Jurm Ka Koi Suba Nahi Hota
جرم کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا

ذرا تصور کیجیے، اگر یہی واقعہ سندھ میں پیش آیا ہوتا اور اس میں کسی صوبائی وزیر، کسی ایم پی اے یا کسی بااثر سیاسی خاندان کے فرد کا نام سامنے آتا، تو کیا منظر ہوتا؟ کئی روز تک ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات ہوتیں، اخبارات کی شہ سرخیاں سندھ حکومت کی نااہلی کے قصے سنا رہی ہوتیں، اینکر حضرات اخلاقیات کے تمام سبق یاد کر لیتے اور سوشل میڈیا سندھ اور سندھیوں کے خلاف نفرت اور طعن و تشنیع سے بھر جاتا۔
مجھے آج بھی یاد ہے پچھلے سال جب کراچی میں ایک بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوا تھا۔ پورا ملک سندھ حکومت پر برس پڑا تھا اور بجا طور پر برس پڑا تھا۔ میں خود بھی ان آوازوں میں شامل تھی۔ لیکن صرف دو دن بعد پنجاب میں بھی ایسے ہی کئی افسوسناک واقعات پیش آئے، مگر وہ قومی بیانیہ نہ بن سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ سندھ میں ناقص انفراسٹرکچر، بدانتظامی اور کرپشن بہت ہے۔ لیکن جرم کسی ایک صوبے کی جاگیر نہیں۔ اگر تنقید کرنی ہے تو پھر اصول ایک ہونا چاہیے، معیار ایک ہونا چاہیے اور انصاف بھی ایک جیسا ہونا چاہیے۔
لاہور واقعہ اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔
غیر ملکی خواتین، مبینہ طور پر اغوا، حبسِ بےجا، جنسی تشدد و ریپ اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کا شکار ہوئیں۔ ایسے وقت میں جب بڑی مشکل سے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا میں ابھرنا شروع ہوا تھا، جب غیر ملکی سیاح یہاں سے اچھی یادیں لے کر جا رہے تھے، اس ایک واقعے نے برسوں کی محنت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
اگر یہ جرم کسی گمنام مجرم نے کیا ہوتا تو شاید لوگ اسے ایک عام جرائم پیشہ ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے۔ لیکن جب الزامات ایک ایسے نوجوان پر ہوں جس کا تعلق ملک کے ایک انتہائی بااثر سیاسی خاندان سے بتایا جا رہا ہو، تو پھر سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا، بلکہ ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور احتساب کے پورے نظام کا بن جاتا ہے۔ پھر یہ پوچھنا بھی لازم ہو جاتا ہے کہ قانون کہاں تھا؟ سیف سٹی کے کیمرے کیا ہوئے؟ اور سی سی ڈی کہاں سوئی پڑی تھی۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک وہ سرکاری بیانات ہیں جنہوں نے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید گہرا کر دیا۔ کوئی بھی عورت، جو مبینہ طور پر اغوا، قید، جنسی تشدد اور دھمکیوں سے گزری ہو، وہ ہاتھ میں جھنڈا اٹھا لینے سے مطمئن نہیں ہو جاتی۔ صدمے کی اپنی زبان ہوتی ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے سمجھے، نہ کہ اس کا مذاق بنائے۔ لیکن اس سارے واقعے نے مجھے ایک بار پھر نور مقدم کا قتل یاد دلا دیا۔
اس وقت بھی موقف یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، کہ کسی بھی انسان کی شخصیت کی تعمیر میں والدین کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کوئی ماں باپ اپنے بچوں کی سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتے۔ ہر انسان اپنی مرضی رکھتا ہے، اپنے فیصلے کرتا ہے اور بعض اوقات بہترین تربیت بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر والدین اپنی اخلاقی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
پاکستان مغربی معاشرہ نہیں ہے، جہاں بچے سولہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں گھر چھوڑ کر اپنی الگ زندگی شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں بچے برسوں والدین کی نگرانی، ان کی اقدار، ان کی سوچ اور ان کے اثر و رسوخ میں رہتے ہیں۔ اچھی بری باتیں سب سے پہلے گھر ہی سے سیکھی جاتیں ہیں۔
نور مقدم کے قتل کے بعد بھی ہماری توجہ قاتل کی شخصیت کے بجائے مقتولہ پر مرکوز رہی۔ سوال یہ نہیں تھا کہ "وہ وہاں کیوں گئی؟" سوال یہ تھا کہ ایک نوجوان اس درندگی تک پہنچا کیسے؟ افسوس کہ ہمارے معاشرے نے قاتل سے زیادہ مقتولہ کا احتساب کیا۔
آج بھی اگر موجودہ مقدمے میں عائد کیے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو سوال صرف ایک فرد کا نہیں ہوگا۔ سوال یہ بھی ہوگا کہ ایک بااثر، تعلیم یافتہ اور مراعات یافتہ خاندان میں پرورش پانے والا نوجوان اس نہج تک کیسے پہنچا؟ دولت، طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ اگر احتساب سے بالاتر ہونے کا احساس پیدا کر دیں، تو پھر تربیت کا سب سے بنیادی سبق ہی کہیں گم ہو جاتا ہے۔
اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اگر متاثرہ خواتین پاکستانی ہوتیں تو ممکن ہے ایک بار پھر انہی کے لباس، کردار، وقت اور موجودگی پر سوال اٹھائے جاتے۔ مگر اس بار متاثرین غیر ملکی تھیں، اس لیے معاملہ عالمی نظروں میں آ گیا اور اسے خاموشی سے دفن کرنا آسان نہ رہا۔ گو کہ کوشش پوری کی گئی تھی۔ لیکن متاثرہ خواتین کا آخری بیان اور جان بچا کر ایک جنرل اسٹور میں پناہ لینے کی ویڈیو جیسے کئی معاملات نے پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کئی سوال اٹھا دیئے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی شاہراہوں، عمارتوں یا ترقیاتی منصوبوں سے خوب صورتی تو بڑھتی ہے لیکن مضبوطی اس کے انصاف سے ہوتی ہے۔
کیونکہ جرم کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا۔

