Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Mobile Ki Screen Aur Barhti Hui Dooriyan

Mobile Ki Screen Aur Barhti Hui Dooriyan

موبائل کی اسکرین اور بڑھتی ہوئ دوریاں

انسان نے شاید اپنی پوری تاریخ میں اتنی تیز رفتار ترقی کبھی نہیں دیکھی جتنی گزشتہ دو دہائیوں میں دیکھی ہے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک چھوٹا سا موبائل پوری دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لے آیا ہے علم، رابطہ، کاروبار، تعلیم اور سہولتیں پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہیں لیکن ہر ترقی کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اس ترقی کی قیمت اپنے رشتوں اپنی تہذیب اور اپنی اجتماعی زندگی کی صورت میں ادا کی ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آزادی دی مگر آہستہ آہستہ یہی آزادی بے لگام نمائش میں بدل گئی شہرت اور پیسے کی دوڑ نے انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بعض اوقات عزت، حیا وقار اور خاندانی اقدار بھی قربان ہوتی دکھائی دیتی ہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسی ویڈیوز، تصاویر اور مواد میں اضافہ ہو رہا ہے جن میں تہذیب سے زیادہ سنسنی اور کردار سے زیادہ نمائش کو اہمیت دی جاتی ہے۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ برائی اب صرف برائی نہیں رہی بلکہ اسے ٹرینڈ فیشن اور کانٹینٹ کا نام دے دیا گیا ہے جو چیز کبھی شرمندگی سمجھی جاتی تھی آج بعض حلقوں میں کامیابی کی علامت بن چکی ہے یہ تبدیلی صرف بالغوں تک محدود نہیں رہی بلکہ نئی نسل بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں کم عمری میں ہی بچے ایسی دنیا سے متعارف ہو رہے ہیں جس میں حقیقت سے زیادہ دکھاوا اور کردار سے زیادہ مقبولیت کی اہمیت ہے۔

ایک وقت تھا جب شام ڈھلتے ہی گھر کے تمام افراد ایک جگہ جمع ہوتے تھے بزرگ اپنے تجربات سناتے بچے اپنی شرارتیں بیان کرتے، مائیں گھر کے قصے سناتیں اور قہقہوں سے گھر آباد رہتے تھے اختلاف بھی ہوتے تھے مگر بات چیت ختم نہیں ہوتی تھی رشتے وقت مانگتے تھے اور لوگ وہ وقت ایک دوسرے کو دیتے تھے آج منظر بدل چکا ہےایک ہی گھر میں دس افراد موجود ہوتے ہیں مگر ہر شخص اپنی الگ دنیا میں گم ہے کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے کوئی مختصر ویڈیوز دیکھ رہا ہے۔

کوئی سوشل میڈیا پر مصروف ہے اور کوئی کھیل کھیل رہا ہے خاموشی ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے گھر میں کوئی موجود ہی نہ ہو جسم ایک چھت کے نیچے ہیں مگر دل مختلف اسکرینوں میں قید ہو چکے ہیں اب بچوں کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے آج بہت سے بچے موبائل کے بغیر کھانا نہیں کھاتے خاموش نہیں ہوتے اور نہ ہی آسانی سے کسی دوسری سرگرمی میں دلچسپی لیتے ہیں اس عادت نے ان کی توجہ، تخلیقی صلاحیت مطالعے کی رغبت اور سماجی روابط پر گہرا اثر ڈالا ہے اگر بچپن ہی اسکرین کے حوالے کر دیا جائے تو آنے والی نسل جذباتی اور سماجی طور پر کمزور ہو سکتی ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موبائل یا سوشل میڈیا صرف نقصان دہ ہیں انہی ذرائع نے علم، روزگار، کاروبار، رابطے اور بے شمار آسانیاں بھی فراہم کی ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے جب کوئی چیز ہماری زندگی پر حکمرانی کرنے لگے تو وہ سہولت نہیں غلامی بن جاتی ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف جدید آلات کے مالک بن گئے ہیں اگر ہمارے گھروں سے مکالمہ ختم ہو جائے اگر والدین اور اولاد ایک دوسرے کے لیے وقت نہ نکال سکیں اگر دوست ایک ہی میز پر بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے بات نہ کریں تو پھر یہ ترقی ادھوری ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں دوبارہ گفتگو کی روایت زندہ کریں روزانہ کچھ وقت ایسا ضرور ہو جب تمام موبائل ایک طرف رکھ دیے جائیں اور خاندان ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے بات کرے ہنسے سنے اور محسوس کرے بچوں کو صرف موبائل نہیں والدین کی توجہ محبت اور رہنمائی بھی چاہیے۔ یاد رکھیے مشینیں زندگی کو آسان بنا سکتی ہیں مگر زندگی کا حسن نہیں بن سکتیں محبت، احترام، خاندانی وابستگی اور ایک دوسرے کے لیے وقت ہی وہ سرمایہ ہے جس پر مضبوط معاشرے قائم ہوتے ہیں اگر ہم نے یہ سرمایہ کھو دیا تو شاید ہمارے ہاتھ میں دنیا کا جدید ترین موبائل تو ہوگا، مگر دلوں میں وہ اپنائیت، وہ سکون اور وہ خوشیاں نہیں ہوں گی جن کی کوئی ایپ کوئی اسکرین اور کوئی مصنوعی ذہانت کبھی جگہ نہیں لے سکتی گھر وائی فائی سے نہیں محبت سے آباد ہوتے ہیں رشتے موبائل سگنلز سے نہیں دلوں کے تعلق سے زندہ رہتے ہیں اور وہ قومیں کبھی مضبوط نہیں ہوتیں جن کے ہاتھ تو ایک دوسرے سے جڑے ہوں مگر دل ایک دوسرے سے کٹ چکے ہوں۔ شاید اب بھی وقت ہے کہ ہم موبائل کو اپنی ضرورت تک محدود رکھیں اپنی زندگی کا مرکز نہ بنائیں ورنہ آنے والی نسلیں جدید ترین فون تو ورثے میں پائیں گی، مگر دادا کی کہانیاں، ماں کی گود باپ کی نصیحت بہن بھائیوں کی ہنسی اور خاندانی محبت صرف کتابوں میں پڑھا کریں گی۔

آخر میں سوال صرف موبائل کا نہیں ہماری ترجیحات کا ہے۔ اگر ایک اسکرین کی روشنی ہمارے گھروں کی محبتوں کو مدھم کر دے اگر ہزاروں آن لائن دوست ہمیں اپنے ہی والدین بہن بھائیوں اور بچوں سے دور کر دیں تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم نے آخر پایا کیا اور کھویا کیا ترقی وہ نہیں جو صرف رفتار بڑھا دے بلکہ ترقی وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب بھی رکھے آئیے عہد کریں کہ موبائل ہماری ضرورت رہے گا ہماری زندگی نہیں سوشل میڈیا ہمارا ذریعہ ہوگا ہماری شناخت نہیں اور ہمارے گھر دوبارہ قہقہوں، محبتوں اور اپنائیت سے آباد ہوں گے کیونکہ آنے والی نسلیں ہمارے الفاظ نہیں ہمارے طرزِ زندگی کی وارث بنیں گی۔

Check Also

Siasi Reech

By Syed Mehdi Bukhari