Insan Aur Dar
انسان اور ڈر
زندگی جس رفتار سے چلتی ہے کبھی کبھار اس سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ زندگی کے لئے ڈرنا فطری بات ہے لیکن زندگی کی رفتار سے ڈرنا غیر معمولی بات ہے۔ رفتار کا انتخاب ہمارا خود کا ہوتا اور پھر خود کے انتخاب پر سوال اٹھا کے اسے تشکیکی نظروں سے دیکھنا انہونی سی لگتی ہے۔
لیکن ڈر ویسے کوئی انہونی نہیں بلکہ فطری ہی ہے کیوں کہ ازل سے انسان یہی ڈر تو سیکھتا آیا ہے، یہی ڈر تو وہ سکھاتا رہتا ہے، یہی ڈر تو وہ منتقل کرتا رہتا ہے۔ اسی ڈر کی تو وہ تبلیغ کرتا ہے، یہ ڈر اگر ختم ہو جائے تو زندگی زنجیروں کی قید سے آزاد ہو جائے گی لیکن پھر زندگی کو بھی قائل کرنا پڑے گا کہ وہ اب قید نہیں ہے بلکہ آزاد ہے اور شاید اس عمل کے لئے مزید کچھ زندگیاں درکار ہوگی اور ہمیں فی الحال فقط اک ہی ملی ہے اور اک زندگی میں ہم ڈر کے لشکرکے دو تین سپاہی ہی گرادے تو ہمیں گولڈ میڈل ملنا چاہیے۔
ڈر چھوٹا ہو یا بڑا اسے اگنور نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے قابو کرنا پڑتا ہے۔ ڈر منفی سوچنے، منفی عمل کرنے اور منفی ردعمل دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ انسان اکثر مستقبل قریب یا بعید کو سوچ سوچ کے ہلکان ہو جاتا ہے اور جب وہ لمحہ آتا ہے تو کچھ بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا وہ سوچ سوچ کے خود پہ جبر کرتا ہے۔
ڈر کی تمام شکلوں اور قسموں کا شجرہ کہیں نہ کہیں جاکے موت سے جڑتا ہے۔ موت ڈر کا جد امجد ہی تو ہے۔ انسانوں کا ڈر اور خوف بجا بھی ہے کہ انہوں نے مرنا ہے۔ انسانوں کا سب سے بڑا دکھ بھی شاید یہی ہے کہ وہ امر نہیں ہے۔ خدا کے مزے ہیں کہ اسے موت نہیں آنی۔ ہمارا سب سے بڑا دکھ بھی تو شاید یہی ہے کہ ہم انسان چاہ کے بھی خدا نہیں بن سکتے اور موت سے چھٹکارا نہیں پا سکتے، ہم اتنے بے بس کیوں ہے کہ خدا نہیں بن سکتے؟ دنیا کے پہلے اور آخری انسان کا یہ دکھ مشترک ہے کہ اک مر چکا ہے اور دوسرے نے مرنا ہے۔
یہ موت کا ڈر بھی تو لڑکپن کا ٹراما ہی ہے۔ نانی کی موت کو قریب سے دیکھنے کے بعد نہ جانے کہاں پڑھا، سنا یا دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس دن انسان کی پیدائش ہوئی ہو انسان نے اس دن ہی مرنا ہوتا ہے۔ بیسویں صدی کے آخری سال کے جون کے مہینے میں ہماری پیدائش ہوئی تھی۔ قیاس آرائیاں یہی سنی تھی کہ اتوار کو پیدا ہوئے تھے ہم اور پھر اتوار کا دن اتنا سخت اذیت میں گزرتا کہ اب بھی یاد کرکے خود کے لئے افسوس ہوتا ہے۔ لڑکپن کے بہت سارے اتوار اس شدید خوف میں ضایع ہوئے تو پھر اکتا کے ایک دن باپ کا نوکیا موبائل اٹھا کے بہت خواری کے بعد کیلنڈر کو انتیس جون 1999 تک لے گئے تو یہ انکشاف ہوا کہ پیدائش کا دن اتوار کے بجائے منگل ہے اور خوشی سے ہنسی چھوٹ گئی۔ اس حوالے سے سوچ کے اکثر ہنستا ہو یا مسکرا دیتا ہوں۔ یہ سطریں لکھتے وقت بھی مسکرا رہا ہوں۔
اتوار کے دن کا ڈر ختم ہوا تو منگل سے بالکل بھی ڈر نہیں لگا۔ منگل کو کچھ سوچنے کی فرصت ہی کہاں ہوتی تھی۔ اتوار زور و شور سے منانے لگے تو زندگی بھی معمول پہ آئی لیکن اب بھی اس بات کا دکھ ہے کہ یہ سب اکیلے جھیلا اور کیوں جھیلا؟ شاید میں ڈر رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے، کیا کوئی مجھے سمجھ بھی پائے گا یا میرا مذاق اڑائے گا؟ تنہا ہونے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ آپ سب تکالیف سے اکیلے گزر جاتے ہیں۔
یہ اتنے سارے ڈر ہم کہاں سے، کیسے اور کیوں پال لیتے ہیں؟ خیر، تحریر کی پہلی لائن پہ واپس آتے ہیں۔ اب تو زندگی اس رفتار سے چلتی ہے کہ کبھی جن چیزوں پہ مرتے تھے اب انہیں سوچنے کے لیے بھی وقت نہیں۔ جیسے میں تمہیں یاد نہیں کرتا، جیسے میں سگریٹ نہیں پیتا اور جیسے میں کرکٹ بھی اب نہیں دیکھتا۔ کچھ روز پہلے ہونے والے پاک بھارت میچ کا بس ایک ہی گیند دیکھ پایا تھا جس پر عثمان خان آؤٹ ہوئے اور وہ بھی ہوٹل والے کو چائے کے پیسے دیتے وقت غلطی سے دیکھ لیا تھا۔
بعد میں سوچا کبھی تم پہ، سگریٹ پہ اور کرکٹ پہ مرتے تھے اور اب پرواہ ہی نہیں۔ یہ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کا سفر ہمیں کیا سے کیا بنادیتی ہے۔ زندگی کی رفتار تمھیں گی تو سوچیں گے کہ زندگی کی اس دوڑ میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔
ڈر کو کس طرح فتح کیا جاتا ہے یہ میں نہیں جانتا البتہ بلا کی مصروفیت ہی سب سے بہترین حل ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے مصروف بھی تو نہیں رہا جاسکتا! شاید ڈر کو تسلیم کرکے، اسے پہچان سے کر، اسے اس کا حق دینے میں ہی انسانوں کی بھلائی ہے۔ ہر لڑائی کا اختتام صلح پہ ہوتا ہے اور انسان اور ڈر کی صلح کب ہوگی یہ کوئی نہیں جانتا!

