Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Iqbal Wattoo
  4. Mere Naseeb Ki Barishen

Mere Naseeb Ki Barishen

میرے نصیب کی بارشیں

حالیہ ریسرچ بتاتی ہے کہ صرف جنوبی پنجاب اور سندھ کے 6 اضلاع سے ہی ایک مون سون کے سیزن میں تربیلا ڈیم کے حجم سے ملتا جُلتا پانی اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پتہ نہیں پاکستان میں پانی کی کمی کا واحد حل دریاؤں میں بارڈر پار سے آنے والے پانی کو ہی سمجھا جاتا ہے اور ہمارے نصیب کو جو بارشیں چھتوں گلی محلے کھیتوں میں پانی برساتی ہیں اس پانی کو سنبھالنے پر کوئی دھیان نہیں۔

محکمہ موسمیات کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ پنجاب کے 40 میں سے 32 اضلاع میں پچھلے 15 سال میں بارشیں اوسط سے زیادہ ہورہی ہیں۔ کچھ اضلاع میں تو ہر سال زیادہ بارش ہونے کا ریکارڈ ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔

دوسری طرف محکمہ موسمیات کا یہی ریکارڈ بتا رہا ہے کہ پچھلے دس سال میں منگلا اور تربیلا ڈیم میں آنے والا پانی اوسط سے سال بہ سال کم ہورہا ہے۔

لیکن اتنے واضح ریکارڈ اور نمبروں کے ہوتے ہوئے بھی ابھی تک ہم ہمیشہ منگلا اور تربیلا ڈیمز کے سپل وے چلنے یا ڈیڈ سٹوریج تک پہنچنے کی بات کرتے ہیں یا پھر سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر تڑیاں لگاتے ہیں اور کانفرنسیں بھی کرتے ہیں یا ہماری یونیورسٹیوں میں ریسرچر گلیشئیرز اور برف کے پگھلنے کے عمل آنے والے پانی پر متعلق ریسرچ کرتے ہیں۔

لیکن ہماری چھتوں پر جو ہرسال موسلادھار ساون برستا ہے، جو 3 ماہ مون سون بارشیں ہوتی ہیں اس کے پانی سے ہم مسئلے کا حل کیوں نہیں سمجھتے؟ کیوں ادھر دھیان نہیں؟ حالانکہ پنجاب اور سندھ کے اکثر اضلاع میں رین واٹر ہارویسٹنگ (بارشی پانی کی جمع کرنے) کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔

کوئی علاقہ رین واٹر ہارویسٹنگ کے لیے سب سے زیادہ موزوں تب ہوتا ہے جب یہ:

1-ڈھلانوں کی بجائے ہموار ہوتاکہ پانی بہت آہستہ سپیڈ سے اس پر چلے۔

2-اس کی مٹی زیادہ تر موٹے ذرات یا ریتلی قسم کی ہو اور

3-سبزہ جھاڑیاں وغیرہ موجود ہو جن کے درمیان خالی قطعات میسر آئیں۔

یہ ساری خصوصیات نہ صرف جنوبی پنجاب اور سندھ کے اضلاع میں ہیں بلکہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے 6 اضلاع میں تو بارش کی مقدار بھی بتدریج بڑھ رہی ہے اور ریسرچرز کے مطابق 15 ملیئن ایکڑ زمین سے بارش کا پانی اکٹھا کیا جاسکتا ہے (کل زمین 23 ملیئن ایکڑ ہے)۔

یہ 6 اضلاع رحیم یار خان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، جام شورو، دادو اور تھرپارکر ہیں۔

بڑے ڈیموں کے بننے پر تنازعات کی موجودگی، بارڈر پار سے آنے والی دریاؤں کے پانی پر نت نئی پابندیوں اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بے یقین طوفانی بارشوں کے ہوتے ہوئے اب ہمیں پاکستان کے رین واٹر ہارویسٹنگ پوٹینشئیل کو اپنی مستقبل کے پانی محفوظ کرنے کے منصوبوں کا ایک لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

ان منصوبوں کا فائدہ یہ ہے کہ یہ نہ صرف ایک بڑے علاقے کو فائدہ پہنچائیں گے بلکہ اربن فلڈنگ اور قدرتی آفات کی شدت کو بھی کم کریں گے۔ یہ ماحول دوست منصوبے اکثر کم خرچ اور مقامی طور پر بنائے جاسکیں گے۔

تاہم فی الوقت تو ہم بارش ہونے کے دوران توپکوڑے بنانے پر زور دیتے ہیں اور پھر گلیوں میں بارش کے پانی کا نکاس نہ ہونے پر شور مچاتے ہیں۔

Check Also

Umar Ke Parao

By Sondas Jameel