نے شادی نہیں کی، ذاتی زندگی کی آسائشوں کو قربان کیا اور اپنا پورا وجود ایک مشن کے لیے وقف کر دیا۔ یہ ایثار آج کے دور میں تقریباً ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔

دس اگست دو ہزار سترہ کو وہ عظیم عورت اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ خبر پھیلی تو پاکستان کے لاکھوں دل سوگوار ہو گئے۔ اُن کی تدفین کے وقت لوگ زار و قطار رو رہے تھے، جیسے کسی گھر کی بزرگ ہستی رخصت ہوگئی ہو۔ اُنہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا، مگر اُن کا اصل اعزاز وہ دعائیں تھیں جو اُن مریضوں کے دلوں سے نکل رہی تھیں جنہیں انہوں نے نئی زندگی دی تھی۔ بعض لوگ مرنے کے بعد دفن ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ مٹی میں دفن ہونے کے باوجود تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ انہی زندہ لوگوں میں شامل ہیں۔ اُن کے مذہب کے بارے میں مختلف باتیں کہی جاتی رہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت خود ایک بہت بڑا مذہب ہے۔ اللہ تعالیٰ نیتوں اور دلوں کو جانتا ہے۔ ایک عورت ہزاروں میل دور سے آئی، اس نے ہمارے محروم انسانوں کے زخم اپنے ہاتھوں سے صاف کیے، اُن کے لیے اپنی جوانی، اپنی آسائشیں، اپنا وطن اور اپنی پوری زندگی قربان کر دی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

آج جب ہم ڈاکٹر رُوتھ فاؤ کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو سوال صرف یہ نہیں بنتا کہ وہ کتنی عظیم تھیں، اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟ ایک غیر ملکی عورت ہمارے کچے گھروں، غریب بستیوں اور بیمار انسانوں کے درمیان آ کر آباد ہوگئی، مگر ہم میں سے کتنے لوگ اپنے ہی معاشرے کے دکھ بانٹنے کے لیے تیار ہیں؟ ہمارے ملک میں بے شمار ڈاکٹر موجود ہیں اور ان میں بہت سے ایسے ہیں جو دیانت، محبت اور اخلاص کے ساتھ خدمت بھی کر رہے ہیں، مگر مجموعی طور پر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا طب صرف پیشہ ہے یا انسانیت کی خدمت کا عہد بھی؟ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ انسان بڑا اُس وقت بنتا ہے جب وہ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھ لے۔ قومیں صرف عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ اُن کرداروں سے عظیم بنتی ہیں جو اپنے آرام قربان کرکے دوسروں کی زندگی آسان بناتے ہیں۔

ڈاکٹر رُوتھ فاؤ کا نام اس لیے زندہ رہے گا کہ انہوں نے انسانیت کو صرف کتابوں میں نہیں پڑھا، نہ ہی اسے محض ایک نظریہ سمجھا، بلکہ اسے اپنے ہاتھوں، اپنے وقت، اپنی محبت اور اپنی پوری زندگی سے جیا۔

اور اب ایک ایسی بات جو دل پر دستک بھی دیتی ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ ایک شخص نے ایک مرتبہ اس عظیم خاتون سے پوچھا: "آپ کو پاکستان میں آئے ہوئے پچاس برس ہو گئے ہیں۔ اس طویل عرصے میں آپ نے یہاں کے لوگوں کے بارے میں کیا مشاہدہ کیا ہے؟"

ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے کچھ لمحے توقف کیا اور پھر نہایت سادگی سے جواب دیا: "آپ لوگ جھوٹ بہت بولتے ہیں"۔

یہ ایک مختصر جملہ تھا، مگر اس کے اندر ایک پوری قوم کے لیے ایک گہرا پیغام پوشیدہ تھا۔ بعض اوقات محبت کرنے والے اور خیرخواہ لوگ وہ آئینہ دکھا دیتے ہیں جس میں ہم اپنی کمزوریاں صاف دیکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے کوڑھ کے زخموں کا علاج کیا، مگر جاتے جاتے ہمارے کردار کے ایک زخم کی بھی نشاندہی کر گئیں۔ شاید یہی وہ سبق ہے جس پر غور کر لیا جائے تو بہت سی انفرادی اور اجتماعی بیماریوں کا علاج ممکن ہو جائے۔

Check Also

Bad Naseeb Rehmat

By Muhammad Waqas Rashid