Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Junaid Safdar Ki Shadi Aur Social Media Trolls

Junaid Safdar Ki Shadi Aur Social Media Trolls

جنید صفدر کی شادہ اور سوشل میڈیا ٹرولز

کچھ عرصہ پہلے بھارت میں امبانی خاندان کے چشم و چراغ کی شادی ہوئی، جس پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ دنیا بھر سے نامور شخصیات کو مدعو کیا گیا اور ان تقریبات کی بھرپور تشہیر بھی کی گئی۔ اگرچہ اس اسراف پر تنقید ضرور ہوئی، خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں جہاں غربت آج بھی ننگے پاؤں چلتی ہے مگر امبانی خاندان کو عوامی غصے کا شدید سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک خالص کاروباری خاندان ہے جسے اپنی کمائی اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا حق حاصل ہے۔ سوشل میڈیا پر چند کم ظرف لوگوں نے باڈی شیمنگ بھی کی، لیکن ایسا طبقہ ہر معاشرے میں پایا جاتا ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

اس کے برعکس پاکستان میں شریف خاندان کی صورتِ حال مختلف ہے۔ جنید صفدر کی دوسری شادی ان کا ذاتی معاملہ تھا اور انہیں یہ حق حاصل ہے، مگر چونکہ یہ خاندان برسوں سے اقتدار میں ہے، اس لیے اس شاہانہ تقریب پر شدید تنقید ہونا فطری تھا۔ اگر یہ خاندان سیاست میں نہ ہوتا اور صرف ایک کاروباری پس منظر رکھتا تو شاید ردِعمل اتنا سخت نہ ہوتا۔ مسئلہ شادی کرنا نہیں، ضرور ہونی چاہئیے، ضرور کریں بلکہ مسئلہ اس کی تشہیر کرنا تھی۔ اگر تصاویر اور ویڈیوز میڈیا اور سوشل میڈیا پر خود جاری نہ کی جاتیں تو تنقید کا دائرہ بھی محدود رہتا۔ دنیا کے کسی بھی ملک، حتیٰ کہ کسی مہذب معاشرے میں بھی اگر کوئی حکمران خاندان اس طرح لائف سٹائل کی نمائش کرتا تو وہاں بھی عوامی ری ایکشن شدید آتا۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ عوام کبھی بھی حکمرانوں سے مطمئن یا خوش نہیں ہوتے۔

اقتدار میں موجود خاندان کی ہر حرکت عوام کی نظر میں ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں سیاسی پولرائزیشن انتہا کو پہنچی ہوئی ہو اور اقتدار عوامی تائید کے بجائے بندوبست کے ذریعے ملا ہو، وہاں غیر معمولی احتیاط ناگزیر ہوتی ہے۔ ایسی حساس فضا میں یہ قدم خود ایک سیاسی بلنڈر ثابت ہوا۔ ایسے ملک میں جہاں آپ دہائیوں سے وقفے وقفے کے ساتھ اقتدار میں رہے اور جہاں اب آپ کو اقتدار میں جیسے بٹھایا گیا اس سب کے بعد آپ پر احتیاط ہزار گنا زیادہ لازم تھی۔

ردِعمل دینے والوں میں وہ طبقہ بھی شامل تھا جو شریف خاندان سے محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ شدید نفرت رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کو بس ایک موقع درکار ہوتا ہے اور یہ موقع انہیں خود فراہم کر دیا گیا۔ اخلاق سے گرے ہوئے اور گھٹیا تبصروں کی کوئی توجیہہ نہیں مگر سوال یہ بھی ہے کہ ایسے معاشرے میں آپ نے اپنی نمود و نمائش سے خود کو اس گھٹیاپے کے لیے کیوں پیش کیا؟ سیاسی نفرت میں مبتلا لوگوں سے آپ کی سادہ صورت برداشت نہیں ہوتی وہ سجی سنوری صورتیں کیسے برداشت کر لیتے؟ بدزبان تبصرہ کرنے والوں کی تربیت پر تو سوال اٹھتا ہی ہے مگر حکمرانوں کو بھی اپنی حرکات اور ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں شریف خاندان نے اپنی پگڑی خود ہی مخالفین کے ہاتھ تھمائی ہے اور مخالفین بھی سوشل میڈیا ٹرولز ہیں۔ شریف خاندان سوشل میڈیا اور آج کی پاور ڈائنامکس کو نہیں سمجھ پا رہا۔

Check Also

Junaid Safdar Ki Shadi Aur Social Media Trolls

By Syed Mehdi Bukhari