Wednesday, 11 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Khidmat e Insaniyat Sab Se Azeem Ibadat

Khidmat e Insaniyat Sab Se Azeem Ibadat

خدمتِ انسانیت سب سے عظیم عبادت

آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں دولت اور شہرت کی دوڑ لگی ہوئی ہے، وہاں انسانی قدریں اور اخلاقیات اکثر پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ ایک طرف صاحبِ ثروت افراد لاکھوں کی مالیت سے مساجد، عمارتیں اور دیگر نمائشی منصوبے تعمیر کرتے ہیں، تو دوسری طرف انہی کے ارد گرد انہی کے محلے اور پڑوس میں بھوک غربت اور بیماری سے لڑنے والے لوگ نظر نہیں آتے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی نمائش اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوگی؟

کیا یہ حقیقی عبادت ہے یا محض دکھاوا اور شہرت کی ہوس اس تحریر میں ہم اس موضوع پر غور کریں گے کہ خدمتِ انسانیت کیوں سب سے عظیم عبادت ہے اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں دولت کی فراوانی ہے وہاں خدمت کی توفیق کیوں کم ہے اسلامی تعلیمات میں عبادت کا دائرہ صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود نہیں ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده، یعنی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

اس سے آگے بڑھ کر خدمتِ خلق کو اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے لیکن آجکل نہ تو مسلمان، مسلمان کے ہاتھوں محفوظ ہے اور نہ ہی خدمت انسانیت ہے اگر کہیں ہے تو بھی نمک میں آٹے کے برابر جو نہ ہونے کے مترادف ہے۔ بہت سے مالدار افراد اپنی دولت کو نمائشی طور پر استعمال کرتے ہیں وہ بڑی بڑی مساجد بناتے ہیں جن کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے شہرت کماتے ہیں مگر اپنے محلے میں غریب جو دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں کرسکتا وہ ان لوگوں کو نظر نہیں آتا ایسے اعمال میں اخلاص کی کمی ہوتی ہے اور اللہ کے ہاں اخلاص ہی اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے انما نطعمکم لوجه الله لا نرید منکم جزاء ولا شکورا (سورۃ الدھر: 9)

یعنی ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے اگر چیریٹی محض دکھاوے کے لیے ہو تو اس کی کوئی روحانی قدر نہیں رہتی۔

پاکستان میں یہ صورتحال اور بھی افسوس ناک ہے یہاں کروڑوں اربوں کھربوں روپے کی جائیدادیں کاروبار اور بینک بیلنس رکھنے والے لوگ بکثرت ہیں مگر ان کی اکثریت اپنی دولت کو ذاتی لذتوں اور مستی میں اڑا رہی ہے وہ پرتعیش گاڑیاں محل نما گھر اور بیرونِ ملک کی سیر پر لاکھوں خرچ کرتے ہیں لیکن پڑوسی جو دو وقت کی روٹی کے لیے تڑپ رہا ہے۔ اس کی خبر نہیں لیتے محلے میں کوئی بیمار ہو کوئی بچہ اسکول کی فیس ادا نہ کرسکے یا کوئی خاندان غربت کی دلدل میں پھنسا ہو تو یہ لوگ آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ دولت اللہ کی امانت نہیں؟ اللہ نے دولت دی ہے تو اس کا ایک حصہ غریبوں پر خرچ کرنے کا حکم بھی دیا ہے زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات کے احکامات اسی لیے ہیں کہ معاشرے میں توازن قائم رہے۔

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں دولت کی تقسیم انتہائی غیر مساوی ہے ایک طرف ارب پتی تاجر اور سیاست دان ہیں جو اپنی دولت سے دنیا بھر میں شہرت کماتے ہیں تو دوسری طرف کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے جہاں بھوک بیماری اور بے روزگاری عام ہے مگر افسوس کہ صاحبِ مال افراد میں خدمت کی توفیق کم ہے اس کی چند وجوہات یہ ہیں۔۔

مادی پرستی کی لہر

آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں لوگ دولت کو ذاتی کامیابی کا پیمانہ سمجھتے ہیں سوشل میڈیا پر دکھاوے کی دوڑ لگی ہے جہاں لوگ اپنی چیریٹی کو بھی پروموٹ کرتے ہیں تاکہ لائکس اور فالوورز ملیں یہ اخلاص کی جگہ نمائش لے آتی ہے۔

سماجی بے حسی

شہری زندگی میں لوگ ایک دوسرے سے دور ہوگئے ہیں پڑوسیوں کی خبر گیری کی روایت ختم ہو رہی ہے لوگ اپنے محلے کے مسائل کو نظر انداز کرکے بڑے بڑے پروجیکٹس پر توجہ دیتے ہیں جو میڈیا میں کوریج حاصل کرسکیں۔

حکومتی اور اداراتی ناکامی

جب حکومت غربت کے خاتمے میں ناکام ہوتی ہے تو ذمہ داری نجی افراد پر آجاتی ہے مگر پاکستان میں چیریٹی ادارے بھی اکثر کرپشن کا شکار ہوتے ہیں جس سے لوگوں کا اعتماد کم ہوتا ہے اس کمی کے اثرات سنگین ہیں غربت بڑھنے سے جرائم انتہا پسندی اور سماجی انتشار جنم لیتا ہے۔ اگر ہر صاحبِ دولت اپنی دولت کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی محلے کے غریبوں پر خرچ کرے تو معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے مثال کے طور پر، عبدالستار ایدھی جیسے افراد نے ثابت کیا کہ خدمتِ خلق سے نہ صرف اللہ کی رضا ملتی ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی آتی ہے وہ نمک میں آٹے کے برابر ایسے مخیر حضرات ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں بغیر کسی دکھاوے کے یہی لوگ اللہ والے بہترین لوگ ہیں۔

خدمتِ انسانیت کو اپنانے کے لیے چند عملی اقدامات ضروری ہیں

اخلاص کی بنیاد چیریٹی کرتے وقت نیت صاف رکھیں اللہ کے لیے کریں نہ کہ شہرت کے لیے ایک روٹی ایک دوا یا ایک مسکراہٹ بھی بڑی عبادت ہوسکتی ہے بڑے پروجیکٹس سے پہلے اپنے ارد گرد دیکھیں پڑوسی کی مدد کریں محلے میں فری کلینک یا اسکول قائم کریں مساجد اور مدارس میں خدمتِ خلق کی اہمیت پر لیکچرز دیں سوشل میڈیا کو مثبت استعمال کرکے دوسروں کو ترغیب دیں۔

حکومت زکوٰۃ کے نظام کو مضبوط کرے اور ٹیکس مراعات دے تاکہ لوگ چیریٹی کی طرف مائل ہوں آخر میں یاد رکھیں کہ اللہ نے فرمایا۔

لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون" (سورۃ آل عمران 92) یعنی تم نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں سے خرچ نہ کرو اگر پاکستان کے صاحبِ دولت افراد اس آیت پر عمل کریں تو غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ خدمتِ انسانیت نہ صرف اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے بلکہ یہ معاشرے کو جنت نظیر بناتی ہے آئیے ہم سب مل کر اس توفیق کی دعا کریں اور عملی قدم اٹھائیں۔

رمضان کی آمد آمد ہے اپنے ارد گرد مستحق افراد پر نظر رکھیں اور انکی ضروریات کو پورا کریں اس عمل کا جزا اللہ کی ذات ہی دے گی۔ انسان کے بس کی بات نہیں آپکا ایک چھوٹا سا نیک عمل آپکو اللہ سے قرب کا ذریعہ بنتا ہے اللہ کے ہاں محبوب ٹھراتا ہے اللہ کے خاص بندوں کی لسٹ میں شمار کرتا ہے تو پھر دیر کس بات آئے اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنائے اور اللہ کے پسندہ بندہ بن جائیں۔

Check Also

Shehr e Iqbal Mein Hazri

By Zulfiqar Ahmed Cheema