1.  Home
  2. Blog
  3. Rehmat Aziz Khan
  4. Soch Safar

Soch Safar

سوچ سفر

شعری مجموعہ "سوچ سفر" روایتی شاعرانہ اظہار کی حدود سے ماورا ایک پشتون شاعر کی اردو شاعری ہے۔ گل بخشالوی کی خواہش تھی کہ میں ان کے مجموعہ کلام پر سیر حاصل تبصرہ لکھوں، ادب دوست گل بخشالوی کی اس خواہش کا احترام لازم تھا، میں بخشالوی کی ادبی خدمات کا شیدائی ہوں ایک پختون اردو ادب سے اپنے پیار میں اس قدر صادق اور امین ہے، میں جانتا ہوں ہم پختونوں کو اپنے پختوں بھائی پر ناز ہے۔

گل بخشالوی کی ادبی خدمات کا معترف تو میں ہوں، میں انکی شاعری بھی پڑھتا اور سنتا رہتا ہوں لیکن میری آسانی کے لئے بخشالوی نے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" میں اپنی شاعری مجھے ارسال کی اور میں نے گہرائی میں بخشالوی کی شاعری کو پڑھا اور ان کی شاعری کو پرکھا، تب میں قلم اٹھایا اور لکھنے لگا۔

شعری مجموعہ "سلگتے خواب" میں گل بخشالوی نے شاعرانہ شکلوں کی متنوع رینج کو شامل کیا ہے "سلگتے خواب" میں، حمد، نعت، غزل، نظم، اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے دل سے لکھی گئی شاعری ہے۔ کتاب کا آغاز ایک دل کو چھونے والی حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے اس کے بعد نعت رسول مقبول کو شامل کیا گیا ہے، جس میں گل بخشالوی کی روحانی گہرائی اور تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔

شاعر کی داستان حیات سے میں بخوبی واقف ہوں، اس کی پیدائش بخشالی ضلع مردان، خیبر پختونخواہ سے لے کر اپنی ماں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کے لیے اس کی گہری محبت تک کی کہانی کو شاعری کے انداز میں اس کتاب "سلگتے خواب" میں شامل کیاگیا ہے۔ وہ اپنی ایک تالیف میں اپنی ماں کو اپنی پہلی محبت قرار دے کر لکھتے ہیں کہ "میری پہلی محبت میری ماں ہے۔ شعور کی دہلیز پر پاکستان کی سوہنی دھرتی نے میرا استقبال کیا، ماں اور ماں دھرتی سے میری محبت میری زندگی کا حسن ہے۔ صوبہ خیبر پختون خوا کا باشندہ ہوں، مردان کے مضافاتی گاؤں بخشالی میں 30 مئی 1952ءکو پیدا ہوا، والدین نے میری شناخت کیلئے میرا نام سبحان الدین رکھا اور گلشن ادب میں آ ج میری پہچان گل بخشالوی ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول نوشہرہ میں آٹھویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی میرے والد محترم اسرار الدین (مرحوم)، اے سی سینٹر نوشہرہ کے چونگی نمبر2میں عبدالحکیم خان کے مال گودام میں ملازم تھے غربت کو میں نے سنا نہیں بلکہ انتہائی قریب سے دیکھا ہے"۔

گل بخشالوی کی ابتدائی زندگی پاک فوج میں ان کے دور میں ایک بیداری سے گزری۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انکاونٹر نے مارشل لاء اور جمہوریت کے درمیان فرق کے بارے میں ان کی بیداری کو ہوا دی، جس سے ان کے اندر شاعرانہ اظہار اور مزاحمتی شاعری کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ایک سپاہی سے شاعر میں اس کی تبدیلی ان سماجی اور سیاسی اثرات کی عکاسی کرتی ہے جنہوں نے اس کی شاعرانہ شناخت کو تشکیل دیا۔

وہ لکھتے ہیں: "میں پاک فوج کی دادِ شجاعت پر میرا دل دھڑکنے لگا میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر 1966ءمیں وطن عزیز کا سپاہی بن گیا لیکن شعور کی پرواز کچھ اور تھی ذہن نے پاک فوج میں مزدور سپاہی اور افسر بادشاہ کے فرق کو تسلیم نہیں کیا، جون 1968ء میں پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوبی مارشل لاءکے خلاف تحریک جمہوریت کا عَلم بلند کردیا تو مارشل لاء اور جمہوریت میں فرق کے احساس نے میرے شعور وفکر کو جھنجھوڑا میرے وجود میں لفظوں کے رِدم میں کہنے کا جذبہ مچلنے لگا۔

میں اس وقت کھاریاں چھاؤنی میں پاکستان فوج کا سپاہی تھا سخت پابندیوں کے باوجود میں کھاریاں شہر میں جی ٹی روڈ پر کاروانِ جمہوریت کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی استقبال کو دیکھنے چلا آیا، اور بھٹو صاحب سے ہاتھ ملانے میں کامیاب ہوگیا، جمہوریت کے علمبردار نے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اور میں نے اپنی مادری زبان پشتو میں پہلی نظم کہی جو میں نے اپنے والد صاحب (مرحوم)کو سنائی جو نیشنل عوامی پارٹی کے سرخ پوش بنیادی رکن تھے۔

میری نظم سے میرے والد صاحب کی سوچ میں تبدیلی نے مجھے حوصلہ دیا 1971ء کی جنگ سے پہلے پاک فوج کو میں نے خیر باد کہہ دیا اور واہ فیکٹری میں ملازمت اختیار کر لی واہ فیکٹری سے ہفت روزہ پرچہ واہ کاریگر شائع ہوتا تھا اس پرچے کے ایک شمارے میں استاد دامن کی ایک نظم کے جواب میں ایک مزاحیہ نظم کہی جو بغیر کسی سے اصلاح لیے میں نے ہفت روزہ واہ کاریگر کے ایڈیٹر کو دی اور وہ شائع ہوگئی یہ میری اردو کی پہلی نظم تھی"۔

گل بخشالوی کے ادبی سفر میں زبان اور تعلیم اہم چیلنج بن کر ابھرے۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے اور لسانی رکاوٹوں کی وجہ سے نامکمل رسمی تعلیم کے باوجود گل بخشالوی کی اردو ادب سے وابستگی غیر متزلزل رہی۔ ان کی ابتدائی تحریریں، خاص طور پر پشتو اور بعد میں اردو میں ان کی ادبی خدمت کی آئینہ دار ہیں۔ اپنی تعلیم کے ادھوری رہنے کے بارے میں گل بخشالوی رقمطراز ہیں۔ "واہ فیکٹری میں ملازمت کے دوران (پرائیویٹ) میٹرک کا امتحان پہلی پوزیشن میں پاس کیا تو حوصلہ ملا اور ایف کا امتحان دیا لیکن انگریزی میں تین نمبر کم ہونے کی وجہ سےفیل کر دیا گیا انگریزی نہ تو میری مادری زبان تھی نہ قومی اس طرح میری خواہش کے باوجود میری تعلیم انگریزی کی و جہ سے ادھوری رہ گئی"۔

گل بخشالوی کہتے ہیں کہ پہلے انہوں نے ادب کی خدمت کے لیے "بزم گل" کے نام سے ادبی تنظیم بنائی، لیکن ادب دوستوں کے مشورے پر نام تبدیل کرکے "قلم قافلہ" رکھ دیا، استادِ محترم علامہ انیس لکھنوی کی سرپرستی میں قلم قافلہ کی پہچان نے ادبی سفر میں آگے آنے میں اہم کردار ادا کیا۔

گل بخشالوی نے ممتاز شاعروں کے قلمی تعاون سے 1984 میں غزل انتخاب "سوچ رت"کی اشاعت کا اہتمام کیا ایک سال کی بھر پور محنت سے 376 شعراء اور شاعرات کے کلام پر مشتمل غزل انتخاب سوچ رت 1984ء شائع ہوا جو دنیائے اردو ادب میں آ ج بھی میری پہچان ہے"۔

تاہم ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ گل بخشالوی کی زندگی کا سفر مشکلات سے خالی نہیں تھا۔ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہجرت اسے سعودی عرب، برطانیہ اور بالآخر امریکہ تک لے گئی۔ شاعر نے اپنے خاندان کی کفالت کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی بھرپور انداز میں خدمت کرتے رہے۔ معاون ادبی حلقوں کی مدد سے امریکہ میں ادبی دنیا میں اپنا نام بنایا اور پاکستان واپسی نے کھاریاں میں آکر بحر اوقیانوس کے اس پار ان کی اہمیت کو اپنے سفرناموں کے ذریعے بیان کیا۔

گل بخشالوی کی تحریروں میں نیک بختوں کے ساتھ ساتھ کچھ بدبختوں کا ذکر جا بجا ملتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ "کچھ بدبخت لوگ خوش بختوں کے زوال کے دل وجان سے خواہش مند ہوتے ہیں اور میں ایسے ہی کچھ بدبختوں کے ہاتھوں گر پڑا تھا لیکن میرے ذہن میں سعدیؒ کا یہ قول دمک رہا تھا۔ "لوگوں کے ہاتھوں سے کوئی تکلیف پہنچے تو رنجیدہ نہ ہو کیونکہ راحت اور رنج آدمی کے بس میں نہیں، دوست اور دشمن کی طرف سے آنے والی مخالفت اور تکلیف کو خدا ہی کی طرف سے سمجھ اس لیے کہ ان دونوں کے دل ا سی کے قبضہ قدرت میں ہیں، بخت اور دولت کا انحصار لیاقت اور تجربے پر نہیں، یہ تو تائید یزدانی کے کرشمے ہیں اگر روزی کا انحصار عقل ودانش پر ہوتا تو مجھ جیسے ناداں بھوکے مرجاتے۔ مصائب ٹوٹ پڑنے سے قبل آ دمی زندگی کے آرام کی قدروقیمت نہیں جانتا، اسی طرح کسی چیز کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ا س وقت ہوتا ہے جب وہ چھن جائے"۔

گل بخشالوی کا امریکہ میں ایک جنرل اسٹور میں انتھک محنت کرنا، مشکلات پر قابو پانے کے لیے ان کے غیرمتزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی پاکستان واپسی اردو ادب سے ان کی وابستگی کو دوبارہ زندہ کرنے کی علامت ہے، جو اپنی ثقافتی جڑوں سے ان کے غیر متزلزل تعلق کو تقویت دیتا ہے۔

امریکہ میں قیام کے دوران اردو ادب کی خدمت کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ "امریکہ میں ایک جنرل سٹور سیون الیون میں ملازمت ملی تین سال تک قلم اور کا غذ کو چھوڑ کر پہلے خود کو اور پھر خاندان کے بچوں کو پاؤں پہ کھڑا کیا، تین سال بعد امریکہ میں ادب دوستوں سے رابطہ کیا ادب دوستوں سے رابطے میں ممتاز کالم نگار اشرف سہیل اور ممتاز شاعر مامون ایمن نے بھر پور ساتھ دیکر ادبی دنیا میں لا کھڑا کیا، نیو یارک میں ادب دوستوں نے میرے اعزاز میں محفل سجائی اور مختصر عرصہ میں، میں امریکہ میں کھاریاں کی پہچان بن گیا میرے دونوں بچے شاہد بخشالوی اور امجد بخشالوی ساوتھ افریقہ گئے اللہ تعالیٰ کے کرم نوازی سے جب دونوں بھائی پاؤں پر کھڑے ہو گئے تو بچوں کی خواہش پرمیں بارہ سال بعد (2010) امریکہ سے ساؤتھ افریقہ گیا ایک ماہ اپنے بچوں کے ساتھ قیام کے بعد مستقل طور پر پاکستان چلا آیا اور ادبی زندگی کے لئے ایک بار پھر خود کو وقف کر دیا ہے۔ ان شاءاللہ جب تک صحت، انگلیوں، اور آنکھوں کا ساتھ ہے، جب تک وجود میں صحت مند زندگی دوڑ رہی ہے ارودو ادب سے وابستہ رہوں گا اس لئے کہ میری پہچان اردو، اور اردو کے قدر دان ہیں"۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ "سلگتے خواب" صرف ایک شعری مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ گل بخشالوی کی اردو ادب کے لیے ان کے غیر متزلزل جذبے اور اپنے وطن سے ان کی گہری محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ یہ شاعر کے ادبی سفر کی آئینہ دار ہے۔ یہ ایک پشتو بولنے والے اردو شاعر کی ایک ایسی تاریخ ہے جو مشکلات، استقامت، اور شاعری کے فن کے لیے ایک انتھک لگن سے لکھی گئی ہے۔

کتاب کا عنوان، "سلگتے خواب" شاید گل بخشالوی کے ا ن سلگتے خوابوں کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے ان کی شاعرانہ شوق کو ہوا دی۔ ایک ایسا سفر جو خوبصورت افکار و خیالات سے بھڑکایا گیا ہو اور مشکلات سے آزمایا گیا ہو اور تخلیقی صلاحیتوں کے نہ ختم ہونے والے شعلے سے روشن ہوا ہو۔

بخشالوی کی داستان حیات ان کی شاعری میں بھی نظر آرہی ہے، ان کی جدوجہد اور کامیابیوں کا ذکر ان کے شعرے مجموعہ "سلگتے خواب" میں بہترین اردو شاعری کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اشعار کے مجموعے کے طور پر اردو کے ادبی منظر نامے کا حصہ بنا ہے بلکہ ایک ایسے پشتون شاعر کی اردو زبان میں شاعرانہ اظہار اور غیر متزلزل جذبے کا ثبوت ہے جس کی زندگی کی کہانی ہر بند میں نظر آتی ہے۔ میں شاعر کو "سلگتے خواب" کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتاہوں۔

Check Also

Madawa Kon Kare Ga?

By Dr. Ijaz Ahmad