Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Mawazna Aur Mehroomiyan

Mawazna Aur Mehroomiyan

موازنہ اور محرومیاں

یہ غالباََ اسی کی دھائی کا ذکر ہے بنک میں بطور افسر پرموشن کے لیے ایک تحریری امتحان ہوا جس میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ پھر ریجنل لیول پر انٹرویو ہوا تو آخر کار ہم دو دوست یعنی محبوب حسن خان مرحوم اور میں فائنل ہوئے۔ ہم دونوں نے بنک ملازمت کا آغاز ایک ساتھ ایک ہی تاریخ کو کیا تھا۔ ہماری باہمی دوستی بھی ہمیشہ مثالی رہی تھی۔ آخری اور فائنل انٹرویو کے لیے ملتان جانا پڑا جس کے لیے ہیڈآفس کراچی سے اویس قریشی صاحب تشریف لائے تھے۔ ہمارا انٹرویو بہت اچھا ہوا ملتان سے بہاولپور واپسی پر بہاولپور کے ریجنل منیجر صاحب نے ہمیں اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا لیا اور راستے میں کہنے لگے دیکھو بھائی تم دونوں ہی مجھے بہت پیارئے ہو میں ذاتی طور پر تمہیں دونوں کو ہی بہت پسند کرتا ہوں مگر مشکل یہ ہے کہ آپ میں سے صرف ایک آدمی پرموٹ ہو سکتا تھا۔ اس لیے میرے لیے بڑا مشکل تھا کہ تم دونوں میں سے کس کے حق میں فیصلہ کرتا؟

بہر حال ایک کا انتخاب کرنا تھا اس لیے میں نے فیصلہ محبوب حسن خان کے حق میں کردیا ہے۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی اور میں نے اور ریجنل منیجر صاحب نے محبوب حسن خان کو مبارکباد دی اور مخدوم عالی پہنچ کر وہاں کے مشہور سوہن حلوہ سے منہ میٹھا کیا۔ اس دوران میں نے اپنے ریجنل منیجر صاحب سے پوچھا کہ سر! کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ محبوب حسن خان میں ایسی کیا خوبی تھی جس کی بنا پر یہ فیصلہ اس کے حق میں ہوا یا مجھ میں ایسی کیا کمی تھی کہ جو مجھے دوسرے نمبر پر لے گئی۔ وہ ہنسے اور کہنے لگے سچی بات یہ ہے کہ بس ایک خوبی زیادہ ہے کہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت اور سمارٹ ہے۔ ورنہ بطور بینکار تم اس سے شاید کہیں زیادہ بہتر ہو۔ یاد رکھو کہ جب سب کچھ یکساں ہو تو فیصلہ اور موازنہ کرنا مشکل ہوتا ہے کچھ خوبیاں خداداد ہوتی ہیں جو سب کو حاصل نہیں ہوتیں۔ اکثر اوقات صلاحیت سے خوبصورتی اور قدوقامت جیت جاتے ہیں۔ میں ان کے اس سچ سے بہت خوش ہوا کیونکہ ان کی بات ایک لحاظ سے درست تھی واقعی وہ میرا مرحوم دوست ہر لحاظ سے مجھ سے بہتر اور خوبصورت تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ لاکھ صلاحیتوں کے باوجود شخصیت اور پرسنلٹی کا ایک الگ مقام ضرور ہوتا ہے۔

جب میں خود لوگوں کا انٹرویو کرتا تھا تو امیدوار کی صلاحیتوں کے ساتھ اس کی شخصیت اس کی خوبصورتی اور قدوقامت کو بھی مدنظر رکھتا تھا۔ مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ خوبی اور محرومیاں دو الگ الگ چیزیں ہوتی ہیں۔ موازنہ کرتے ہوئے محرومیوں کا احساس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کسی کی خوبی یا محرومی کا اس کی خوبصورتی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا خوبصورتی تو ہماری نظر میں ہوتی ہے اور اس کا معیار بھی ہر علاقے اور کلچر میں الگ الگ ہوتا ہے۔ کہیں گورا رنگ اور لمبی ناک اور کہیں کالا رنگ اور چپٹی ناک خوبصورتی کی علامت ہوتی ہے۔ کہیں چہرہ صاف رکھنا خوبصورتی ہے تو کہیں چہرئے پر خراشیں ڈال کر نشان بنا لینا خوبصورتی ہوتا ہے۔ قدرت نے کسی کو ہر چیز نہیں دی لیکن ہر ایک کو کچھ ایسا ضرور دیا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ اسی لیے جب ہم موازنہ کریں تو صرف ظاہری نعمتوں کو نہیں، بلکہ محرومیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر عطا کے ساتھ کوئی نہ کوئی کمی بھی جڑی ہوتی ہے۔ یقیناََ بسااوقات کسی شخصیت کی خوبی اس کے لیے رحمت بن جاتی ہےاور ایسے ہی کسی کی محرومی بعض اوقات اس کے لیے ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا کردیتی ہے۔

قدرت کا یہ نظام عجیب بھی ہے اور حسین بھی ہے۔ اس نے اس کائنات میں کسی بھی مخلوق کو ہر خوبی عطا نہیں کی۔ ہر وجود کو ایک خاص مقصد، مخصوص صلاحیت اور منفرد ذمہ داری کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام جانور ایک جیسے ہوتے، سب اڑ سکتے، سب تیر سکتے، سب دوڑ سکتے اور سب ایک ہی غذا کھاتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا، کیونکہ کائنات کی خوبصورتی تنوع میں ہے، یکسانیت میں نہیں۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہے، مگر وہ سبزہ نہیں کھا سکتا۔ ہاتھی اپنی جسامت اور طاقت میں بے مثال ہے، لیکن وہ گوشت خور نہیں۔ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، جبکہ چیتا خشکی کا تیز ترین شکاری ہونے کے باوجود پانی میں چند لمحے بھی مچھلی کی طرح زندگی نہیں گزار سکتا۔ عقاب آسمان کی بلندیوں کا مسافر ہے مگر سمندر کی تہہ اس کی دنیا نہیں اور وہیل سمندر کی ملکہ ہے مگر خشکی پر بے بس ہو جاتی ہے۔ قدرت نے کسی کو ہر چیز نہیں دی، لیکن ہر ایک کو کچھ ایسا ضرور دیا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتا ہے اور اسکی خوبصورتی اسکی صلاحیت ہوتی ہے شکل وصورت ہرگز نہیں ہوتی۔ ہاتھی اور گینڈے کا وزن اور جسامت، شیر اور چیتے کی پھرتی، مگر مچھ کی خوفناک شکل و صورت اور کیکڑے کی بدنما اور خوفناک جسامت ان کی خداداد شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں کسی بھی چیز کا کسیء دوسری چیز سے موازنہ ممکن نہیں ہے۔

افسوس کہ انسان اس حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بجائے دوسروں کی نعمتیں گننا شروع کر دیتا ہے۔ وہ دولت والے کو دیکھ کر خود کو غریب سمجھتا ہے، شہرت والے کو دیکھ کر اپنی حیثیت بھول جاتا ہے اور اختیار والے کو دیکھ کر اپنے نصیب سے شکوہ کرنے لگتا ہے۔ یہی موازنہ آہستہ آہستہ حسد، بے چینی اور احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔ اگر شیر یہ سوچنے لگے کہ کاش میں ہرن کی طرح نرم مزاج ہوتا، یا مچھلی یہ خواہش کرے کہ کاش میں عقاب کی طرح آسمان میں اڑ سکتی، تو وہ اپنی اصل طاقت سے بھی محروم ہو جائیں۔ قدرت نے انہیں دوسروں جیسا بننے کے لیے نہیں بلکہ اپنی اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے پیدا کیا ہے۔ انسان بھی اسی قانون کا پابند ہے۔

ہر شخص کا رزق الگ ہے، ہر ایک کی آزمائش مختلف ہے، ہر ایک کا وقت جدا ہے اور ہر ایک کی منزل بھی الگ ہے۔ کسی کو دولت ملی تو شاید سکون نہ ملا، کسی کو شہرت ملی تو شاید محبت نہ ملی، کسی کو اقتدار ملا تو شاید اطمینان نہ ملا۔ ہم صرف دوسروں کی کامیابیاں دیکھتے ہیں، ان کی آزمائشیں نہیں دیکھتے۔ آج کا معاشرہ موازنوں کی بنیاد پر چل رہا ہے محرومیوں پر غور نہیں کرتا۔ سوشل میڈیا نے اس آگ میں مزید ایندھن ڈال دیا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی زندگی کا بہترین منظر دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شکر ختم ہو جاتا ہے، قناعت مٹ جاتی ہے اور خوشیاں چھن جاتی ہیں۔

یاد رکھیے! آم کے درخت سے سیب کی توقع کرنا بھی حماقت ہے اور گلاب سے چنبیلی کی خوشبو مانگنا بھی۔ ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے، ہر درخت کا اپنا پھل ہے، ہر ستارے کی اپنی روشنی ہے۔ ہر انسان کا اپنا مقام ہے۔ کامیابی اس میں نہیں کہ آپ کسی اور جیسے بن جائیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنی دی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانیں، انہیں نکھاریں اور اپنی زندگی کو اپنے رب کی عطا کے مطابق بہترین بنا دیں۔ جو شخص اپنی ذات کو پہچان لیتا ہے، وہ دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی ذات کا بہتر انسان بننے کی کوشش کرنا ہے۔ موازنہ حسد کی پہلی سیڑھی ہے، جبکہ شکر کامیابی کی پہلی منزل۔ جو اپنی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ مطمئن رہتا ہے اور جو دوسروں کی نعمتوں پر نظریں جمائے رکھتا ہے، وہ کبھی سکون نہیں پا سکتا۔

قدرت روز ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ شیر کو شیر رہنے دو، مچھلی کو مچھلی، عقاب کو عقاب اور ہاتھی کو ہاتھی ان سب کی خوبصورتی کا معیار الگ ہے۔ جب پوری کائنات اپنی فطرت کے ساتھ مطمئن ہے تو انسان ہی کیوں اپنی حقیقت سے فرار چاہتا ہے؟ شاید اس لیے کہ وہ اپنی نعمتوں کو دیکھنے کے بجائے دوسروں کی نعمتوں کا حساب رکھنے میں مصروف ہوگیا ہے۔ جس دن وہ اپنی ذات، اپنی صلاحیت اور اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہو جائے گا، اسی دن اسے وہ سکون مل جائے گا جس کی تلاش میں وہ ساری دنیا کا سفر کرتا پھرتا ہے۔

Check Also

Pachas Baras Baad Mukammal Hone Wala Khwab

By Imtiaz Ahmad