Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Rasm e Muzammat, Akhir Kab Tak?

Rasm e Muzammat, Akhir Kab Tak?

رسم مذمت، آخر کب تک؟

مذمتوں اور رسمی کمیشنوں کی مشق اب بند ہونی چاہیے اب یہ سانسوں کا تسلسل بند ہونا چاہیے بس بہت ہوگیا یہ مزمت در اصل منافقت ہے فراڈ ہے دھوکہ ہے بددیانتی ہے بلکہ یہ پرلے درجے کی بیغیرتی ہے اب مذمت نہیں ان انسانیت کے دشمنوں کی مرمت کی ضرورت ہے انکو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے انہیں کٹھرے میں کھڑا کرنے کا وقت ہے ہر حادثے مخں سوائے مذمت یا دہشت گرد افغانستان سے آیا ہے جیسے فرسودہ روایات کو ختم کرکے اصل مجرموں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

مجرم جو اسلام آباد میں پل رہے ہیں ہماری ایجنسیوں کو سب علم ہے بس یہ مناسب وقت میں شیطانی کھیل کھیل رہی ہوتی ہیں تاکہ انکا ڈر خوف اس عوام پر طاری رہے۔ ملک سانس لے رہا ہے مگر وہ سانس جو زندگی دے نہیں، وہ سانس جو حادثے کے بعد لی جاتی ہے وہی گہری تھکی ہوئی سانس جو مذمت کے بیان سے پہلے بھری جاتی ہے اور جنازے کے بعد چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ سانسوں کا تسلسل اب بند ہونا چاہیے کیونکہ قومیں سانسوں سے نہیں فیصلوں سے زندہ رہتی ہیں۔

ایک اور سانحہ ہوا ایک اور اجتماعی نوحہ لکھا گیا اور ایک اور سرکاری یقین دہانی دے دی گئی پھر خاموشی یہ خاموشی اتفاق نہیں یہ نظام کی زبان ہے۔ وہ زبان جو بہت کچھ کہے بغیر بھی سب کچھ کہہ دیتی ہے کہ قاتل پہچانے جاتے ہیں مگر پکڑے نہیں جاتے کہ نفرت سنی جاتی ہے مگر روکی نہیں جاتی کہ ریاست اپنے شہری کے مقابلے میں اپنی سہولت کو ترجیح دیتی ہے۔ اسلام آباد جسے محفوظ قلعہ کہا جاتا تھا اب محض ایک پوسٹ کارڈ ہے اندر شور ہے باہر بیان اصل مسئلہ دہشت گردوں کی موجودگی نہیں ان کی بے خوفی ہے وہ بولتے ہیں دھمکیاں دیتے ہیں نفرت بانٹتے ہیں اور ریکارڈ پر سوال یہ ہے کہ جب ثبوت موجود ہوں تو خاموشی کس کا جرم ہے؟

فرقہ واریت کوئی حادثہ نہیں یہ پیدا کی گئی ایک پیداوار ہے اسے اگایا جاتا ہے کھاد دی جاتی ہے وقتاً فوقتاً پانی دیا جاتا ہےاور جب پودا بڑا ہو جائے تو کہا جاتا ہے۔ دیکھو جنگلی اُگ آیا ہے نہیں حضور! یہ باغبانی ہے کبھی شیعہ کو سنی سے لڑایا جاتا ہے کبھی لسانیت کی چنگاری ڈالی جاتی ہے کبھی مسجد میں دھماکہ کبھی کسی مذہبی رہنما پر فائرنگ اور پھر ریاست خود کو ثالث قرار دے کر تماشائی بن جاتی ہے۔ کالعدم تنظیموں کے سربراہان اگر چوک چوراہوں پر مذہبی منافرت پھیلا سکتے ہیں اگر میڈیا پر ان کی ویڈیوز چل سکتی ہیں۔ تو یہ سوال بھی جائز ہے کہ قانون کہاں ٹھہرا ہوا ہے؟ عام شہری معمولی شبہے میں غائب ہو سکتا ہے مگر نفرت کا سوداگری منشور لیے پھرنے والا ناقابلِ گرفت ٹھہرے یہ تضاد محض انتظامی نہیں اخلاقی ہے اور یہی اخلاقی دیوالیہ پن نفرتوں کو دوام دیتا ہے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ مسئلہ چند شرپسندوں کا ہے نہیں مسئلہ انتخابی نفاذِ قانون کی بدیانتی کا ہے۔ قانون وہی مقدس ہوتا ہے جو سب پر ایک سا لاگو ہو۔ ورنہ قانون لاٹھی بن جاتا ہے اور لاٹھی کبھی انصاف نہیں کرتی محض سمت بتاتی ہے کہ طاقت کدھر ہے۔

اٹھہتر سال میں ہم نے بہت کچھ آزمایا کمیشن کمیٹیاں، فورم، بیانات۔ نتائج؟ قبرستان آباد ضمیر ویران یہ مان لینا چاہیے کہ مذمتیں اب حل نہیں رہیں یہ محض تاخیر ہیں بلکہ ملک دشمنوں کےلئے رعایتیں ہیں اور ہر تاخیر ایک نئی قبر کھودتی ہے۔

سوال اب مزاحمت کا ہے مگر وہ مزاحمت جو آئین کی سیدھی لائن پر چلتی ہو جو قانون کی بالادستی، شہری آزادی اور مساوی احتساب کا مطالبہ کرے یہ مزاحمت بندوق کی نہیں جوابدہی کی ہے گالی کی نہیں۔ گنتی کی ہے شور کی نہیں اصلاح کی ہے کیونکہ بے قاعدہ مزاحمت تباہی ہے اور بے انصاف ضبط بزدلی۔

ریاست کو آج فیصلہ کرنا ہے نفرت کے تاجروں سے فاصلہ یا شہریوں سے؟ اگر قبلہ درست ہو جائے تو امن کوئی معجزہ نہیں یہ ایک نتیجہ ہے قانون کے یکساں نفاذ کا، نفرت کے خلاف زیرو ٹالرنس کا اور طاقت کے مراکز کی خود احتسابی کا اب یہ مزمتوں کا تسلسل ڈھونگ بند ہونا چاہیے۔ اب بیان کے بعد عمل اور حادثے کے بعد انصاف چاہیے ورنہ یہ قوم سانس تو لیتی رہے گی مگر زندہ نہیں رہے گی جب قوم نہیں رہے گی تو تم حکومت کس پر کرو گے اب مفاد پرست بھڑئیوں، گدوں، حرام خوروں کو یہ تعین کرنا ہوگا کہ ملک عوام عزیز ہے یا اپنا حرام خوری پر مبنی مفاد عزیز ہے۔

Check Also

Ishq Ki Class Mein Aqal Ghair Hazir

By Nusrat Abbas Dassu