Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Chiragh Talay Andhera Aur Aik Talkh Haqiqat

Chiragh Talay Andhera Aur Aik Talkh Haqiqat

چراغ تلے اندھیرا ایک تلخ حقیقت

چراغ تلے اندھیرا یہ محاورہ اس صورت حال کو بیان کرتا ہے جہاں وسائل کی فراوانی ہو مگر وہاں کے باسی ان سے محروم رہتے ہوں۔ یہ مثال پاکستان کی اشرافیہ کی حقیقت کو بخوبی بیان کرتی ہے جو ملک کے وسائل پر قابض ہے اور عام آدمی کو تاریکی میں دھکیل دیتی ہے۔ اشرافیہ یعنی وہ مراعات یافتہ طبقہ جو کارپوریٹ سیکٹر جاگیرداروں سیاستدانوں اور دیگر طاقتور عناصر پر مشتمل ہے ملک کے وسائل کو لوٹتا ہے جبکہ عوام محرومی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اشرافیہ کی قبضہ گیری کی وجہ سے سالانہ 17.4 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جو ملک کی معیشت کا تقریباً 6 فیصد ہے۔ یہ اشرافیہ نہ صرف وسائل لوٹتی ہے بلکہ ٹیکس چھوٹ سستی ان پٹس اور دیگر مراعات حاصل کرکے ملک کو کمزور کرتی ہے۔ آئیے چند مثالوں سے اس تلخ حقیقت کو سمجھتے ہیں۔

بلوچستان کی مثال اس محاورے کی زندہ تصویر ہے۔ یہ صوبہ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کا مالک ہے 1952 میں سوئی گیس فیلڈ کی دریافت کے بعد بلوچستان نے ملک کی گیس پیداوار کا 56 فیصد حصہ فراہم کیا مگر آج یہ تناسب کم ہوکر 17 سے 22 فیصد رہ گیا ہے۔ پورا پاکستان اس گیس سے فائدہ اٹھاتا ہے صنعتیں چلتی ہیں گھروں میں چولہے جلتے ہیں مگر بلوچستان کے 95 فیصد باسی اس نعمت سے محروم ہیں۔ صوبے کے 32 اضلاع میں سے صرف 13 کو گیس کی سہولت میسر ہے اور شہری آبادی کا 59 فیصد اس سے بے بہرہ ہے۔ مقامی لوگ لکڑیاں جلاکر گزارا کرتے ہیں جبکہ صحت کے مسائل اور غربت ان کا مقدر ہے یہ اشرافیہ کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے جو وسائل نکالتی ہے مگر مقامی ترقی پر خرچ نہیں کرتی۔ بلوچستان کے قدرتی گیس کے ذخائر 19.3 ٹریلین کیوبک فٹ ہیں مگر رائلٹی اور ریونیو کا مناسب حصہ بھی نہیں ملتا یہاں تک کہ صوبے کی 85 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔

اسی طرح گلگت بلتستان پانی کی نعمت سے مالا مال ہے یہاں کے گلیشیئرز اور دریا انڈس ریور کو پانی فراہم کرتے ہیں جو پنجاب اور سندھ کو سیراب کرتے ہیں۔ پاکستان کا دنیا کا سب سے بڑا مربوط آبپاشی نظام 45 ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا ہے جو زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقے میں سالانہ 5000 ملی میٹر سے زیادہ برف باری ہوتی ہے جو دریاوں کو بھرتی ہے مگر یہاں کے عوام اس پانی سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ڈیمر بھاشا ڈیم جیسی منصوبوں میں گلگت بلتستان کی زمین ڈوب جاتی ہے مگر بجلی کی رائلٹی اور آبپاشی کا فائدہ پنجاب اور سندھ کو ملتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی آبپاشی کا 90 فیصد سے زیادہ زراعت پر خرچ ہوتا ہے مگر گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں مقامی آبپاشی کی سہولیات ناکافی ہیں یہاں کے لوگ اپنے ہی وسائل سے محروم ہیں جبکہ نیچے کی ریاستوں کی اشرافیہ اس سے مالامال ہوتی ہے۔

یہ دونوں مثالیں اشرافیہ کی تلخ حقیقت کو عیاں کرتی ہیں۔ پاکستان میں اشرافیہ جسے اشرافیہ یا ایلیٹ کلاس کہا جاتا ہے وسائل پر قبضہ کرکے عام آدمی کو محروم رکھتی ہے یو این ڈی پی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو 4.7 بلین ڈالر کی مراعات ملتی ہیں جبکہ امیر ترین 1 فیصد آبادی ملک کی 9 فیصد آمدنی پر قابض ہے۔ یہ اشرافیہ سیاست اور جاگیرداری سے مل کر ملک کو لوٹتی ہے۔ بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں وسائل نکالے جاتے ہیں، مگر ترقی نہ ہونے کے برابر یہاں غربت کی شرح 63 فیصد ہے اور تعلیم صحت اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محرومی عام ہے۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ نے ملک کو ایک نوآبادیاتی نظام میں تبدیل کر دیا ہے جہاں وسائل کا استحصال صرف چند ہاتھوں میں ہے اگر یہ جاری رہا تو معاشرتی انتشار اور عدم استحکام بڑھے گا۔ ضرورت ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور اشرافیہ کی قبضہ گیری ختم کی جائے تب ہی چراغ کی روشنی ہر جگہ پھیل سکے گی اور اندھیرا دور ہوگا۔

Check Also

Maryam Ka Jahaz

By Shahid Mehmood