Sunday, 28 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Taaj Ya Muhabbat?

Taaj Ya Muhabbat?

تاج یا محبت؟

محبت اور اقتدار کبھی ایک دوسرے کے دوست نہیں رہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، جہاں محبت نے دروازہ کھٹکھٹایا، اقتدار نے اکثر محل چھوڑ دیا اور جہاں اقتدار نے ڈیرہ ڈالا، وہاں محبت نے خاموشی سے رخصت ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔ شاید اسی لیے دنیا کے بڑے بادشاہوں، جرنیلوں اور حکمرانوں کی زندگیاں فتوحات سے زیادہ ان محبتوں کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں جنہوں نے ان کی قسمت کا رخ موڑ دیا۔

برطانیہ کی تاریخ میں بھی ایک ایسا دن آیا تھا جب پوری سلطنت حیران رہ گئی۔ لندن کی سڑکیں آباد تھیں، پارلیمنٹ قائم تھی، برطانوی سلطنت دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی حصے پر حکمرانی کر رہی تھی، سورج اس سلطنت میں غروب نہیں ہوتا تھا اور بکنگھم پیلس کے دروازوں کے پیچھے ایک نوجوان بادشاہ ایک ایسا فیصلہ کرنے والا تھا جس کی مثال اس سے پہلے نہ ملی تھی اور نہ بعد میں دہرائی گئی۔

یہ بادشاہ ایڈورڈ ہشتم تھا۔ ایڈورڈ ہشتم 23 جون 1894ء کو لندن کے وائٹ لاج میں پیدا ہوا۔ اس کا پورا نام ایڈورڈ البرٹ کرسچین جارج اینڈریو پیٹرک ڈیوڈ تھا، لیکن خاندان اور قریبی لوگ اسے "ڈیوڈ" کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ مستقبل کے بادشاہ جارج پنجم کا بڑا بیٹا تھا، اس لیے اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کا مقدر بھی طے ہو چکا تھا۔ اسے ایک دن برطانیہ کا بادشاہ بننا تھا۔

شاہی خاندان میں پیدا ہونے والے بچوں کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں ہوتا۔ ان کے کھلونے بھی پروٹوکول کے تابع ہوتے ہیں اور ان کی مسکراہٹ بھی۔ ایڈورڈ کی زندگی بھی اسی سخت نظم و ضبط کے ساتھ گزری۔ اس کے والد انتہائی سخت مزاج تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ہر لمحہ اس تاج کے قابل نظر آئے جو ایک دن اس کے سر پر رکھا جانا تھا۔

ایڈورڈ نے شاہی تعلیم حاصل کی، فوج میں تربیت لی، پہلی جنگِ عظیم کے دوران مختلف فوجی محاذوں کا دورہ کیا، اگرچہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسے براہِ راست جنگ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جنگ کے بعد وہ سلطنت کے مختلف حصوں کے دوروں پر بھیجا گیا۔ اس نے کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ہندوستان اور افریقہ سمیت درجنوں ممالک کا سفر کیا۔ اس کی شخصیت میں ایک کشش تھی، وہ لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا، بچوں سے بات کرتا تھا اور شاہی خاندان کے روایتی فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

اسی لیے وہ عوام میں بے حد مقبول تھا۔ 1936ء آیا اور جارج پنجم کا انتقال ہوگیا۔ ایڈورڈ ہشتم برطانیہ کا بادشاہ بن گیا۔ لیکن اسے تاج پہنے چند ہی ماہ گزرے تھے کہ ایک عورت نے پوری سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس عورت کا نام والِس سمپسن تھا۔

وہ امریکی خاتون تھی۔ وہ پہلے ہی دو شادیاں کر چکی تھی اور دوسری شادی بھی ٹوٹنے کے قریب تھی۔ وہ ذہین تھی، حاضر جواب تھی، خوداعتماد تھی اور شاہی آداب سے مرعوب ہونے والی عورت نہیں تھی۔ ایڈورڈ اس سے چند سال پہلے ملا تھا اور آہستہ آہستہ یہ تعلق محبت میں بدل گیا۔

یہاں سے مسئلہ شروع ہوا۔ برطانیہ کا بادشاہ صرف ایک حکمران نہیں ہوتا، وہ چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ اس زمانے میں چرچ کسی ایسی عورت سے بادشاہ کی شادی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا جس کے سابق شوہر زندہ ہوں۔ حکومت بھی اس رشتے کی مخالف تھی۔ وزیراعظم، کابینہ، دولتِ مشترکہ کے ممالک اور شاہی خاندان، سب ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔

"یا تخت۔۔ یا والِس"۔

ایڈورڈ نے سمجھانے والوں کی بات سنی، لیکن ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ شاید دنیا کی واحد محبت تھی جس کے مقابلے میں ایک پوری سلطنت کھڑی تھی۔ دسمبر 1936ء میں وہ لمحہ آ گیا جس نے تاریخ بدل دی۔ ایڈورڈ نے ریڈیو پر قوم سے خطاب کیا۔ اس کی آواز میں عجیب سا سکون تھا۔

اس نے کہا: "میرے لیے بادشاہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینا اس عورت کی محبت اور مدد کے بغیر ممکن نہیں جس سے میں محبت کرتا ہوں"۔

یہ الفاظ ختم ہوئے اور تقریباً گیارہ ماہ حکومت کرنے والا بادشاہ اپنے تخت سے دستبردار ہوگیا۔ دنیا حیران رہ گئی۔ انسان اقتدار کے لیے محبتیں قربان کرتا ہے، لیکن یہاں ایک شخص محبت کے لیے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کا تاج چھوڑ رہا تھا۔

اس کے بعد اس کا چھوٹا بھائی جارج ششم بادشاہ بنا اور بعد میں اسی خاندان سے ملکہ الزبتھ دوم تخت پر آئیں، جنہوں نے برطانیہ کی تاریخ کی طویل ترین حکمرانی کی۔ اگر ایڈورڈ تخت نہ چھوڑتا تو شاید برطانوی تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ ایڈورڈ نے 1937ء میں والِس سمپسن سے شادی کر لی۔ اسے "ڈیوک آف ونڈسر" کا خطاب دیا گیا، لیکن اس کی بیوی کو شاہی اعزازات نہیں ملے۔ یہ شاید شاہی خاندان کی خاموش ناراضی تھی۔ شادی کے بعد دونوں نے زیادہ تر زندگی فرانس میں گزاری۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ان کے جرمنی سے تعلقات پر سوالات بھی اٹھے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ ایڈورڈ سیاسی طور پر سادہ لوح تھا اور اس نے بعض ایسے فیصلے کیے جن پر بعد میں سخت تنقید ہوئی، اگرچہ اس موضوع پر مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ وہ شخص جس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تیار تھی، پیرس کے ایک نسبتاً خاموش گھر میں زندگی گزارنے لگا۔ اس کے پاس محبت تو تھی، لیکن تاج نہیں تھا۔

لیکن تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے فیصلوں کی قیمت صرف اسی لمحے ادا نہیں کرتا جب وہ فیصلہ کرتا ہے، بلکہ بعض اوقات پوری زندگی اس فیصلے کے سائے میں گزارتا ہے۔ ایڈورڈ ہشتم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ شاہی تقریبات میں اس کی جگہ کوئی اور بیٹھتا تھا، قومی تہواروں پر اس کا نام پس منظر میں رہ جاتا تھا اور وہ شخص جس کے ایک اشارے پر دنیا کی سب سے بڑی سلطنت حرکت میں آ سکتی تھی، اب ایک عام شہری کی طرح اپنی نجی زندگی گزار رہا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے کبھی اپنے فیصلے کو واپس لینے کی کوشش نہیں کی۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے، کیا اسے کبھی اپنے فیصلے پر افسوس ہوا؟ اس کا واضح جواب تاریخ کے پاس نہیں۔

بعض قریبی لوگوں نے لکھا کہ وہ والِس کے ساتھ مطمئن تھا، جبکہ بعض کے مطابق اسے زندگی کے آخری برسوں میں احساس ہوا کہ اس نے جو چھوڑا، وہ صرف ایک تاج نہیں بلکہ تاریخ میں ایک منفرد کردار بھی تھا۔

1972ء میں ایڈورڈ ہشتم دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی عمر اٹھہتر برس تھی۔ چند برس بعد والِس سمپسن بھی چل بسی۔ دونوں آج ونڈسر کے شاہی قبرستان میں ایک دوسرے کے قریب دفن ہیں۔

ایڈورڈ ہشتم کی کہانی صرف ایک بادشاہ کی کہانی نہیں۔ یہ انتخاب کی کہانی ہے۔ زندگی ہر انسان کے سامنے کبھی نہ کبھی دو راستے رکھتی ہے۔ ایک راستہ وہ ہوتا ہے جس پر دنیا تالیاں بجاتی ہے اور دوسرا وہ جس پر دل مطمئن ہوتا ہے۔

ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرتا ہے، لیکن ہر فیصلہ اپنی قیمت بھی خود وصول کرتا ہے۔ ایڈورڈ نے محبت کا انتخاب کیا۔ اس نے قیمت بھی ادا کی اور شاید اسی لیے تاریخ اسے ایک عظیم بادشاہ کے طور پر نہیں، بلکہ اس بادشاہ کے طور پر یاد رکھتی ہے جس نے دنیا کے سب سے طاقتور تاج کو ایک عورت کی محبت کے لیے چھوڑ دیا۔

کچھ لوگ پوری زندگی تاج حاصل کرنے کے لیے لڑتے رہتے ہیں اور کچھ لوگ ایک دن تاج اتار کر یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ انسان کے سر پر رکھا ہوا سونا ہمیشہ اس کے دل میں بسے ہوئے احساس سے زیادہ قیمتی نہیں ہوتا۔

شاید اسی لیے تاریخ میں ایڈورڈ ہشتم کا نام بادشاہوں کی فہرست میں کم اور محبت کرنے والوں کی فہرست میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے اور شاید مقدر بھی یہی ہوتا ہے۔

وہ آپ کو چوٹی تک لے جاتا ہے، پھر خاموشی سے پوچھتا ہے: "اب بتاؤ۔۔ تمہیں تاج چاہیے یا محبت؟"

Check Also

Qudrat Ki Taqat, Insaniat Ka Imtihan Aur Mustaqbil Ke Liye Aik Sabaq

By Tehreem Ashraf