Umar Ke Parao
عمر کے پڑاؤ
گزرتی عمر کا ہر حصہ آدمی کو تخیل میں خود پر غور کرنے کے لیے ٹھیک انہی عادات اور ہو بہو اسی عمر کے عمومی مزاج کے عین مطابق کریکٹر میں ڈھالتا رہتا ہے۔
یہ لائن دوبارہ پڑھیں اور سوچیں۔
تیس سال کی عمر میں انیس سال کی عمر والی شرٹس پسند کیوں نہیں کر رہے؟ یا انیس سال کی عمر والا پینتیس سال کی عمر کو پہنچے شخص کو پسند آنے والے جوتے کیوں نہیں خرید کر پہن رہا؟ مزاج، سوسائٹی، سرکل، روزگار اور اپنی ہی جسمانی ساخت، پسند اور ناپسند کے فیصلے عمر کے کئی پڑاؤ میں مسلسل تبدیل کرواتی رہتی ہے۔
کسی عمر میں آدمی کسی کہانی کو پڑھتے ہوئے اس کا ہیرو ہوتا ہے اور اسی کہانی کو بیس سال بعد پڑھتے ہوئے عمر کے دوسرے یا تیسرے پڑاؤ میں وہ کہانی میں ہیرو کے والدین میں اپنا مزاج دیکھتا ہے، وہ ان سے ریلیٹ کر پاتا ہے۔ وہ مین کریکٹر خود کو سمجھنے سے عاری ہے۔ اس کی موجودہ عادات، امنگیں، ضروریات اور ترجیحات اب مین کریکٹر کے کسی بھی ایکٹ میں نہیں۔ وہ شاید اسے اب اوچھا لگے۔
قصور اس کا نہیں اور مین کریکٹر بھی اوچھا نہیں۔ یہ عمروں کے بیچ پڑا گہرا شگاف ہے جو اس قدر شدید بدلاؤ جیسی واردات کر گیا ہے۔
ایک عمر میں ہم کسی رائٹر کی آنکھ میں اس کی کہانی کا جوان کردار بھی گزرے ہوتے ہیں۔ ہم نے اسے پورا ناول اپنے گرد لکھنے کے لیے متاثر کیا ہوتا ہے اور پھر۔۔ عمر کے دوسرے، تیسرے پڑاؤ میں ہم کسی دوسرے رائٹر کے قلم کے لیے فقط ایکسٹرا بن جاتے ہیں، جسے بیان کرنے کے لیے رائٹر کو زیادہ سوچنا نہ پڑے، کیونکہ ہم زیادہ متاثر کرنے کے لیے اب اس کی کہانی کا حصہ نہیں رہے۔ اس کے الفاظ سرسری سے ہو کر ہمیں بیان کرنے کے لیے گزرتے ہیں، جیسے:
"ایک ادھیڑ عمر کی عورت اپنی بغل میں چھتری دبائے کیفے میں داخل ہوئی"۔
"بالوں سے بےنیاز ایک شخص اپنا چشمہ صاف کرنے کو سڑک کے کنارے پر رکا"۔
وہ ادھیڑ عمر کی عورت کبھی شوخ مزاج لڑکی رہی ہوگی، جس کی ایک جھلک میں کتنے دل وحشی ہوئے ہوں گے۔ اس کے جسم کا نمک چکھنے کو کتنے لبوں پر پڑی خشک زبانیں ترسی ہوں گی۔ وہ کئی خوابوں، خیالوں اور تخلیوں میں خوشگواری کا محور رہی ہوگی، مگر اب وہ ایک عورت ہے، جس کی بغل میں چھتری ہے، جو رائٹر کی کہانی میں فقط ایک جملے کی جگہ بنا پائی ہے۔ وہ جملہ جو کہانی کی روانی برقرار رکھنے کو، مرکزی کردار کے گرد مناظر کو زندگی دینے کو استعمال ہو، جسے قاری پڑھتے ہوئے غیر ضروری جانے، تخیل میں جگہ نہ دے۔
عمر کا یہ پڑاؤ اس مرد پر کیسے گزرتا ہو، جو اب تو بالوں سے بےنیاز اپنا چشمہ صاف کر رہا ہے، مگر عمر کے کسی ایک پڑاؤ پر کسی پلے گراؤنڈ پر وہ جب فٹ بال کو اپنی پھرتیلی ٹانگوں سے بھگاتا تھا، تو ہوا میں جھولتے اس کے بال کتنے سامعین کی آنکھوں کو بھلے لگتے تھے، ان کی یادداشت میں اٹکی کسی مووی کے ہیرو کا گمان بھر دیتے تھے، مگر یہ عمر کا پڑاؤ۔۔
ہماری صحبتیں، عادتیں، خواہشیں عمر کے کسی دوسرے پڑاؤ میں اس قدر بدل جانے کو تیار ہیں کہ جن کے لیے ہم اس عمر کے پڑاؤ میں ذرا سا بھی بےفکر نہیں، مگر ایک بات طے ہے کہ کسی رائٹر کی کہانی ہماری ہی عمر کے کسی پڑاؤ سے گزر کر آگے سرکتی رہے گی۔۔ ہم کسی دوسرے تیسرے پڑاؤ پر شاید ختم ہو جائیں۔

