Hospitals Mein Rawaiyon Ka Ilaj Bhi Zaroori Hai
ہسپتالوں میں رویوں کا علاج بھی ضروری ہے

گلگت بلتستان میں صحت کی سہولیات آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں اب بھی ناکافی ہیں۔ محدود وسائل، طبی عملے کی کمی، بڑھتے ہوئے مریضوں کا دباؤ اور جدید سہولیات کی قلت ایسے مسائل ہیں جن کا سامنا سرکاری ہسپتال روزانہ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی کارکن دن رات اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہزاروں مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ یقیناً اس نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، لیکن ہر خرابی کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر یا ہسپتال انتظامیہ کو قرار دینا انصاف نہیں۔
حال ہی میں گلگت کے ایک سرکاری ہسپتال میں میری موجودگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کر دیا۔ ایک والد اپنے بچے کو معمولی بخار کی شکایت کے ساتھ ہسپتال لایا۔ اس وقت ڈاکٹر اپنی نشست پر موجود نہیں تھیں کیونکہ وہ وارڈ میں زیر علاج ایک مریض کا معائنہ کر رہی تھیں۔ جیسے ہی ڈاکٹر واپس آئیں، بچے کے والد نے انتہائی تلخ لہجے میں ان سے بات کی، حالانکہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر ایک ایسے مریض کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں جسے فوری طبی توجہ درکار تھی۔ یہ منظر صرف ایک فرد کے رویے کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے صبری اور عدم برداشت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
ہسپتالوں میں روزانہ ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ او پی ڈی میں تقریباً ہر مریض چاہتا ہے کہ سب سے پہلے اسی کا معائنہ ہو، جبکہ باری کا انتظار بعض افراد اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب اگر صفائی کی بات کی جائے تو اکثر تمام ذمہ داری ہسپتال پر ڈال دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استعمال شدہ ریپر، پانی کی بوتلیں اور دیگر کچرا ڈسٹ بن میں ڈالنے کے بجائے فرش پر پھینک دیا جاتا ہے۔ ایک مریض کے ساتھ کئی کئی تیماردار وارڈ میں موجود ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف ہجوم بڑھتا ہے بلکہ دوسرے مریضوں کے آرام، علاج اور ہسپتال کے نظم و ضبط پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ بعض اوقات مریضوں کی شکایات بجا ہوتی ہیں۔ کہیں طبی عملے کے رویے میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے اور کہیں انتظامی کمزوریاں عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ ان مسائل کو دور کرنا حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹر بھی انسان ہیں، وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی مریض کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر کسی ایمرجنسی مریض کو ترجیح دی جاتی ہے تو یہ غفلت نہیں بلکہ طبی اصولوں اور انسانی جان بچانے کے تقاضوں کے مطابق ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ صحت کا بہتر نظام صرف نئی عمارتوں، جدید مشینوں یا اضافی بجٹ سے نہیں بنتا بلکہ اچھے رویوں، باہمی احترام اور تعاون سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔ جب ہم ہسپتال جائیں تو صبر، برداشت، صفائی اور نظم و ضبط کو بھی اپنا فرض سمجھیں۔ اختلاف یا شکایت ہر شہری کا حق ہے، مگر اس کا اظہار مہذب انداز میں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی کارکن بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، جو دن رات انسانی جانیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم ان کی عزت کریں اور وہ ہماری عزت کریں تو ہسپتال صرف علاج کی جگہ نہیں بلکہ اعتماد، امید اور انسانیت کی علامت بن سکتے ہیں۔ شاید یہی وہ نسخہ ہے جس کی ہمارے صحت کے نظام کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

