خاک، خواب اور خستہ بیوروکریسی

قانون اور اداروں کی نام نہاد چھتری تلے سانس لیتے ایک مخدوش سماج میں جب چودہ معصوم وجود مٹی کے کسی اندھے ڈھیر سے برآمد ہوتے ہیں، تو وہ محض گوشت اور ہڈیوں کا زیاں نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسے عمرانی معاہدے کی راکھ بن جاتے ہیں جس پر بیوروکریٹک رعب داب اور نوآبادیاتی مائنڈ سیٹ کی دیمک دہائیوں سے لگی ہوئی ہے۔ کسی عمارت کی چھت کا گرنا یا کسی نجی اکیڈمی کا ملبے میں تبدیل ہونا بظاہر چند سیکنڈ کا طبیعیاتی واقعہ نظر آتا ہے، مگر اس کا اصل اسکرپٹ اس وقت لکھا جاتا ہے جب ریاست اپنے بنیادی فرائض سے چشم پوشی اختیار کرکے صرف ٹیکس وصولی اور اشتہاری بورڈز پر تادیبی اختیارات کے استعمال تک محدود ہو جاتی ہے۔
یہ ڈھانچہ، جو کامیابیوں کے جھوٹے اشتہارات کا کریڈٹ لینے کے لیے ٹی وی اسکرینوں پر ترجمانوں کی فوج ظفر موج کی صورت نمودار ہوتا ہے، دراصل اس فکری اور ساختاتی اندھے پن کا شکار ہے جہاں اقتدار کو صرف اختیار، سمجھ کر جواب دہی کے تصور کو مابعد الطبیعیاتی ابہام کی نذر کر دیا گیا ہے۔ جب جمہوریت شہریوں کے تحفظ کی پہلی شرط سے منحرف ہو جائے، تو کنکریٹ کے پل، فلائی اوورز اور میٹرو بسیں محض وہ سستا میک آپ بن کر رہ جاتی ہیں جو اندرونی انتظامی سڑاند کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہو اور یوں ملبے تلے سسکتی انسانیت کا حساب مانگنے والا کوئی نہیں رہتا۔
ترقی یافتہ دنیا میں جب گرینفیل ٹاور جیسی آتشزدگی کا سامنا ہو یا سیول فیری جیسے المیے جنم لیں، تو وہ معاشرے ان حادثات کو ایک دردناک جراحت (Systemic Surgery) کے طور پر قبول کرتے ہوئے عمارتی قوانین اور حفاظتی پروٹوکولز کی ازسرنو تعمیر کرتے ہیں، جبکہ ہمارے انتظامی جغرافیے میں سانحات کا ایک لامتناہی دائرہ (Vicious Cycle) ہے جو چکوال کی اسکول بس سے لے کر ساہیوال کے المیوں اور سڑکوں پر کھلے مین ہولز تک ہر چند سال بعد خود کو دہراتا رہتا ہے۔
بلدیاتی ادارے جو مکان کی ایک اینٹ کے اضافے پر رشوت کا بازار گرم کرنے کے لیے فوری متحرک ہو جاتے ہیں، وہ ایک مخدوش درسگاہ کی خستہ حالی سے اس لیے بے خبر رہتے ہیں کیونکہ ان کی آنکھیں صرف وہیں کھلتی ہیں جہاں سے کوئی مالی فائدہ یا ہوسِ اقتدار کی تسکین ممکن ہو۔ یہ خرابی کسی ایک پرزے کی غفلت نہیں، بلکہ پورے انجن کی ساختاتی تباہی کا پتا دیتی ہے، جہاں غفلت برتنے والے بیوروکریٹس کو معطل کرکے کچھ عرصے بعد کسی دوسرے پرکشش عہدے پر فائز کر دیا جاتا ہے اور اصل ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا تصور محض خواب و خیال بن کر رہ جاتا ہے۔
سب سے بڑا فکری المیہ یہ ہے کہ اس دورِ قحط الرجال میں ہم نے ان متواتر المیوں کے ساتھ ایک مجرمانہ بقائے باہمی (Coexistence) کا غیر اعلانیہ معاہدہ کر لیا ہے، جہاں عوامی یادداشت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر غفلت کے مرتکب عناصر بخوبی جانتے ہیں کہ چند دن کا ٹی وی واویلا جلد ہی کسی نئے سیاسی تماشے یا سنسنی خیز خبر کی نذر ہو جائے گا۔ یہ اجتماعی فراموشی (Collective Amnesia) کسی زندہ معاشرے کے ضمیر کی موت کا حتمی اعلان ہے، جہاں تماشائی بننے کی بدترین لت نے ہمیں اس گہری خاموشی کی طرف دھکیل دیا ہے جو اگلے حادثے کے لیے ایندھن کا بندوبست کرتی ہے کیونکہ جب سزا کا خوف مٹ جائے تو غفلت ہی نیا قومی معمول بن جاتی ہے۔ غفلت برتنے والے مالکان اور ان کے پشت پناہ افسران اس سچائی سے واقف ہیں کہ یہاں پرانی قبروں پر مٹی ڈالنے کی رفتار نئے سانحات کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے، اسی لیے انصاف کی طلب محض ایک جذباتی سراب بن کر رہ گئی ہے۔
جب کوئی ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتے وقت سہم جائے اور کوئی باپ ملبے کی خبر سن کر لرز اٹھے، تو پارلیمان کی قانون سازی، عدالتوں کا وجود اور ریاست کی بقا کا پورا جواز ہی ایک تازیانے کی صورت ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے جس کا جواب محض روایتی تعزیتی بیانات یا نمائشی تحقیقاتی کمیٹیوں کے پاس نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عمارتی قوانین کی خلاف ورزی اور مجرمانہ چشم پوشی کو ریاست کے خلاف سنگین جرم تسلیم کرتے ہوئے ایک بے لچک اور بے رحم احتساب کا نظام وضع کیا جائے جو بیوروکریسی کے ان کل پرزوں کو معطلی کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دے۔ جن ماؤں کی گودیں ان چودہ چراغوں کے بجھنے سے ہمیشہ کے لیے اجڑ چکی ہیں، ان کا مداوا تو ممکن نہیں، لیکن اگر اب بھی اس بوڑھے، ناکارہ اور سڑے ہوئے نظام کی مکمل اوور ہالنگ نہ کی گئی، تو وہ دن دور نہیں جب اگلا المیہ ہماری دہلیز پر دستک دے گا اور ہم حسبِ روایت صرف ملبہ ہی اٹھا رہے ہوں گے، نظام نہیں۔

