Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Khalaa Se Khet Tak: China Ki Khalai Gandum Aur Hamari Siasi Dhund

Khalaa Se Khet Tak: China Ki Khalai Gandum Aur Hamari Siasi Dhund

خلا سے کھیت تک: چین کی خلائی گندم اور ہماری سیاسی دھند

خیالی اور مہم جوئی پر مبنی داستانوں میں اکثر پڑھنے کو ملتا ہے کہ انسان ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے، چاند پر بستیاں بسا رہا ہے اور کہکشاؤں کے اسرار معلوم کر رہا ہے۔ یہ کہانیاں پڑھنے کی حد تک تو بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں ہمارے پڑوسی ملک چین نے ایک ایسا رخ اختیار کیا ہے جس نے دنیا بھر کے زرعی ماہرین اور پالیسی سازوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چین نے خلا کو تسخیر کرنے کے بعد اسے صرف خلائی اسٹیشنوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس مہم جوئی کو اپنے کسان کے ہل، مٹی اور کھیت سے جوڑ دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ابلاغ عامہ پر چلنے والی "خلائی گندم" اور خلائی بیجوں کی خبریں کوئی افسانہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ٹھوس سائنسی حقیقت ہیں جس نے چین کو غذائی طور پر دنیا کی ایک بڑی طاقت بنا دیا ہے۔ چین پچھلے چند دہائیوں سے خلائی افزائشِ نسل کی ٹیکنالوجی پر خاموشی اور مستقل مزاجی سے کام کر رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت گندم، چاول، کپاس اور مختلف سبزیوں کے روایتی بیجوں کو خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے زمین سے سینکڑوں کلومیٹر اوپر خلا میں بھیجا جاتا ہے۔ وہاں کائناتی شعاعوں کی بھرمار اور کششِ ثقل کے نہ ہونے کے اثر سے بیجوں کے اندرونی خلیات میں قدرتی طور پر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جب یہ بیج زمین پر واپس لائے جاتے ہیں، تو ان میں سے بہترین کا انتخاب کرکے کھیتوں میں بویا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو گندم تیار ہوتی ہے، وہ کم پانی میں، شدید ترین موسم میں اور خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑ کر عام فصل سے دگنی پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چین کی تیار کردہ ایسی ہی خلائی گندم آج ان کے کروڑوں ایکڑ رقبے پر لہرا رہی ہے، جس نے ان کے گوداموں کو اناج سے مالامال کر دیا ہے اور وہ اپنی ڈیڑھ ارب آبادی کو اپنے بل بوتے پر پال رہا ہے۔

لیکن جب چین کے ان جدید اور خلائی کھیتوں سے نظریں ہٹا کر اپنے وطنِ عزیز کے زرعی، معاشی اور سیاسی منظرنامے پر ڈالتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔ جہاں ہمارے بالکل پڑوس میں زراعت زمین کی حدود کو توڑ کر خلا کی وسعتوں کو چھو رہی ہے، وہاں ہم آج بھی اسی پرانی، فرسودہ اور تاریک سیاسی دھند میں تڑپ رہے ہیں۔ ہمارا مقتدر طبقہ آج بھی صبح و شام صرف اور صرف ایک ہی کام میں مصروف دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کی کھینچا تانی۔ ہماری تمام تر قومی توانائی، ہماری دانش، ہمارا سرمایہ اور ہمارا قیمتی وقت صرف اس لاحاصل بحث کی نذر ہو رہا ہے کہ کس کو کس چوراہے پر نیچا دکھانا ہے، کس کو کہاں اور کیسے چوٹ پہنچانی ہے اور کس کو کس داؤ پیچ سے اقتدار کے سنگھاسن سے نیچے اتارنا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے شب و روز ہونے والے مباحثوں سے لے کر ایوانوں تک، ہر جگہ بس یہی ایک گونج سنائی دیتی ہے کہ کس نے کتنا کھایا، کس نے کیا لوٹا اور کس نے کس پر کیچڑ اچھالا۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ قوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے، کسان کو ریلیف دینے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے بجائے، پوری طاقت صرف ایک دوسرے کو گرانے، انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے اور ذاتی انا کی تسکین پر ضائع کی جا رہی ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر کا معیار اب اس حد تک گر چکا ہے کہ چوراہوں اور سوشل میڈیا پر تعمیری اور ترقیاتی بحثوں کے بجائے یہ اچھالا جاتا ہے کہ کس کی نسل کیا ہے، کون کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، کس کا شجرہ نسب کتنا اونچا ہے اور کس کا ماضی کتنا داغدار تھا۔ زراعت، سائنس، جدید علوم اور صنعتی ترقی جیسے اہم موضوعات ترجیحات کی فہرست میں دور دور تک شامل ہی نہیں ہیں۔

اس باہمی سرپھٹول اور لاپروائی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اس زرخیز مٹی کا پورا زرعی ڈھانچہ دن بہ دن تباہی کے سیاہ گڑھے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پانی، جو کسی بھی زرعی ملک کے لیے رگِ جاں کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ہمارے دریا، جو کبھی پانی سے چھلکتے تھے، اب ریت کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح سینکڑوں فٹ نیچے جا چکی ہے، جس کی وجہ سے کسان کے لیے ٹیوب ویل چلانا بھی عذاب بن چکا ہے۔ لیکن ہمارے اربابِ اختیار کے پاس نئے بڑے آبی ذخائر اور ڈیم بنانے کی نہ تو کوئی نیت نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی۔

دنیا بدل رہی ہے، موسم اپنے تیور بدل رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں عذاب بن کر ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں، لیکن ہم ایک ایسے خوابِ غفلت میں سو رہے ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں بادل برستے ہیں، پہاڑوں سے سیلاب آتا ہے، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں لمحوں میں ملیا میٹ ہو جاتی ہیں، غریب اور بے بس کسانوں کے کچے آشیانے تنکوں کی طرح بہہ جاتے ہیں اور ملک کو کھربوں روپے کا ناقابلِ تلافی معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ لیکن سیلاب کی اس مستقل تباہی سے بچنے کے لیے، پانی کا رخ موڑنے کے لیے اور اس قیمتی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی مستقل بندوبست نہیں کیا جاتا۔

ہم بس ہر سال سیلاب آنے پر چند کروڑ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہیں، تشہیری دورے کرتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرضِ منصبی پورا کر دیا۔ یہ پانی جو ہماری بنجر زمینوں کے لیے آبِ حیات بن سکتا تھا، جو ہماری پیاسی فصلوں کو زندگی دے سکتا تھا، انتظامی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے ہر سال ہمارے لیے عذاب بن کر ہماری رہی سہی معیشت کو بھی بہا لے جاتا ہے۔

ہمارا کسان، جو اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آج بھی اسی صدیوں پرانے روایتی بیج، بلیک میں ملنے والی مہنگی کھاد، بجلی کے کمر توڑ بلوں اور پانی کی شدید قلت کا رونا رو کر ہل چلا رہا ہے۔ جب کسان کو بوائی کے وقت اچھا اور تصدیق شدہ بیج نہیں ملے گا، جب اسے فصل کو پالنے کے لیے پانی میسر نہیں ہوگا اور جب مہنگے داموں فصل تیار کرنے کے بعد مارکیٹ میں اسے اپنی خون پسینے کی کمائی کا صحیح معاوضہ نہیں ملے گا، تو وہ زراعت سے کنارہ کش نہیں ہوگا تو اور کیا کرے گا؟

ایک وہ پڑوسی ملک کا کسان ہے جو خلا کی وسعتوں سے لائے گئے جینیاتی طور پر طاقتور بیجوں سے اپنے کھیت آباد کر رہا ہے اور ایک ہمارا کسان ہے جو بنیادی حقوق اور یوریا کھاد کی ایک بوری حاصل کرنے کے لیے لائنوں میں لگ کر لاٹھیاں کھاتا ہے اور ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ ہم دنیا کے سامنے کشکول پھیلائے بیٹھے ہیں، بیرونی قرضوں کے سہارے سانسیں لے رہے ہیں اور عالمی اداروں کی سخت ترین شرائط مان کر اپنے ملک کا روزمرہ کا نظام چلا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف قدرت نے ہمیں پانچ دریا، چار موسم، بہترین نہری نظام، انتہائی زرخیز زمین اور جفاکش کسان کی شکل میں وہ سونا دے رکھا ہے جسے اگر صرف جدید سائنس اور خلوصِ نیت سے جوڑ دیا جائے تو ہمیں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ لیکن اس سونے کو چمکانے کے لیے، اس مٹی سے اناج کے انبار اگانے کے لیے جس وژن، اخلاص اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمارے موجودہ نظام میں دور دور تک مفقود ہے۔ یہاں تو سوچ صرف اور صرف اگلی انتخابی نشست جیتنے، اپنی کرسی بچانے اور مخالفین کو دیوار سے لگانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم اس گہری سیاسی اور فکری نیند سے جاگیں۔ ہمارے فیصلہ سازوں کو اب یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ طویل پریس کانفرنسوں، روزمرہ کی الزام تراشیوں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور مخالفین کے شجرہ نسب کھنگالنے سے کبھی عوام کا پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی اس سے ملکی معیشت کے سوراخ بند ہوتے ہیں۔ اگر چین خلا میں بیج بھیج کر گندم کی پیداوار دگنی کر سکتا ہے، تو ہم خلا میں نہ سہی، کم از کم اپنی زمین پر موجود پانی کو تو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

ہمیں اب روایتی اور پرانے دور کی زراعت کو خیرباد کہنا ہوگا اور جدید زرعی ٹیکنالوجی، کارپوریٹ فارمنگ، معیاری بیجوں کی مقامی سطح پر سائنسی تیاری اور پانی کی منصفانہ تقسیم کی طرف پیش قدمی کرنی ہوگی۔ ہمیں سیاست کے بند اور ٹھنڈے کمروں سے نکل کر کسان کے تپتے ہوئے کھیت، سوکھتے ہوئے دریاؤں اور ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر اب بھی ہم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا، اگر اب بھی ہم اسی طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور فرسودہ سیاسی کھیل میں لگے رہے، تو یاد رکھیے کہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

تاریخ کا پہیہ بہت بے رحم اور منصف ہوتا ہے، جو قومیں وقت کے تقاضوں کو نہیں سمجھتیں اور اپنے نظام کو نہیں بدلتیں، وہ دنیا کے نقشے پر محض ایک بوجھ بن کر رہ جاتی ہیں اور پھر ان کا نام و نشان بھی مٹ جاتا ہے۔ خدا کے لیے اس ملک پر، اس کے غریب عوام پر، اس کے پیاسے کسان پر اور اس کی مقدس مٹی پر رحم کیجیے۔ سیاست کے تماشے بہت ہو چکے، تماشائی بھی اب تھک چکے ہیں، اب ذرا خلا کی رفعتوں کی طرف نہ سہی، تو کم از کم زمین پر موجود اپنے ان سوکھتے ہوئے کھیتوں اور بھوک سے بلکتے ہوئے کسانوں کی طرف تو دیکھیے، جن کی محنت پر آپ کے اقتدار کے محل کھڑے ہیں۔

Check Also

Chand Foot Ki Zindagi

By Irfan Javed