Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Rizwan Arif
  4. Khawab, Hunar Aur Technology

Khawab, Hunar Aur Technology

خواب، ہنر اور ٹیکنالوجی

کبھی کھلونا صرف بچوں کے کھیلنے کی چیز سمجھا جاتا تھا لیکن آج دنیا بدل چکی ہے۔ ایک خوب صورت کردار، ایک منفرد خاکہ، ایک دلچسپ کہانی اور جدید ٹیکنالوجی مل کر ایک ایسی مصنوعات تخلیق کر سکتے ہیں جو نہ صرف نوجوانوں کے جذبات سے جڑتی ہے بلکہ اربوں یوآن کی صنعت بھی بن سکتی ہے۔ چین میں جدید اور مقبول ڈیزائن والے کھلونوں کی صنعت اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔

رواں سال کے آغاز سے چین میں ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ لوگوں کی ثقافتی ضروریات اور تفریحی پسند میں آنے والی تبدیلی نے نئی صنعتوں کے لیے بڑی گنجائش پیدا کی ہے۔ ان میں "ٹرینڈی ٹوائز" اور تخلیقی کرداروں پر مبنی کھلونوں کی صنعت خاص طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ کبھی ایک محدود دائرے کی تخلیقی سرگرمی سمجھے جانے والا یہ شعبہ اب 100 ارب یوآن کی مارکیٹ کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔ اس صنعت کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف ایک کھلونا تیار نہیں کیا جاتا، بلکہ ایک مکمل تخلیقی دنیا تشکیل دی جاتی ہے۔

کسی کردار کا لباس، اس کی شکل، اس کے جذبات، اس کی کہانی اور اس سے جڑی پوری ثقافتی شناخت ایک ایسی مصنوعات میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے لوگ خریدتے بھی ہیں اور اس سے جذباتی تعلق بھی قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں فن، ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور کاروبار ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ بیجنگ میں چین کی مرکزی اکیڈمی آف فائن آرٹس کے طلبہ اس تبدیلی کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ کئی طلبہ ایک جدید کھلونوں کی کمپنی میں عملی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جہاں وہ ڈیزائنرز کے ساتھ منصوبہ بندی اور تخلیقی کام میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تجربہ روایتی تعلیمی ماحول سے بالکل مختلف ہے۔ فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اب صرف کینوس، برش اور ہاتھ سے بنائے جانے والے فن پاروں تک محدود نہیں رہنا پڑتا، بلکہ ڈیجیٹل ڈیزائن، مختلف سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کو بھی اپنے ہنر کا حصہ بنانا پڑ رہا ہے۔

یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ روزگار کی نئی دنیا میں صرف ایک شعبے کی مہارت کافی نہیں رہی۔ ایک اچھا فنکار اب بہتر ڈیزائنر بننے کے لیے ٹیکنالوجی سے واقفیت بھی حاصل کر رہا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کا طالب علم تخلیقی سوچ اور جمالیاتی ذوق کی اہمیت کو سمجھ رہا ہے۔ یہی امتزاج جدید ثقافتی صنعتوں کو نئی طاقت دے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرینڈی کھلونوں کی صنعت نے صرف فنونِ لطیفہ کے طلبہ کو ہی اپنی جانب متوجہ نہیں کیا۔ فنِ تعمیر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی اس میدان میں اپنے لیے نئے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس صنعت میں ایک ہی قسم کے ہنر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کو کردار تخلیق کرنے آتے ہیں، کوئی کہانی بنا سکتا ہے، کوئی شکل و صورت میں جدت لا سکتا ہے، کوئی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتا ہے اور کوئی ایک تخلیقی تصور کو کامیاب کاروباری مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ شعبہ اب تیزی سے پختہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ایک ٹرینڈی ٹوائے ڈیزائنر کے لیے صرف اچھا خاکہ بنانا کافی نہیں۔ اسے یہ بھی سمجھنا ہوتا ہے کہ ایک تخلیقی تصور کس طرح ایک مکمل دانشورانہ ملکیت میں تبدیل ہوتا ہے، اسے کس طرح تیار کیا جائے، مارکیٹ میں کیسے پیش کیا جائے اور صارفین کے ساتھ اس کا جذباتی تعلق کیسے قائم کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، آج کا ڈیزائنر صرف فنکار نہیں بلکہ تخلیق کار، منصوبہ ساز اور کسی حد تک کاروباری ماہر بھی ہے۔

چین میں اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے کاروباری ادارے اور جامعات ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ کئی کمپنیاں فنون کے تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر خصوصی تربیتی پروگرام اور کھلے کورسز شروع کر رہی ہیں۔ طلبہ کو حقیقی مصنوعات اور ابتدائی ڈیزائن فراہم کیے جاتے ہیں، انہیں نئے مواد اور موضوعات کے ساتھ تجربہ کرنے کی آزادی دی جاتی ہے، جبکہ کمپنیوں کے ماہر ڈیزائنرز انہیں عملی ضروریات سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس عمل میں فائدہ صرف طلبہ کو نہیں ہوتا، کاروباری ادارے بھی نوجوانوں کے نئے خیالات اور تخلیقی تصورات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اعداد و شمار اس صنعت کے مستقبل کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ چینی مشاورتی ادارے آئی ریسرچ کے مطابق چین کی دانشورانہ املاک پر مبنی ٹرینڈی ٹوائے مارکیٹ 2027 تک 100 ارب یوآن سے تجاوز کر سکتی ہے اور 2029 تک تقریباً 130 ارب یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ کاروباری معلومات کے پلیٹ فارم تیانیانچا کے مطابق چین میں اس شعبے سے متعلق 36 ہزار سے زیادہ کاروباری ادارے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ یہ تبدیلی دراصل چین کی وسیع تر ثقافتی معیشت میں آنے والی تبدیلی کا ایک حصہ ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے مطابق 2025 میں چین کی ثقافتی صنعت کی مجموعی کاروباری آمدنی 20.8254 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.8 فیصد زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق ثقافت اور ٹیکنالوجی کا گہرا امتزاج ثقافتی صنعت میں جدت کا ایک اہم محرک بن چکا ہے۔ چین میں ٹرینڈی کھلونوں کی صنعت کی ترقی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مستقبل کی معیشت صرف بڑی فیکٹریوں اور روایتی صنعتوں سے نہیں بنے گی۔ ایک تخلیقی خیال، جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی سمجھ بوجھ مل کر ایک مکمل صنعت کو جنم دے سکتے ہیں۔

آج چین کے نوجوانوں کے لیے کھلونوں کی یہ دنیا محض تفریح کا میدان نہیں رہی، یہ ان کے فن، تخیل اور ٹیکنالوجی کو روزگار اور کاروبار میں بدلنے کا ایک نیا راستہ بن چکی ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں کسی نوجوان کا بنایا ہوا ایک چھوٹا سا کردار صرف کسی بچے کے کمرے میں رکھا ہوا کھلونا نہ ہو، بلکہ ایک عالمی ثقافتی برانڈ، ایک کامیاب کاروبار اور ہزاروں نئے روزگار کا آغاز بن جائے۔ یہی تخلیقی معیشت کی اصل طاقت ہے۔

Check Also

Aur Haspania Jeet Gaya

By Hameed Ullah Bhatti