Hospital Ki Dehleez Par Tawajo Ki Dastak
ہسپتال کی دہلیز پر توجہ کی دستک

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور حکومت پنجاب کی جانب سے دوسرئے شعبوں کی طرح پنجاب کے شعبہ صحت میں بھی انقلابی اور تاریخی اقدامات اور ان پر عملی جامہ پہنانے کے لیے پیش رفتہ تیزی سے جاری ہے۔ ہسپتالوں میں پارکنگ فیس اور دوران ڈیوٹی موبائل فون پر پابندی کے موجودہ اقدامات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں جس کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچ سکے گا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ انسانی صحت کا شعبہ سب سے زیادہ توجہ کا متقاضی ہوتا ہے جو ایسے ہی چھوٹے چھوٹے بہت سے مسائل سے دوچار نظر آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ریاست کی اصل پہچان اس کے ہسپتالوں، عدالتوں، اسکولوں، تھانوں اور دفتروں میں موجود عملے کے رویوں سے ہوتی ہے۔ اگر ہسپتال یا ان دفاتر میں داخل ہوتے ہی جیب ہلکی اور دل بوجھل نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ اصلاح کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ میں اپنے سابقہ کئی کالمز میں نشاندہی کر چکا ہوں کہ ریاست اور شہری کے درمیان سب سے بڑی کرنسی "اعتماد" ہوتی ہے اور موجودہ پنجاب کی حکومت نے "اعتماد" کی یہ مشکل منزل اور کامیابی اپنے اس سے قبل کے بیشتر انقلابی اقدامات پر مکمل عملدرآمد سے حاصل کر لی ہے۔
پنجاب حکومت کے سابقہ اچھے اور بروقت اقدامات کو عام شہری ہی نہیں بلکہ ہر مکتبہ فکرکے لوگوں نے ہمیشہ سراہا ہے۔ گو کہ تمام اقدامات وقت کی ضرورت ہیں اور خصوصی طور پر ناجائز تجاوازات اور ناجائز قبضہ کے خاتمے کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات اور کوششیں قابل تحسین ہیں۔ اب معاشرتی اصلاح کے لیے ہسپتالوں کی دہلیز پر توجہ اور قانون کی یہ دستک ایک بار پھر بہت اچھی اور بروقت محسوس ہوئی ہے۔ امید کی جاسکتی ہےکہ ہسپتالوں اور بنیادی صحت کے دیگر معاملات پر بھی حکومتی توجہ ایسے ہی جاری رہے گی۔
خبر کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں پارکنگ فیس کا خاتمہ اور ڈیوٹی پر موجود عملے کے موبائل فون پر پابندی کے حالیہ اقدامات محض انتظامی فیصلے نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی کا اشارہ ہیں۔ یہ اعلان حکومت پنجاب کی جانب سے سامنے آیا تو بظاہر یہ ایک معمولی سا ریلیف لگا مگر اگر اس کے پس منظر میں جھانکا جائے تو یہ فیصلہ ہمارے صحت کے نظام کی روح کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے قبل میں اپنے کالمز میں اس پارکنگ فیس یا "دکھ پر بھی ٹیکس"کے بارئے میں نشاندہی کر چکا ہوں یہاں تک کہ موٹر سایکل سوار کو بائک کے علاوہ اپنے ہیلمٹ کا بھی پارکنگ ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ جو ہسپتال کے ماحول میں ان کے دکھ میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔
ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں لوگ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری اور پریشانی کے عالم میں آتے ہیں۔ کوئی ماں اپنے بچے کو بخار میں اٹھائے دوڑتی ہے تو کوئی بیٹا اپنے باپ کو وہیل چئیر یا اسٹریچر پر لادے ایمرجنسی کی طرف بھاگتا دکھائی دیتا ہے، حادثے کا کوئی زخمی فوری علاج کا خواہشمند ہے، ایسے میں پارکنگ کی پرچی لینا گویا دکھ پر محصول لگانے کے مترادف ہوتا تھا۔ چند گھنٹوں کی پارکنگ بسا اوقات دواوں سے بھی زیادہ مہنگی پڑ جاتی تھی۔ اس لیے پارکنگ فری کرنے کا فیصلہ معمولی نہیں بلکہ اس کا معاشرتی، اخلاقی اور انسانی وزن بہت بھاری ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ صحت کی سہولت کو کاروبار نہیں بننا چاہیے۔ ریاست علاج جیسی سہولتیں فراہم کر رہی ہے تو پھر یہ راستے میں پارکنگ فیس جیسی اضافی مالی اور نفسیاتی روکاٹیں کیوں حائل ہوں؟ ہسپتال کے ایریا میں حکومت کی جانب سے ایک محفوظ اور فری پارکنگ کا قیام یقینا"ایک احسن قدم سمجھا جائےگا۔
دوسرا فیصلہ ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا ہے یعنی موبائل پر پابندی دراصل توجہ کی واپسی کا عمل ہے۔ آج کے دور میں موبائل فون صرف رابطے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ توجہ کو منتشر کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے جو ہر فرد کی سوچ اور توجہ کو تقسیم کر دیتا ہے۔ اگر ڈاکٹر، نرس یا پیرامیڈیکل اسٹاف مریض کی بجائے اسکرین یا آواز میں گم ہو جائیں تو باہمی اعتماد کی دیوار میں دراڑ پڑنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ عدم توجہی انسانی جان کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ ہسپتال میں ہر ہر لمحہ قیمتی، نازک اور اہم ہوتا ہے۔ ایک کال کی تاخیر، ایک میسج کا جواب یا ایک سوشل میڈیا نوٹیفیکیشن کسی مریض کے لیے زندگی اور موت کا فرق بن سکتا ہے۔ اس لیے یہ پابندی دراصل پیشہ ورانہ اخلاقیات اور خدمات کے بلند اصولوں کی بحالی کی کوشش ہے۔ جب دروازے پر کھڑا عملہ رہنمائی کو فرض سمجھے گا اور ڈاکٹر مریض کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرئے گا اور نرس تیماداری پر توجہ دے گی تو یہ صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی شفا کی شروعات ہوگی۔
اگر ایسے اقدامات دیانت داری سے نافذ ہوگئے تو سرکاری ہسپتالوں کی فضا یکسر بدل سکتی ہے۔ مریض کو یہ احساس ہوگا کہ وہ کوئی گاہک نہیں ایک اہم شہری ہے اور ڈاکٹر کو یہ یاد دہانی ہوگی کہ اس کی توجہ کسی موبائل فون کی اسکرین پر نہیں انسان کی دھڑکن پر ہونی چاہیے۔ کسی بھی قانون کے بننے کے بعد سب سے مشکل اوراصل امتحان اس قانون کے نفاذ کا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات وقتی جوش کا نتیجہ تو نہیں ہیں یا پھر ایک مستقل پالیسی کا حصہ اور آغاز ہیں؟ کیونکہ اصلاح کا اصل انقلاب کاغذ پر نہیں بلکہ رویوں میں دکھائی دینا چاہیے۔
کہتے ہیں کہ شہری اور عام آدمی کو عزت دینا ہی اصل حکمرانی ہوتی ہے۔ اس قانون کے نوٹیفیکشن اور مضبوط عمل کی بدولت ہمارے ہسپتال یقیناََ محصول گاہ سے خدمت گاہ میں بدل جائیں گے۔ پنجاب حکومت کے یہ لگاتار فیصلے اور اقدامات بظاہر چھوٹے ضرور ہیں مگر علامتی طور پر بہت بڑے ہیں۔ انقلاب ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتا بلکہ کبھی کبھی یہ پارکنگ کی ایک پرچی پھاڑدینے اور موبائل کی ایک اسکرین بند کرنے سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ ایسے اقدامات صرف ہسپتالوں تک ہی محدود نہیں ہونے چاہیئں بلکہ دیگر عوامی خدمات کے اداروں سے بھی پارکنگ فیس کا خاتمہ ہونا چاہیے جہاں کا لوگ اپنے مختلف مسائل کے لیے رخ کرتے ہیں۔
بہاولپور میں تو گاڑی یا موٹرسایکل کے سبزی منڈی کے داخلے پر بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جہاں لوگ بازار کی نسبت کچھ کم قیمت پر سبزی خریدنے جاتے ہیں۔ ایسے ہی عوامی خدمات کے تمام مراکز پر دوران ڈیوٹی موبائل فون پر پابندی ہونی چاہیے تاکہ لوگوں پر مکمل توجہ دی جاسکے۔ یقیناََ ایسی اصلاحات اور قوانین ہی انسانی زندگی میں سکون کا باعث بن سکتے ہیں۔ عوامی سہولیات فراہم کرنے والے تمام سرکاری دفاتر میں سی سی ٹی وی کیمرئے لگاےجائیں اور انہیں سیف سٹی سے منسلک کیا جائے تاکہ رشوت جیسے ناسور کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے۔

