Faisla Tera Tere Hathon Mein Hai
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے

نوجوانی کے دور میں سب کی طرح ہم بھی دو ہی بنیادی خواب دیکھتے تھے، زندگی میں کچھ بڑا کر ڈالنے کی خواہش اور کسی صبیح اور تاباں چہرہ رو کے ساتھ تا عمر محبت سے زندگی گزارنے کی تمنا۔۔
دستِ دعا میں شعلۂ نایاب دیکھنا
ہر شب ہمیں چمکتے ہوئے خواب دیکھنا
ریزیڈنسی کے دوران ہمارے ایک استاد تھے اور جانئیے کہ مرد عموما" ھینڈسم گنے جاتے ہیں اور خواتین کیلئے حسین و جمیل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے لیکن وہ ہینڈسم تو تھے ہی لیکن انتہائی حسین آدمی تھے اور یہ جاننے کے لئیے ہمیں اپنی ساتھی خواتین سے پوچھنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک دمکتے ہوئے سنہری دل کے مالک انسان دوست ڈاکٹر تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ہمیں اپنے گھر کھانے پر بُلایا۔ امبر تو نہیں جا پائیں لیکن میں ضرور جا پہنچا۔ کھانے کی میز پر انہوں نے ایک آدھ لفظ کہا جو اُن کی اہلیہ کو کچھ اچھا نہیں لگا اور انہوں نے شاید نرمی سے اظہار بھی کر ڈالا۔ یہ خود جتنے حسین اور ہینڈسم تھے، ان کی اہلیہ اتنی ہی واجبی شکل و صورت کی مالک تھیں۔ بغیر کسی توقف کے انہوں نے نہ صرف معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا بلکہ اپنی بیگم کو محبت سے ایک بوسہ دے ڈالا۔ مشرقی اقدار تو بھلے مجروح ہوئیں اور کچھ وفات بھی پا گئیں لیکن زندگی کا ایسا سبق سیکھ لیا جو روپہلے لفظوں سے لکھنے کے لائق تھا۔
فیضان ابھی چند ماہ کا تھا اور ہم سیکنڈ ائیر میں میتھوڈسٹ اسپتال، اوماہا میں کام کر رہے تھے۔ ہمارے محبوب استاد سائیکائیٹری کے چینی نژاد امریکن ڈاکٹر چُو تھے۔ بردبار، محبت کرنے والے اور شفاف دل کے مالک ڈاکٹر چُو نے شروع کے دنوں کی امریکن زندگی کے کم و بیش سارے پیشہ ورانہ تعارفی خطوط، ڈاکٹر ولسن اور ڈاکٹر مارسل کے ساتھ لکھے۔ امریکہ کی زندگی میں ہم عصر صرف ہم عصر ہی نہیں ہوتے۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں، کھانا اکٹھے کھاتے ہیں، بچوں اور شوہر یا اہلیہ کا ذکر کرتے ہیں اور ذاتی زندگی کی گفتگو کرتے ہیں۔ ہم لنچ کے لئیے ڈائننگ روم میں تھے کہ ڈاکٹر چُو نے مجھے مخاطب کرکے بہت نرمی اور متانت سے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تُم امبر کا ہاتھ بٹاتے ہو گے۔ اکیلی لڑکی کے لئیے تین بچوں کو پالنا آسان نہیں ہے۔ ایک ایسا سبق اس شخص سے سیکھا جو مشرقی اقدار کا مالک تھا لیکن مغربی دنیا کے گرم سرد سے گزر چُکا تھا۔ زندگی کی کتاب میں دانائی کے صفحوں پر حکمت اور دانش کا ایک اور سبق لکھ لیا گیا۔
انہی دنوں ویڈیو کی دکان پر بچوں کے ساتھ ویڈیو لینے پہنچے تو ڈاکٹر ولسن اپنی اہلیہ اور اکلوتی صاحبزادی کے ساتھ موجود تھے۔ مختصر سی بات چیت تو ہوئی لیکن ان کا اپنی اہلیہ کے لفظوں کے لئیے احترام آنکھوں کو خیرہ کر ڈالنے والا تھا۔
نبی کریم ﷺ اپنی ایک زوجہ اور ہماری ماں ام المومنین سیدہ عائشہؓ کے ہاں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت ایک اور زوجہ سیدہ زینب بنت جحشؓ نے نبی کریم ﷺ کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی۔ اب جن کے گھر میں نبی کریم ﷺ اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر (غصہ میں) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور (خادم سے) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی کریم ﷺ نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا۔ [صحيح البخاری) کم و بیش مفہوم۔۔
اتنی بڑی بات ہوگئی لیکن نہ خفگی کا اظہار اور نہ آواز اونچی ہوئی۔ یہ ہمارے رسول کریم ﷺ ہیں جن کی سُنت پر چلنے کے احکامات ہیں۔
سالوں پہلے میڈیکل کالج یا ہاؤس جاب کے ایک ساتھی تھے جن کو ہم اتنا پسند بھی نہیں کرتے تھے اور کچھ اتنی دوستی بھی نہیں تھی۔ ایک مرتبہ پاکستان جانا ہوا تو اُن کی اہلیہ سے پیشہ ورانہ تعلق سے ملاقات ہوئی، کچھ ذکر ہوا تو کہنے لگیں کہ آپ تو میرے شوہر کو جانتے ہوں گے۔ یہ وہی صاحب تھے۔ بہت محبت سے ذکر کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ میں منگنی یا نکاح کے بعد ایک لا علاج بیماری میں مبتلا ہوگئی اور اپنے ہونے والے شوہر کو بتایا اور ساتھ ساتھ کہا کہ شاید اب یہ رشتہ نہ قائم رہ سکے اور وہ سمجھتی ہیں۔ اس با وقار انسان نے شخصی احترام سے جواب دیا کہ اس بیماری کا رشتے سے کیا تعلق۔ شادی بھی ہوئی اور جو احترام اور محبت ان خاتون کا اپنے شوہر کے لئیے دیکھنے کو ملا وہ ڈھونڈے نہیں ملتا۔
شادی کے بعد زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اولین دن محبت اور رفاقت سے عبارت ہوتے ہیں اور ہر طرف محبت برستی دکھائی دیتی ہے
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں
درمیانہ اور مشکل ترین حصہ جس میں دونوں نوجوان ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بہت سی امیدیں پوری بھی نہیں کر پاتے اور ان دونوں کے ادغام سے پیدا ہونے والا اگلی عمر کا تیسرا حصہ جو شوہر کے چہرے کے اطمینان اور اہلیہ کے پرسکون انداز سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہی حصہ گئے دنوں کی ان کہی داستان لکھتا ہے۔ Tall، dark and handsome یعنی دراز قد، پرکشش اور خوبرو چہرے والا حسین نوجوان اور صبیح رنگت والی دل کش حسن آرا اپنی جسمانی کشش کھو بیٹھتے ہیں لیکن گزرے ہوئے دن، اس رشتے کا حقیقی حسن اب زندگی کے سنگلاخ پتھروں پر سنہرے حروف سے لکھ چُکے ہوتے ہیں۔
اب یہی گزرے دنوں کی نوجوان اپسرا اور خوبرو شہزادہ گلفام اپنے بچوں کو ایک خوشگوار اور اچھا مستقبل دینے کی کوشش میں ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہیں لیکن اگر شروع کے ان سالوں میں ایک دوسرے کو محبت، احترام اور وقار نہ دیا جا سکے تو آنے والی نسلیں قیمت ادا کرتی ہیں۔ اولاد اپنی شخصی انفرادیت کھو دیتی ہے، نئے بننے والے رشتوں سے خوف کھاتی ہے اور معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ رشتوں کی توڑ پھوڑ کا ایک ایسا nuclear fission reaction. جوہری انشقاق شروع ہوتا ہے کہ خاندان کے خاندان دریا بُرد ہو جاتے ہیں۔ ہر عمل کا رد عمل ہے اور فزکس کا یہ کلیہ انسانی رشتوں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔
آج نتیجہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ نئے عروسی بندھن باندھنے والے نوجوانوں کو ہم بحثیت خاندان اور معاشرہ کیا دے سکتے ہیں؟
دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامان موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

