Apne Tehwaron Ko Brand Banayen
اپنے تہواروں کو برانڈ بنائیں

دو لاکھ سیاح لاہور میں اُترے۔ لاکھوں گاڑیاں شہر میں داخل ہوئیں۔ ہر روز کراچی سے لاہور تئیس پروازیں لینڈ کرتی رہیں۔ لگ بھگ بیس ارب روپے کا پہیہ گھوما جس میں ہوٹلنگ، کھانے، ایونٹ مینجمنٹ یا فیسٹیولز، ٹول ٹیکسز، پتنگ و ڈور کی شاپنگ وغیرہ شامل ہیں۔ ہوٹل بھر گئے، ریسٹورنٹس میں ویٹنگ لگی، چھتوں پر رونقیں، گلیوں میں شور، بازاروں میں پتنگیں، ڈوریں، مانجھے، کھانے، مشروبات، ٹول پلازوں پر قطاریں اور سوشل میڈیا پر سیلفیاں۔ یعنی مختصراً لاہور نے تین دن کے لیے خوشی کا سانس لیا۔
مگر ہمارے ہاں جب بھی کوئی ثقافت یا شہر سانس لینے کی کوشش کرتا ہے تو کچھ لوگوں کو فوراً سانس کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بار گردن پر ڈور پھرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ہاں، چھتوں سے گرنے کے واقعات ہوئے اور ان میں دو افراد جان سے گئے۔ ایک نوجوان، جو پتنگ لوٹنے کے شوق میں کھمبے پر چڑھا اور کرنٹ کا شکار ہوگیا۔ دوسرا ایک اسپورٹس رپورٹر جو بے دھیانی میں چھت سے گر پڑا۔ یہ دونوں واقعات یقیناً افسوسناک ہیں مگر سوال یہ ہے کیا ہر انسانی لاپرواہی کا ذمہ بھی انتظامیہ پر ڈال دیا جائے؟ کیا اب حکومت ہر شہری کی چھت پر خود جا کر جنگلہ لگائے؟ کیا ہر کھمبے کے ساتھ ایک سرکاری اہلکار بھی متعین کیا جائے؟ یہ منطق اگر مان لی جائے تو پھر موٹر وے پر اوور اسپیڈ کرنے والے کی گاڑی بھی حکومت خود چلائے اور سگنل توڑنے والے کے ساتھ ٹریفک وارڈن بھی پچھلی سیٹ پر بٹھایا جائے۔ محض سیاسی مخالفت میں کچھ لوگوں کی عقل بھی چھُٹی پر چلی گئی۔ بھئی آپ نے چھت پر جانا ہے تو اپنا دھیان یا خیال تو خود رکھنا ہے ناں۔
محض سیاسی مخالفت میں بسنت کو لے کر جو واویلا کیا جا سکتا تھا وہ پورا کیا گیا۔ فیک نیوز کا وہی پرانا دھندہ، وہی واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر، وہی یوٹیوب کے خود ساختہ دانشور، وہی فیس بک کے انقلابی جن کی انقلابی سرگرمیوں کا اختتام ہمیشہ "لائک، شیئر اور سبسکرائب" پر ہوتا ہے۔ سب نے مل کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بسنت ایک خطرناک تہوار ہے اسے بند ہونا چاہیے۔ بلکہ خوشی پر پابندی لگنی چاہیے اور صرف سوگ و احتجاج اس ملک میں جائز عمل ہے اس کے سوا کچھ دل کو نہیں بھاتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک وہ طبقہ بھی ہے جو یورپی تہوار ہوں، امریکی ہالووین، ویلنٹائن ڈے، نیو ایئر نائٹ اور نہ جانے کن کن بیرونی تہواروں پر فخر سے تصویریں اپلوڈ کرتے ہیں۔ سپین کی بُل ریس میں شرکت کی سیلفی ہو تو یہ ماڈرن ہے، مگر پتنگ ہاتھ میں ہو تو پینڈو۔ مغرب کا تہوار ہو تو کلچرل ایکسپوژر، پنجاب کا تہوار ہو تو جہالت۔ ایسے ذہنی تضاد کے لیے اردو لغت میں واقعی ایک نہایت موزوں لفظ موجود ہے۔ چغد۔
پھر ایک طبقہ وہ جو ہر معاملہ زندگی میں مذہب کو کھینچ لاتا ہے۔ ثقافت کو عمامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مقامی تہواروں کو مذہب کے خانے میں فٹ کرنا چاہتا ہے۔ کسی نہ کسی دھرم سے وابستہ کرکے اسے "غیر اسلامی" قرار دے دیتا ہے۔ جس کے ہاں تہوار کا تصور صرف مذہبی تہواروں تک محدود ہے یعنی عیدین وغیرہ۔ اس کے سوا سب ناجائز ہے۔ یہ طبقہ لوگوں کی خوشیوں پر ڈنڈا بردار پہرہ دیتا ہے۔ یہ خود کو حق اور باقی سب کو گمراہ جاہل گردانتے ہیں۔ یہ خود کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہوئے صرف دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا فرماتے نظر آتے ہیں۔
دنیا بھر میں درجنوں ایسے تہوار ہیں جن میں وہی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن پر ہمارے ہاں ماتم کیا گیا ہے مگر وہاں انہیں "ثقافت" یا "ٹورازم" اور "سافٹ امیج" کہا جاتا ہے۔ اسپین کے شہر بونیول میں ہر سال لا ٹوماتینا کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا ٹماٹر جنگی میلہ ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکتے ہیں۔ سڑکیں لال ہو جاتی ہیں، سرکاری املاک پر ٹماٹر لگتے ہیں، کروڑوں روپے کے ٹماٹر چند گھنٹوں میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ مگر وہاں کسی اینکر کو یہ کہتے نہیں سنا جاتا کہ "قوم ٹماٹر کے کیچڑ میں نہا رہی ہے"۔ وہاں اسے سیاحتی برانڈنگ کہا جاتا ہے اور دنیا بھر سے لوگ اس ٹماٹر جنگ میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ خرید کر آتے ہیں۔
برازیل کا ریو کارنیوال دنیا کا سب سے بڑا اسٹریٹ فیسٹیول ہے۔ نیم برہنہ رقص، سڑکوں پر پارٹیاں، موسیقی، شراب، ہجوم اور لاکھوں سیاح۔ وہاں کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ "اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا"۔ وہاں اسے ثقافتی ورثہ کہا جاتا ہے، قومی برانڈ کہا جاتا ہے اور معیشت کے لیے مددگار سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کے صوبہ گجرات میں اترائن (Uttarayan) پتنگوں کا سرکاری تہوار ہے۔ حکومت خود پتنگ فیسٹیول کراتی ہے۔ سیاح بلائے جاتے ہیں، میڈیا کوریج ہوتی ہے، برانڈ اسپانسرز آتے ہیں۔ وہاں پتنگ "کلچرل ہیریٹیج" ہے۔
امریکہ میں ہالووین پر بچے اور بڑے خوفناک لباس پہنتے ہیں، نقلی خون، ڈائنیں، بھوت، قبرستانی تھیمز اور سڑکوں پر ہجوم۔ حادثات بھی ہوتے ہیں، بچوں کے ساتھ واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ "ہالووین بند کر دو"۔ دنیا بھر میں نیو ایئر نائٹ پر آتش بازی ہوتی ہے۔ آگ، دھماکے، زخمی، جلنے کے واقعات، آگ لگنے کے حادثات یعنی سب کچھ۔ مگر وہاں حل یہ نہیں کہ نیو ایئر ختم کر دیا جائے۔ وہاں حل یہ ہوتا ہے کہ بہتر قوانین، بہتر فائر سیفٹی اور بہتر انتظامات کیے جائیں۔ جاپان کے ماتسوری فیسٹیولز اور نیپال کے اندرا جاترا جیسے تہواروں میں لاکھوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ لکڑی کے رتھ، تنگ گلیاں، دھکم پیل، حادثات۔ مگر وہاں اسے ثقافتی شناخت سمجھا جاتا ہے نہ کہ قومی مسئلہ۔
دنیا میں تہواروں کو ریسک مینجمنٹ کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ پاکستان میں تہواروں کو ری ایکشن مینجمنٹ کے ساتھ بند کرنے کے لیے شور مچایا جاتا ہے۔ وہاں ثقافت کو معیشت سے جوڑا جاتا ہے۔ یہاں ثقافت کو سیاست سے جوڑ کر دفن کر دیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو بھی دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دوسروں کی ثقافت کو انجوائے کرتے ہیں۔ یہی بسنت اگر اسپین میں ہوتی تو "ٹورسٹ ایٹریکشن" ہوتی۔ اگر برازیل میں ہوتی تو "کارنیوال" ہوتی۔ گجرات میں تو اسے "کلچرل ہیریٹیج" کہا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ ہم اپنے سب ثقافتی تہواروں کو انٹرنیشنل برآنڈ بنائیں اور اس سے معاشی گاڑی جوڑ دیں۔
وہ جنریشن زی وہ نسل جو سکرین کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اس نے تین دن سکرین چھوڑ کر چھتوں پر گزار دیے۔ موبائل سے نکل کر آسمان کی طرف دیکھا۔ انگلیوں میں ڈور، آنکھوں میں رنگ، کانوں میں شور اور دل میں وہ خوشی جو کسی ایپ سے نہیں مل سکتی۔ یہ صرف تفریح نہیں تھی، یہ سماجی بحالی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بچے، باپ، ماں، دادا، نانا، سب ایک ہی چھت پر تھے۔ وہ چھت جو اب تک صرف واٹر ٹینک اور سولر پینل کے کام آتی تھی اچانک پھر سے خاندان کی بیٹھک بن گئی۔
گئے وقتوں میں جب چھتوں سے پتنگ اُتری تو نوجوانوں کے ہاتھ خالی ہو گئے اور خالی ہاتھ ہمیشہ خطرناک مشاغل ڈھونڈ لیتے ہیں۔ جب نوجوانوں سے بے ضرر شوق چھینے گئے تو انہوں نے زیادہ خطرناک شوق پال لیے۔ بسنت تو رخصت ہوئی مگر شاید کسی چھت پر کسی بچہ نے پہلی بار پنا ہاتھ میں لے کر ہوا سے دوستی کر لی ہو۔ شاید کسی باپ کی انگلیوں میں وہی پرانا ڈور سے چیرے کا درد جاگ اٹھا ہو اور کسی اماں کے لبوں پر وہی پرانا جملہ آ گیا ہو "نیچے آؤ۔ یہ پڑھنے کا وقت ہے"۔
بسنت پتنگوں سے نہیں اُڑتی۔ بسنت یادوں سے اُڑتی ہے اور اس بار بہت عرصے بعد لاہور اور جنریشن زی نے نئی یادیں بنائی ہیں۔ نئی نسل کی یادیں اپنی ثقافت سے تو اب استوار ہوئی ہیں اور یہی بات شاید کچھ لوگوں کو سب سے زیادہ تکلیف دے گئی ہے۔ میں سب کو ہنستا بستا دیکھنے کا خواہشمند ہوں۔ دلی خواہش ہے کہ ہر جگہ مقامی تہوار بحال ہوں۔ عوام خوش رہنے کا بہانہ ڈھونڈیں۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو۔ بقول احمد ندیم قاسمی "کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو"۔ ہمارے پاس جو کچھ عوام کی خوشی کے لیے موجود ہے اس پر خوش ہونا اور فخر کرنا سیکھیں۔ اپنے شہروں کو سجائیں، اپنے مقامی تہوار منائیں، لوگوں کو دعوت دیں، پرانے دوستوں کو جمع کریں، خوش رہنے کے بہانے ڈھونڈیں کہ سانحے اور دُکھ تو اس معاشرے میں بنا چاہے، بنا مانگے بھی روز روز مل جاتے ہیں۔

