Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Balochistan: Nafrat Se Umeed Tak

Balochistan: Nafrat Se Umeed Tak

بلوچستان: نفرت سے امید تک

24 جون 1995ء۔ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کا ایلس پارک اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ رگبی ورلڈ کپ کا فائنل جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ چند ہی برس پہلے تک جنوبی افریقہ دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ سفید فام حکومت تھی اور سیاہ فام اکثریت محرومی، نفرت اور امتیازی قوانین کا شکار تھی۔ انہی سیاہ فاموں کے ایک رہنما نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے ستائیس سال جیل میں گزار دیے۔ وہ اقتدار میں آئے تو ان کے پاس انتقام لینے کے ہزار جواز تھے، لیکن انہوں نے انتقام کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔

فائنل شروع ہونے سے چند لمحے پہلے اسٹیڈیم میں ایک منظر دیکھنے کو ملا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ نیلسن منڈیلا میدان میں داخل ہوئے، لیکن انہوں نے اپنی جماعت کی علامت یا سیاہ فام اکثریت کی کوئی نشانی نہیں پہنی تھی، بلکہ وہ جنوبی افریقہ کی رگبی ٹیم "اسپرنگ بوکس" کی سبز جرسی پہن کر آئے تھے۔ یہی وہ ٹیم تھی جسے برسوں تک نسل پرستی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور جس سے سیاہ فام آبادی کی ایک بڑی تعداد شدید نفرت کرتی تھی۔

یہ منظر دیکھ کر اسٹیڈیم میں موجود سفید فام تماشائی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور منڈیلا کا استقبال کیا۔ اس ایک لمحے نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ قومیں صرف آئین، قانون اور طاقت سے نہیں جڑتیں بلکہ اعتماد، احترام اور مشترکہ شناخت سے جڑتی ہیں۔ اس دن جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ بھی جیت لیا، لیکن اصل فتح ٹرافی کی نہیں بلکہ دلوں کی تھی۔

نیلسن منڈیلا نے بعد میں کہا تھا، "لوگوں کو نفرت کرنا سکھایا جا سکتا ہے اور اگر انہیں نفرت سکھائی جا سکتی ہے تو محبت بھی سکھائی جا سکتی ہے، کیونکہ محبت انسان کے دل کے زیادہ قریب ہے"۔

کاش دنیا کے ہر ملک کے حکمران یہ ایک سبق سیکھ لیں کہ ریاستیں صرف سڑکیں، عمارتیں اور فوجیں بنانے سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے لوگوں کو یہ احساس دلانے سے مضبوط ہوتی ہیں کہ وہ اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں، ان کے دکھ بھی ریاست کے دکھ ہیں اور ان کے خواب بھی ریاست کے خواب ہیں۔

آج جب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی طرف دیکھا جائے تو بار بار نیلسن منڈیلا کا یہی منظر ذہن میں آتا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا تقریباً چوالیس فیصد ہے، جو قدرتی گیس، سونا، تانبا، کوئلہ اور بے شمار معدنی وسائل سے مالا مال ہے، جو گوادر جیسی عالمی اہمیت کی بندرگاہ رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود کئی دہائیوں سے احساسِ محرومی، بداعتمادی، شورش اور خونریزی کی خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ بلوچستان پر گفتگو کرتے وقت ہم اکثر ایک انتہا سے دوسری انتہا پر پہنچ جاتے ہیں۔ ایک طبقہ ہر مسئلے کی بنیاد صرف بیرونی سازش کو قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا ہر خرابی کا ذمہ دار صرف وفاق کو ٹھہراتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس میں وفاق کی بعض پالیسیوں پر اٹھنے والے سوالات بھی ہیں، صوبائی حکومتوں کی کمزور کارکردگی بھی، بعض بااثر قبائلی سرداروں کا کردار بھی، بیرونی مداخلت بھی اور وہ علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں بھی جنہوں نے بندوق کو سیاست پر ترجیح دی۔

انہی تنظیموں میں سب سے نمایاں نام بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد پاکستان سے علیحدہ ایک آزاد بلوچستان کا قیام ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس نے سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں، مزدوروں، اساتذہ، انجینئروں اور مختلف صوبوں سے بلوچستان میں روزگار کے لیے آنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا۔ پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے بے گناہ انسانوں کا قتل نہ آئین اجازت دیتا ہے، نہ مذہب اور نہ ہی انسانی ضمیر۔

لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ آخر وہ کون سا خلا ہے جس سے بی ایل اے جیسی تنظیمیں فائدہ اٹھاتی ہیں؟ کیا یہ صرف بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے؟ کیا صرف وفاق ذمہ دار ہے؟ کیا صرف بلوچ سردار قصوروار ہیں؟ یا پھر حقیقت ان تمام عوامل کے درمیان کہیں موجود ہے؟

یہی سوال ہمیں بلوچستان کے مسئلے کی اصل جڑ تک لے جاتا ہے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے اس کے حل کا راستہ بھی نکلتا ہے۔

وفاق کہتا ہے کہ اس نے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ بڑھایا، گوادر، مکران کوسٹل ہائی وے، سی پیک، یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور دیگر منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے۔ دوسری طرف بلوچستان کے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ترقی کے یہ اعداد و شمار ان کی روزمرہ زندگی میں کیوں نظر نہیں آتے؟ اگر وسائل ہماری زمین سے نکلتے ہیں تو ہمارے نوجوان روزگار کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کیوں کرتے ہیں؟ اگر ترقی ہو رہی ہے تو ہمارے دور افتادہ اضلاع آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم کیوں ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے جواب دینا ہوگا۔

اسی ماحول سے بی ایل اے جیسی تنظیمیں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے کہ ان تنظیموں کو بیرونی عناصر، خصوصاً بھارت کی جانب سے معاونت اور افغانستان کی سرزمین سے سہولتیں ملتی ہیں۔ اس معاملے پر مختلف بین الاقوامی تجزیے بھی موجود ہیں، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بیرونی قوتیں صرف اسی جگہ کامیاب ہوتی ہیں جہاں اندرونی کمزوریاں پہلے سے موجود ہوں۔ اگر عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد مضبوط ہو، اگر نوجوان کو تعلیم، روزگار اور انصاف میسر ہو، تو بیرونی پروپیگنڈا اپنی کشش کھو دیتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی تمام ذمہ داری اسلام آباد پر ڈال دینا انصاف نہیں ہوگا۔ اس صوبے میں کئی دہائیوں سے بااثر قبائلی اور سیاسی خاندان اقتدار میں رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ، وزراء، ارکانِ اسمبلی اور مقامی قیادت خود اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ترقیاتی فنڈز کا شفاف استعمال نہ ہو، اگر تعلیم اور صحت کو اولین ترجیح نہ دی جائے، اگر نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع نہ ملیں، تو اس کی ذمہ داری صرف وفاق پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ احتساب کا دائرہ اسلام آباد سے شروع ہو کر کوئٹہ اور ہر ضلعی دفتر تک جانا چاہیے۔

لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اعتماد کا مسئلہ بھی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے یہ سبق سیکھا ہے کہ بندوق شدت پسندی کو کمزور تو کر سکتی ہے، لیکن اس کے نظریاتی اثرات کو صرف انصاف، بہتر حکمرانی اور عوامی شمولیت ہی ختم کر سکتی ہے۔

اس لیے بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے چند بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔

سب سے پہلے، ریاست کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ بلوچستان پاکستان کے نقشے کا صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ قومی ترجیح ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا اصل پیمانہ افتتاحی تقاریب نہیں بلکہ عام بلوچ شہری کی زندگی میں آنے والی تبدیلی ہونی چاہیے۔

دوسرا، وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی تک واضح انداز میں پہنچنے چاہییں۔ جب کسی ضلع کے لوگ اپنی زمین سے نکلنے والے وسائل کا فائدہ اپنی تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں اور روزگار کی صورت میں دیکھیں گے تو احساسِ محرومی خود بخود کم ہوگا۔

تیسرا، بلوچستان کے نوجوانوں کو پاکستان کے دوسرے صوبوں سے جوڑنے کی منظم حکمتِ عملی بنائی جائے۔ تعلیمی وظائف، بین الصوبائی طلبہ پروگرام، کھیلوں کے مقابلے، ثقافتی میلوں اور روزگار کے مواقع صرف سرکاری منصوبے نہیں بلکہ قومی یکجہتی کے منصوبے ہونے چاہییں۔ جب لاہور، پشاور، کراچی، گلگت اور کوئٹہ کے نوجوان ایک دوسرے کو جانیں گے تو نفرت کی جگہ اعتماد پیدا ہوگا۔

چوتھا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی ریاست کو اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عام شہری خود کو ریاست کا فریق محسوس کرے، نہ کہ صرف تماشائی۔

پانچواں، بلوچستان کی سیاست کو چند خاندانوں اور قبائلی اثر و رسوخ سے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف احتساب، بااختیار مقامی حکومتیں اور میرٹ پر مبنی انتظامیہ ہی صوبے میں دیرپا تبدیلی لا سکتی ہیں۔

بلوچستان کے عام لوگ دشمن نہیں ہیں۔ وہ بھی وہی خواب دیکھتے ہیں جو فیصل آباد، ملتان، سوات یا کراچی کا ایک نوجوان دیکھتا ہے۔ وہ بھی اپنے بچوں کے لیے بہتر اسکول، محفوظ سڑکیں، معیاری اسپتال اور باعزت روزگار چاہتے ہیں۔ اگر ان خوابوں کو حقیقت کا روپ ملنا شروع ہو جائے تو شدت پسند تنظیموں کے لیے نئی بھرتیاں کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

آخر میں مجھے پھر نیلسن منڈیلا یاد آتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، "امن صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ایسا ماحول ہے جس میں ہر انسان کو انصاف ملے"۔ شاید بلوچستان کا حل بھی اسی ایک جملے میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کو اپنی رٹ بھی قائم رکھنی ہے، دہشت گردی کا خاتمہ بھی کرنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کے دل بھی جیتنے ہیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سرحدیں فوجیں محفوظ رکھتی ہیں، مگر قومیں انصاف، اعتماد اور مشترکہ مستقبل کے احساس سے مضبوط ہوتی ہیں اور جس دن بلوچستان کے ہر بچے کو یہ یقین ہو جائے گا کہ پاکستان اس کا بھی اتنا ہی ہے جتنا لاہور، کراچی یا پشاور کے کسی شہری کا، اسی دن بی ایل اے جیسے نظریات اپنی سب سے بڑی شکست کھا جائیں گے۔

Check Also

Aur Haspania Jeet Gaya

By Hameed Ullah Bhatti