Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kirdar Zinda Rehta Hai, Ghuroor Mar Jata Hai

Kirdar Zinda Rehta Hai, Ghuroor Mar Jata Hai

کردار زندہ رہتا ہے، غرور مر جاتا ہے

وقت ایک بے رحم منصف ہے۔ وہ کسی کے نام کے ساتھ رعایت نہیں برتتا۔ نہ وہ عہدے کی لاج رکھتا ہے، نہ پروٹوکول کی۔ میں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے مناصب کو عروج پر بھی دیکھا ہے اور پھر انہی مناصب کو تاریخ کے کونے میں پڑی ایک بے نام فائل بنتے بھی دیکھا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ایک صدرِ مملکت کے گرد حصار در حصار سکیورٹی ہوتی تھی، قافلے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں، سائرن کی آوازیں، سرکاری سلامیاں اور چمکتی وردیوں میں ملبوس اہلکار۔ ان کے ایک اشارے پر دروازے کھلتے تھے اور ایک جنبشِ ابرو پر فیصلے صادر ہوتے تھے۔ مگر پھر وقت نے کروٹ لی۔ چند برس گزرے۔ برسی کا دن آیا۔ وسیع و عریض قبرستان میں خاموشی تھی۔ نہ وہ ہجوم، نہ وہ نعروں کی گونج، نہ وہ چاپلوسی کی قطاریں۔ صرف بیگم، دو ملازم، دو پھولوں کے گلدستے اور تاریخ کی ایک ٹھنڈی سانس۔ اقتدار کی چمک دمک چند سال میں "ڈسٹ بن آف ہسٹری" کا رزق بن چکی تھی۔

یہ کوئی ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ وقت کا اٹل قانون ہے۔ عہدے عارضی ہوتے ہیں، کردار دائمی۔ منصب کا جلال اس وقت تک ہے جب تک کرسی سلامت ہے، کرسی گئی تو جلال بھی رخصت۔ جن ہاتھوں کو کبھی سلامی دی جاتی تھی، وہی ہاتھ قبر پر خاموشی سے رکھے رہ جاتے ہیں۔ طاقت کا زعم، رعونت کی چال اور تکبر کی زبان، یہ سب وقت کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کی الماری میں کتنے ہی نام ایسے ہیں جو کبھی طاقت کے استعارے تھے، مگر آج ایک سطر کے حاشیے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ وقت ان سب پر مٹی ڈال دیتا ہے اور مٹی کے نیچے سے صرف کردار کی خوشبو باقی رہتی ہے، اگر کہیں باقی رہتی ہے تو۔

دوسری طرف میں نے اپنی آنکھوں سے ایک اور منظر دیکھا۔ رائے ونڈ کی فضا میں ایک سادگی، ایک خاموش تقدس۔ وہاں حاجی عبدالوہاب کی قبر پر لوگ دن رات آتے ہیں۔ نہ کوئی سرکاری پروٹوکول، نہ میڈیا کی چکاچوند، نہ سرکاری بینڈ باجے۔ بس سادہ لباس میں لوگ، آنکھوں میں نمی، ہاتھوں میں دعا۔ پندرہ بیس افراد ہر وقت موجود، کوئی قرآن پڑھ رہا ہے، کوئی ہاتھ اٹھائے مغفرت کی التجا کر رہا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے اپنی زندگی عاجزی، خاموش خدمت اور دین کی دعوت میں گزار دی۔ نہ اس نے اقتدار کا مزہ چکھا، نہ سرکاری مراعات کی طلب کی۔ مگر آج اس کی قبر پر جو ہجوم ہے، وہ کسی سرکاری اعلان کا نتیجہ نہیں، یہ دلوں کی گواہی ہے۔ یہ اس خدمت کا اعتراف ہے جو اخلاص سے کی گئی ہو۔

فرق واضح ہے۔ ایک طرف وہ منصب تھا جس نے انسان کو اپنے حصار میں لے کر اسے رعونت کا اسیر بنا دیا۔ قمیص کے بٹن کھول کر طاقت کا مظاہرہ، مکے لہرا کر برتری کا اعلان اور لہجے میں تکبر کی کاٹ، یہ سب وقتی تھا۔ وقت نے اس تکبر کو بھی خاک میں ملا دیا۔ آج نہ وہ مکے ہیں، نہ وہ تنی ہوئی گردن۔ دوسری طرف ایک جھکی ہوئی پیشانی تھی، ایک نرم لہجہ، ایک خالص نیت۔ وہ عاجزی آج بھی زندہ ہے۔ لوگ اس کے لیے دعا گو ہیں، اس کے نام پر آنکھیں بھیگتی ہیں۔ اقتدار کی چکاچوند چند برسوں میں مدھم ہوگئی، مگر خدمت کی شمع بجھنے کے بعد بھی روشنی دے رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ اصل سرمایہ عہدہ نہیں، عمل ہے، اصل قوت اختیار نہیں، کردار ہے۔

ہماری اجتماعی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم عہدوں کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پروٹوکول ہی عزت ہے، سکیورٹی ہی وقار ہے اور ہجوم ہی عظمت ہے۔ حالانکہ یہ سب کرائے کے چراغ ہیں، جن میں تیل ختم ہوتے ہی اندھیرا اتر آتا ہے۔ عزت وہ ہے جو دلوں میں جگہ بنائے اور دلوں میں جگہ طاقت سے نہیں، محبت سے بنتی ہے، رعونت سے نہیں، خدمت سے بنتی ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جنہوں نے خود کو بڑا سمجھا، وہ چھوٹے ہو گئے اور جنہوں نے خود کو چھوٹا رکھا، وہ بڑے ہو گئے۔ کردار کی زندگی قبر کے بعد شروع ہوتی ہے، جبکہ غرور کی موت زندگی میں ہی واقع ہو جاتی ہے۔ وقت کی عدالت میں نہ کوئی ویٹو پاور چلتی ہے، نہ کوئی خصوصی استثنا۔ وہاں صرف عمل کی شہادت قبول ہوتی ہے۔

یہ کالم کسی فرد کی مذمت یا کسی شخصیت کی مدح نہیں، یہ وقت کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کی دعوت ہے۔ ہم سب اپنی اپنی سطح پر کسی نہ کسی اختیار کے حامل ہیں، گھر میں، دفتر میں، معاشرے میں۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا اختیار ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس اختیار کے ساتھ کیسا کردار تعمیر کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے جانے کے بعد ہماری یاد میں چند رسمی پھول رکھے جائیں گے، یا دلوں سے اٹھنے والی دعائیں ہمارے نام کے ساتھ جڑی ہوں گی؟ فیصلہ آج کے رویّے سے ہوگا، کل کی برسی سے نہیں۔ کردار زندہ رہتا ہے، غرور مر جاتا ہے اور وقت اس جملے پر ہر روز مہر ثبت کرتا ہے۔

وقت انسان کے نام سے زیادہ اس کے کام کو یاد رکھتا ہے۔ عہدے بدل جاتے ہیں، پروٹوکول چھن جاتا ہے، مگر جو دلوں میں گھر کر جائے وہ کبھی بے گھر نہیں ہوتا۔

رعونتوں کے شہر میں سب تاج گر گئے
جو سر جھکا کے چلتے تھے، وہ سرور ہو گئے

کرسی کی دھوپ چھن گئی، سایہ بھی ساتھ تھا
اخلاص کے چراغ مگر پُرنور ہو گئے

مٹّی نے ڈھانپ لی سبھی آوازِ تکبّر
کردار کے نقوش مگر مشہور ہو گئے

اک نام تھا کہ وقت کی آندھی میں کھو گیا
اک نام تھا کہ دل میں سدا طور ہو گئے

یہی سبق ہے زیست کا، اے اہلِ کارزار
غرور مر ہی جاتا ہے، کردار امر ہو گئے

Check Also

Kirdar Zinda Rehta Hai, Ghuroor Mar Jata Hai

By Asif Masood