Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (1)

Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (1)

پاکستان میں بڑھتے ہوئے خاندانی مسائل اور اُن کا ممکنہ حل (1)

بہت سے ڈاکٹروں کی طرح subspecialty میرا اولین شوق تھا۔ Ophthalmology سے تبدیل ہوتے ہوئے پاکستان میں مجھے کارڈیک سرجن بننے کا ہی شوق ہوا۔ اس وقت لاہور میں پی آئی سی بالکل نیا بنا تھا۔ اس کی دودھیا رنگ کی روشنیوں میں نہائی خالی راہداریاں، جیل روڈ سے دکھائی دیتی بلند اور پروقار عمارت۔ عمارت میں موجود کشادہ دفاتر، ائیر کنڈیشنڈ وارڈز، صاف ستھرا کیفیٹیریا اور سب یا بہت سی ادویات کی موجودگی بہت اچھی دکھائی دیتی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ کم و بیش ایک ہی سال میں یہ اندازہ ہوگیا کہ کارڈیک سرجری کا جسمانی مشقت والا کام میرے بس سے باہر ہے لیکن مجھے کارڈیالوجی میں بہرحال کام کرنے کا موقع ملا جس میں EKG پڑھنے سے Temporary pace maker ڈالنا بھی سیکھ لیا البتہ جب میں امریکہ پہنچا تو میں اپنی زندگی کے روشن اور تاباں دن جن میں خواب دیکھے جاتے ہیں، وہ گزار چُکا تھا اور تب تک میرا مذاق بن چُکا تھا کہ "ڈاکٹر صاحب اب جانے دیں"۔ نوجوانی کی طاقت کم ہو رہی تھی اور "میں اور میری کامیابی" سے "ہم اور ہمارے خاندان کی کامیابی" کا سفر آن پہنچا تھا۔

بہت سی وجوہات کی بنا پر اب سائیکائٹری میرا پہلا خواب تھا اور پری میچ میں تین ریزیڈنسی کے مواقع ملے۔ ریڈیالوجی، سائیکائٹری (علم نفسیات) اور میڈیسن پیڈیاٹرکس (طب اور بچگان) کا مربوط پروگرام۔ میں نے سائیکائٹری کو ہی چُنا اور تب تک یہ بہت ظاہر ہو چُکا تھا کہ اس فیلڈ میں آنے والے سالوں میں بہت دم خم ہے۔ پہلا سال تو کچھ میڈیسن، نیورالوجی، ایمرجنسی روم اور پیڈیاٹرکس میں گزرا لیکن دوسرے سال میں تحلیل نفسی شروع کروائی گئی اور میرے محبوب استاد ڈاکٹر ولسن میرے سپروائزر بنے۔ وہ بلاشبہ اپنی فیلڈ میں مقتدرہ سند رکھتے تھے لیکن مجھے سوال پوچھنے کا موقع دیتے۔ ایک محبت کرنے والے خاندان سے اور سمجھ دار والدین کے گھر سے آتے ہوئے دو سوال مسلسل مجھے بے چین کئیے رکھتے کہ سائیکو تھیراپی اتنی سادہ سی فیلڈ ہے اور کیا لوگوں کی زندگی میں کامن سینس کی اور مدد گار لوگوں کی اتنی کمی ہے کہ سینکڑوں ڈالر دے کر وہ باتیں سننے آتے ہیں جو ہم گھر سے جانتے ہیں اور ڈاکٹر ولسن کا جواب ہاں میں تھا۔

زندگی گزرتی گئی۔ اماں مرحومہ کا کینسر واپس آیا اور مجھے صحیح معنوں میں اس فیلڈ کی اہمیت کا احساس ہوا۔ ڈاکٹر ولسن میری بات سُن لیتے اور احساس ہوا کہ وہ مجھے supportive Psychotherapy کے ذریعے مدد دے رہے تھے۔ پاکستان واپسی ہوئی اور اماں کی وفات کے مشکل دن گزرے۔ امریکہ واپسی کے فوراََ بعد ایمرجنسی روم میں کام کرتے ہوئے ایک مرتبہ ایک سینئیر خاتون ہم عصر کو اماں کی وفات کا معلوم ہوا تو مجھ سے اُن کے بارے میں پوچھنے لگیں۔ بتاتے ہوئے میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ سالوں بعد معلوم ہوا کہ وہ تو مددگار تحلیل نفسی (supportive Psychotherapy) تھی اور بحثیت ماہر نفسیات وہ جانتی تھیں کہ میں کس کرب سے گزر رہا ہوں۔ بالوں میں اترتی چاندی نے یہ بھی بتایا کہ شادی، بیماری یا موت کے دنوں میں عزیز رشتہ دار کتنے اہم ہوتے ہیں۔ انہی سالوں میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جب وفات کے گھر اور اسپتال میں آنے جانے والوں کا تانتا بندھ جاتا تھا تو بڑے بوڑھے مختلف طرز کی تحلیل نفسی (سائیکوتھیراپی) ہی کرتے تھے ہاں بھلے وہ پیشہ ورانہ اور نستعلیق تو نہ ہو لیکن خام (crude) اور مدد گار ہوتی رھی۔

ایک مشرقی معاشرے میں جہاں کم از کم اس زمانے میں اہلیہ ایک بڑے خاندان کا حصہ تو ہوتی تھیں لیکن بہن بھائی، ماں باپ، خالہ پھوپھی، چچا ماموں اور دو ایک سیانے کسی بھی معاملے میں رائے دیتے اور جو فیصلہ ہوتا وہ خاندان کے حق میں تو شاید بہتر ہوتا لیکن nuclear family کو بہت سی صورتوں میں نقصان ہوتا تھا۔ ایک آدھ بھائی کی زندگی خاندان کو سمیٹنے میں گزر جاتی، دو ایک لوگ، سب بہن بھائیوں کی شادیاں کرواتے، جہیز بناتے اور ہر شخص کیلئے گھر کے کمرے بناتے ہوئے ہار جاتے۔ اُن کی اداس آنکھوں اور سونی کلائیوں والی اہلیہ کی سوگوار مانگ کچھ اور داستان کہتی۔ بچے گلیوں میں بھاگتے دوڑتے لیکن بڑی یا منجھلی بہو خاندان پر قربان ہو جاتیں۔

شوہر بلڈ پریشر، شوگر، پردیس کا شکار ہوتے اور واہ واہ کے شور میں ایک خاندان خاموشی سے ناکامیوں کے گھاٹ اتر جاتا۔ بھابی کے ہاتھ کا کھانا تو بہت عمدہ ہے سے لے کر امی کے پاؤں بڑی بھابی کی بچیاں بہت اچھا دباتی ہیں اور ہر جمعہ یا اتوار کو سارا خاندان ایک گھر سے خاطر کروانے جمع ہوتا یا چھٹیوں میں تین ماہ کیلئے امی کے گھر ساری نندیں اور دیور اکٹھے ہوتے۔ بہت لطف آتا لیکن کوئی یہ نہ سوچتا کہ ایک خاندان ایسی قیمت دے رہا ہے جس سے ایک مکمل نسل ناکام ہو رہی ہے۔ اس خاندان کے بچے ماں باپ سے دور رہتے، پڑھائی لکھائی کم ہوتی اور آہستہ آہستہ معاشی اور معاشرتی ناکامیاں، رگوں میں اندھیرے کی صورت اترتیں اور باقیوں کی کامیابی کے شور میں ایک یا دو خاندان تعریفوں کے انبار تلے ایسے دب جاتے کہ انہیں بھی اپنی ناکامی کا علم نہ ہوتا۔

امریکہ میں بھی ایسے خاندان ہیں جہاں بچے قربانی دیتے ہیں اور ماں باپ کی بھی پسند یا نا پسند ہے۔ درست لکیریں کھینچنا اور خاندانی رشتوں کو اپنے مقام پر رکھتے ہوئے ہمت اور حوصلے سے اپنے رشتوں کو درست کرنا ایک بہت اہم Interpersonal therapy کی اصولی بنیاد ہے۔

اپنے آپ کو نقصان پہنچائے بغیر رشتے بہتر کرنا، اپنے خاندان میں اپنا ایسا درست کردار متعین کرنا جو نقصان دہ نہ ہو اور سب کیلئے بشمول اپنے لئیے فائدہ مند ہو۔ گفتگو کے طریقے کو بہتر کرنا اور غم، دکھ اور ملال کا سمجھ بوجھ سے علاج اس تھراپی کی بنیاد ہے۔

بین الشخصی علاج یہ کہتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ آپ کی زندگی میں اس وقت کیا ہو رہا ہے، آپ کیسے بات چیت کرتے ہیں، آپ تنازعہ کو کیسے سنبھالتے ہیں، آپ تبدیلی سے کیسے نمٹتے ہیں اور آپ دوسروں سے کتنا جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں بہت سی جگہوں پر ایک مشترکہ خاندانی نظام ہے جس میں بہو پر یا تو زیادہ ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے یا والدین بہت تکلیف دہ حالات سے گزرتے ہیں۔ جہاں غربت اور جہالت خاندانوں کو تباہ کر ڈالتی ہے اور ہمارا نظام اس وقت تباہی کے دہانے کو چھو رہا ہے، یہاں اس کو بہتری کی ضرورت ہے اور بین الشخصی نفسیاتی علاج بہت سے خاندانوں کی ضرورت ہے جو سب کو سمجھا سکے کہ مشترکہ خاندانی نظام کو کامیاب بنانے کے لئیے سب کو ہی قربانی دینا ہے ورنہ ایک جذباتی معاشرے میں تعلقات ایسے بگڑیں گے جو معاشرے کو برباد کر ڈالیں گے اور سنبھالنے مشکل ہوں گے۔

سیاسی بگاڑ، سماجی تنہائی، تعلقات کے تنازعات نے نفسیاتی مسائل کا روپ دھار لیا ہے اور بڑھتی ہوئی خود کشیوں اور جھگڑوں نے ہمیں ایک آتش فشاں کے دہانے پر جا کھڑا کیا ہے۔

Check Also

Tamasha Magar Shuru Ho Chuka Hai

By Nusrat Javed