Imam Khamenei Isteqamat Ka Ehad (1)
امام خامنہ ای استقامت کا عہد (1)

وَقُلِ اعُمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمُ وَرَسُولُهُ وَالُمُؤُمِنُونَ اور کہہ دیجیے عمل کرتے رہو پھر اللہ اس کا رسول اور اہلِ ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے (سورۃ التوبہ: 105)
تاریخ ایک عجیب عدالت ہے یہاں نہ جج نظر آتے ہیں نہ وکیل نہ گواہ یہاں صرف وقت گواہی دیتا ہے وہی وقت جو کبھی کسی کے ماتھے پر تاج سجاتا ہے اور کبھی اسی تاج کو مٹی میں دفن کر دیتا ہے تخت بدلتے ہیں سلطنتیں بکھر جاتی ہیں نقشے تبدیل ہو جاتے ہیں مگر کردار اگر تاریخ کے سینے پر اپنا نقش چھوڑ جائے تو صدیوں بعد بھی اس کا نام زیرِ بحث رہتا ہے۔ جب ہم معاصر مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو چند شخصیات بار بار ہمارے سامنے آتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام کا بھی ہے تقریباً چار دہائیوں سے وہ ایران کے اعلیٰ ترین آئینی منصب پر فائز ہیں۔ ان کے حامی انہیں استقامت، خودمختاری اور انقلابی فکر کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ ناقدین ان کی بعض داخلی اور خارجی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہیں یہی اختلاف اس شخصیت کو مطالعے کے قابل بناتا ہے۔
یہ سلسلہ کسی شخصیت کی عقیدت میں لکھا جا رہا ہے نہ مخالفت میں یہ ایک ایسے رہنما کے سیاسی فکری اور تاریخی سفر کو سمجھنے کی کوشش ہے جس نے اپنے ملک اور پورے خطے کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ کسی بھی رہنما کو سمجھنے کے لیے صرف نعروں یا الزامات پر انحصار کافی نہیں ہوتا اس کے زمانے حالات فیصلوں اور نتائج کا مطالعہ بھی ضروری ہوتا ہے ہر بڑا رہنما پہلے ایک عام انسان ہوتا ہے وہ بھی ایک گھر میں پیدا ہوتا ہے۔ بچپن گزارتا ہے تعلیم حاصل کرتا ہے اپنے عہد کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اور پھر انہی حالات کے اندر اپنے راستے کا انتخاب کرتا ہے یہی انتخاب بعد میں اس کی شخصیت کی پہچان بنتا ہے۔
امام خامنہ ای کی کہانی بھی مشہد کی ایک سادہ مگر علمی فضا سے شروع ہوتی ہے ایک ایسے گھر سے جہاں دولت کم تھی مگر علم کی روشنی زیادہ تھی یہی روشنی آگے چل کر ان کی فکری تشکیل کا حصہ بنی پھر وہی نوجوان ایران کی انقلابی تحریک کا کارکن بنا گرفتاریوں اور دباؤ کا سامنا کیا انقلاب کے بعد مختلف ریاستی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ صدرِ ایران منتخب ہوئے اور بالآخر ملک کے سپریم لیڈر بنے لیکن کسی شخصیت کا مطالعہ صرف عہدوں کی فہرست سے مکمل نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے ان عہدوں کو کس طرح نبھایا اس کے فیصلوں نے اپنے ملک اور خطے پر کیا اثرات چھوڑے اور اس کے حامی و ناقد اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
اسی لیے اس سلسلے میں ہم صرف واقعات نہیں لکھیں گے بلکہ ہر واقعے کے پس منظر اس کے سیاسی مفہوم اور اس کے تاریخی اثرات پر بھی گفتگو کریں گے ہم جہاں سادگی استقامت اور مزاحمت کے بیانیے کا جائزہ لیں گے وہیں اختلافی آراء اور تنقیدی نقطۂ نظر کو بھی نظرانداز نہیں کریں گے تاکہ قاری کے سامنے زیادہ متوازن تصویر آ سکے۔ کسی بھی رہنما کا اصل قد اس کے حامیوں کی تعریف یا مخالفوں کی تنقید سے متعین نہیں ہوتا تاریخ اس کے فیصلوں اس کے کردار اور اس کے عہد کے اثرات کو تولتی ہے اسی لیے تاریخ کا مطالعہ جذبات سے نہیں دیانت داری سے کرنا چاہیے۔
تاریخ جب کسی شخصیت کا تعارف لکھتی ہے تو وہ اس کے نام سے نہیں اس کے کردار سے آغاز کرتی ہے بعض لوگ اپنی زندگی میں ہی تاریخ بن جاتے ہیں اور بعض تاریخ کے صفحات میں گم ہو جاتے ہیں اقتدار، دولت، شہرت اور طاقت انسان کو وقتی عظمت تو دے سکتے ہیں، مگر ہمیشہ زندہ رہنے کا اعزاز صرف کردار نظریے اور استقامت کو ملتا ہے امام خامنہ ای کی زندگی بھی ایک ایسے سفر کی کہانی ہے جو ایران کے مقدس شہر کی ایک سادہ گلی سے شروع ہوا۔
19 اپریل 1939ء کو ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے اس بچے نے شاید خود بھی یہ تصور نہ کیا ہوگا کہ ایک دن اس کا نام مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اسلامی فکر اور عالمی سفارت کاری کے اہم ترین ابواب میں لکھا جائے گا ان کے والد، ایک باوقار عالمِ دین تھے گھر میں سادگی تھی مگر علم کی دولت بے حساب تھی اسی ماحول نے ان کے اندر مطالعے، عبادت نظم و ضبط اور دینی شعور کی بنیاد رکھی انہوں نے ابتدائی تعلیم مشہد میں حاصل کی پھر حوزۂ علمیہ میں فقہ، اصول، حدیث، تفسیر اور فلسفے کی تعلیم حاصل کی بعدازاں قم کے علمی مراکز میں انہوں نے ممتاز علماء سے استفادہ کیا اور ان کی فکری شخصیت مزید نکھر گئی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایران میں شاہی حکومت کے خلاف بے چینی بڑھ رہی تھی نوجوان علی خامنہ ای نے صرف کتابوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرے کے مسائل، سیاسی حالات اور اسلامی بیداری کی تحریکوں میں دلچسپی لینا شروع کی اس جدوجہد کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی گرفتاری نگرانی، پابندیاں اور جیل ان کی زندگی کا حصہ بنے لیکن انہوں نے اپنے راستے سے دستبردار ہونے کے بجائے اسے مزید مضبوطی سے اختیار کیا۔
1979ء میں کامیاب ہوا تو ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا انقلاب کے بعد انہیں مختلف قومی ذمہ داریاں سونپی گئیں وہ اسلامی انقلابی کونسل کے رکن بنے نائب وزیرِ دفاع مقرر ہوئے دفاعی اداروں کے ساتھ اہم کردار ادا کیا تہران کے امامِ جمعہ مقرر ہوئے پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور کے دوران اعلیٰ دفاعی سطح پر ذمہ داریاں نبھائیں 1981ء میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے آٹھ برس تک ان کی صدارت ایک ایسے دور میں رہی جب ایران جنگ، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی جیسے بڑے چیلنجوں سے گزر رہا تھا۔
1989ء میں امام خمینی کے انتقال کے بعد نے انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا اس منصب پر ان کی ذمہ داری صرف ایک حکومت چلانے کی نہیں بلکہ ایران کے آئینی دفاعی اور نظریاتی نظام کی اعلیٰ نگرانی کی بھی ہے۔
ان کی شخصیت پر آراء مختلف ہیں ان کے حامی انہیں مزاحمت خودمختاری اور نظریاتی استقامت کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ ناقدین ان کی بعض داخلی اور خارجی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کا مطالعہ ایک ہی زاویے سے نہیں کیا جا سکتا ہر بڑے رہنما کا اصل امتحان یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے برس حکومت کی بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے نظریات اپنے عوام اور اپنے فیصلوں پر کتنا اثر چھوڑا یہی وجہ ہے کہ کچھ شخصیات اپنے دور کے بعد بھی گفتگو کا حصہ رہتی ہیں وقت گزر جائے گا حکومتیں بدل جائیں گی سیاسی نقشے تبدیل ہو جائیں گے مگر تاریخ ہمیشہ ایک سوال پوچھے گی کیا یہ رہنما اپنے اصولوں پر قائم رہا؟ کیا اس نے اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا یا اسے ایک امانت سمجھا؟
یہ سوال صرف امام خامنہ ای کے بارے میں نہیں بلکہ ہر اس شخص کے بارے میں ہے جس کے ہاتھ میں اقتدار اختیار یا قیادت کی ذمہ داری آتی ہے تاریخ کا قلم آخرکار دولت کا حساب نہیں لکھتا کردار کا حساب بھی لکھتا ہے اور خوب لکھتا ہے۔
جاری ہے۔۔

