Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Irfan Javed
  4. Chand Foot Ki Zindagi

Chand Foot Ki Zindagi

چند فُٹ کی زندگی

نواب آف کالا باغ کے سامنے اُس وقت کے صدر ایوب خان بھی خاموش ہوجاتے تھے۔ جب نواب صاحب مغربی پاکستان کے گورنر تھے تو قیمتوں اور جرائم پر مثالی قابو رکھتے تھے، سفارش سنتے تھے اور نہ ہی کرپشن کا کوئی داغ اُن کے دامن پر تھا۔ ان کا جلال اور انتظامی صلاحیت مثالی تھے۔ سو اُن کے قتل کی خبر پورے ملک میں بھونچال لے آئی۔ اُن کے بیٹے نے غصّے میں نواب صاحب کو گولی مار دی تھی۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ انھوں نے کھیل کا چست اور مختصر لباس پہننے پر اپنی بہو کو ڈانٹا تھا۔ بیٹا اپنی بیوی کی بے عزتی سہ نہ سکا اور باپ کو قتل کردیا۔ نواب صاحب کو گمان بھی نہیں ہوگا کہ ابھی تو انھوں نے چھوٹی سی بات پر اہلِ خانہ پر غصہ کیا ہے، آیندہ زمانوں میں کیا کیا کچھ ہونے والا ہے۔

خیر یہ تو لمحاتی غصے میں بیٹے کے باپ کو قتل کرنے کا واقعہ تھا۔

تاریخ کی آنکھیں اپنوں کی بے مروّتی پر آنسو بہا کر اندھی ہوچکی ہیں۔

طاقت، اختیار، اقتدار کیسے آدمی کو بے وفا اور بے حیا کر دیتے ہیں۔ باپ کی طاقت اولاد میں ہوتی اور بیٹوں کی طاقت کا سرچشمہ باپ ہوتا ہے مگر وہ باپ کے خلاف درندے ہوجاتے ہیں۔ اللہ اللہ انسان بھی کیا کوتاہ نظر اور خود غرض مخلوق ہے۔ شاید یہ ترکیب بھی غلط ہے کہ کوئی درندہ بھی اپنا باپ نہیں مارتا۔

تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں بیٹوں نے باپوں کو پابندِ سلاسل کیا یا قتل ہی کروا ڈالا۔ ہماری اپنی تاریخ کے اورنگ زیب عالم گیر نے جاں نشینی کی جنگ کے بعد اپنے بوڑھے باپ شاہ جہاں کو آگرہ کے قلعے میں یوں محبوس و قید رکھا کہ باپ کے خون کے آنسو بھی خشک ہوگئے۔ تاریخ اُلٹے قدموں چلتی ہے تو محمد بن تغلق پر آن ٹھیرتی ہے جس نے، بعض مورخین کے خیال میں اپنے والد محمد بن تغلق کی موت کا انتظام ایک عارضی محل کی زمین بوسی کی صورت کیا تھا۔

تاریخ برصغیر سے قدم باہر نکالتی ہے تو حضرت داؤدؑ پر رُک جاتی ہے۔ عبرانی انجیل مقدس کے مطابق ان کے بیٹے ابشا لوم نے اپنے باپ پر تلوار اٹھائی تھی۔

تاریخ کے سرخ قدم الٹے چلتے ہیں تو پانچویں صدی قبل مسیح کے ہندوستان پر آکر ٹھٹھک کر جم جاتے ہیں۔ بُدھ اور جین روایات کے مطابق اجات شترو نے اپنے تخت نشین والد بمبسار کو ایسے قید کیا تھا کہ وہ بھوک سے مرگیا اور اُس کے مردہ بدن کا سر اُڑا دیا گیا تھا۔ اجات خود تخت پر بیٹھا تھا جب باپ قیدِ زنداں میں تھا۔

تاریخ کی نظروں کے سامنے پوری فلم چلتی ہے جس میں سلطنتِ عثمانیہ کا سلیم اوّل اپنے والد بایزید ثانی کو جلاوطن کرتا ہے جہاں اُس کی موت ہوجاتی ہے، سلجوتی شہزادے اپنے باپوں کے خلاف تلواریں سونتے کھڑے نظر آتے ہیں تو یورپ کے لاڈلے بیٹے اپنے باپوں کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں۔

فلم اِدھر نہیں رکتی، چند، بہت کم، مناظر ایسے بھی نظر آتے ہیں جہاں تخت پر براجمان باپوں نے اپنے ناخلف بیٹے مروا دیے۔ سلطان سلیمان نے اپنے باغی بیٹے بایزید کو مروایا تو روسی زار ایوان (خوف ناک) نے غصے کی حالت میں اپنے بیٹے ایوان ایوانووچ کے سر میں ایسے لاٹھی کی ضرب لگائی کہ وہ چند روز زخمی رہنے کے بعد مرگیا، روس ہی کے زار پیٹراعظم نے اپنے بیٹے الیکسی کو اپنی اصلاحات کی مخالفت پر قید کروا دیا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی۔ یہودیہ کے بادشاہ ہیروڈ اعظم نے اپنے دو بیٹوں کو غداری پر سزائے موت دے دی تھی۔

باپوں کے دل تو شاید بیٹوں کو سزائیں دیتے ہوئے کانپے ہوں، بیٹوں کے ہاتھ بھی باپوں کے پروانہ ہائے موت پر دست خط کرتے ہوئے شاید ٹھٹھکے ہوں مگر جب بھائی بھائیوں کے خلاف کھڑے ہوئے تو کسی لحاظ اور کسی حیا نے اُن کے قدم نہ تھامے۔

برصغیر کے پہلے عظیم شہنشاہ موریہ سلطنت کے اشوک اعظم نے اپنے بھائی قتل کروا دیے تو ہمارے اپنے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے نہ صرف اپنے بھائی دارا شکوہ کو قتل کروایا بلکہ بھائی مراد بخش کو بھی زنداں میں مروا دیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے سلطام محمد سوم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے سارے بھائی مروا دیے تاکہ جاں نشینی کا تنازعہ ہی نہ اُٹھے۔ قدیم مصر کے بطلیموس خاندان میں نہ صرف بھائی بھائیوں کو قتل کرواتے تھے بلکہ اپنی بہنوں سے شادیاں بھی کرتے تھے، یوں اقتدار اُن کے بیچ ہی رہتا۔ آج بھی بھائی بہن کی جائداد پر قابض ہوجاتا ہے اور بھائی بھائی کی گردن اُڑا دیتا ہے۔

ہم نے تو کار زارِ سیاست میں سگے بھائیوں کو باہم دست و گریباں دیکھا ہے، ایک ایک فٹ کی زمین کی خاطر (خصوصاً اولاد جوان ہونے کے بعد) قتل کرتے دیکھا ہے اور ستم ظریفی حالات دیکھیے کہ قاتل و مقتول بھائیوں کو بالآخر برابر میں دفن ہوتے بھی دیکھا ہے۔

آدمی کی بدنصیبی ہے کہ وہ سمجھتا ہے "ابھی میرے پاس وقت ہے" وہ سمجھتا ہے کہ وہ لامحدود مدت کے لیے اقتدار اور جائدادسے لطف اندوز ہوتا رہے گا۔ جب کہ عشرے گھنٹوں اور برس لمحوں میں گزر جاتے ہیں۔ آدمی چلتا چلتا یوں قبر کے کنارے پر آن کھڑا ہوتا کہ حیران رہ جاتا ہے۔ گیا وقت خواب لگتا ہے اوراُس کے ہاتھ میں تاسف کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔ آہ، وقت کی طویل فلم میں آدمی کی چند فُٹ کی زندگی! کتنا کوتاہ نظر ہے آدمی اور کتنا بے رنگ ہے آدمی کا خون۔

Check Also

Imam Khamenei Isteqamat Ka Ehad (1)

By Shair Khan