Banam Shaza Fatima Minister It
بنام شیزا فاطمہ منسٹر آئی ٹی

ہمارے دوست، معروف صحافی رؤف کلاسرا نے حال ہی میں موبائل ٹاورز کے نام پر شیزا فاطمہ کی طرف سے عوامی املاک پر ہونے والی ممکنہ یلغار کو بے نقاب کیا تو ایک ایسا بل، جو قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ تک پہنچ چکا تھا، عوامی دباؤ کے باعث رک گیا۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی، مگر آئی ٹی منسٹری کا یہ ظلم تو ابھی بے نقاب ہوا، مگر اس منسٹری کے نیچے لوگوں پہ برسوں سے ٹاورز کی زبردستی تنصیب کا جو ظلم خاموشی سے ڈھایا جاتا رہا ہے، اس کا کسی کو علم نہیں۔
اس تنصیب کا شکار کوئی اور نہیں میرے بچپن کا دوست ہے، جو اپنے ذاتی گھر کے عین سامنے ورید ٹیلی کام کے ایک غلط نصب شدہ ٹاور، جس نے اس کے گھر کا راستہ بند کر دیا، کو ہٹانے کے لیے دو دہائیوں سے دربدر بھٹک رہا ہے۔
مری کی سرسبز پہاڑیوں میں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع گاؤں مسوٹ کے محمد اکابر نے نوے کی دہائی میں ہزاروں تارکینِ وطن پاکستانیوں کی طرح کینیڈا ہجرت کی۔ وہاں دن رات محنت کرکے پائی پائی جوڑی اور یہاں موضع "ٹہیریاں" کی ایک پہاڑی پر اپنا خوابوں کا گھر بنایا۔ ہر اینٹ اس کی کمائی کی گواہ تھی، ہر دیوار اس کی امیدوں کی تعبیر تھی۔ مگر جب 2007ء میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اس خواب میں زندگی بسانے آیا تو اس کے استقبال کے لیے گھر کا دروازہ نہیں بلکہ ایک دیوقامت موبائل ٹاور کھڑا تھا۔
اس کے ایک مقامی پڑوسی نے، متعلقہ محکموں کی مبینہ ملی بھگت اور موبائل کمپنی کی سہولت کاری سے نہ صرف اس کے گھر تک جانے والا راستہ ٹاور لگا کر بند کر دیا بلکہ اپنے ہی گھر میں گھسنے کے لئے اسے پڑوسیوں کی چھتیں ٹاپنے پہ مجبور کر دیا۔ اسے کھڑکی سے رسی کی سیڑھی لٹکا کر سامان اندر پہنچانا پڑا۔ شاید دنیا کی کسی مہذب ریاست میں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کا اس سے زیادہ اذیت ناک منظر نہ ملے۔ حیرت انگیز معاملہ یہ تھا کہ ظالم پڑوسی نے ٹاور کی تنصیب کے زمین کا فرد شو کیا، جس کا خسرہ وہاں سے چار کلومیٹر دور موضوع سیر شرقی میں واقع تھا۔ جس زمین پہ ٹاور لگا وہ کے پی کے کے محکمہ جنگلات کی تھی۔ یہ فراڈ اور فورجری کا واضح کیس تھا۔
اس کے بعد شروع ہوا انیس برسوں پر محیط ایک ایسا سفر جس میں محمد اکابر نے ورید ٹیلی کام سے لے کے وزیراعظم ہاؤس، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنر، ضلعی انتظامیہ، ہر دو صوبوں کے محکمہ جنگلات، محکمہ ریونیو، پی ٹی اے تک سب سے فریاد کی، مگر جواب ہر جگہ ایک ہی تھا: "یہ ہمارا معاملہ نہیں"۔
ادھر گھر خاموشی سے بوسیدہ ہوتا رہا۔ دروازے سیلن سے خراب ہوتے گئے، کھڑکیوں کو دیمک چاٹتی رہی، دیواروں کا رنگ جھڑتا رہا اور ایک ایسا گھر، جو زندگی بھر کی جمع پونجی سے تعمیر ہوا تھا، اپنے مالک کی راہ تکتا رہا۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آئی ٹی منسٹری کے ذیلی ادارے پی ٹی اے نے بارہا یہ کہہ کر ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ لیے کہ جس مقامی اتھارٹی نے این او سی دیا ہے، اسی سے رجوع کریں۔ گویا شہری کے بنیادی حق کا تحفظ کسی ادارے کی ذمہ داری ہی نہیں۔
اگر یہی واقعہ کینیڈا، برطانیہ یا کسی مہذب ملک میں پیش آتا تو متاثرہ شخص کو نہ صرف انیس برس کے نقصان کا معاوضہ ملتا بلکہ ذہنی اذیت، جائیداد کے استعمال سے محرومی اور قانونی حقوق کی پامالی پر کروڑوں روپے کے ہرجانے بھی دیے جاتے۔ لیکن پاکستان میں انصاف کی رفتار شاید اس ٹاور سے بھی زیادہ ساکت ہے جو برسوں سے ایک بے بس شہری کے دروازے پر کھڑا ہے۔
یہ معاملہ صرف محمد اکابر کا نہیں۔ یہ ہر اس پاکستانی کا مقدمہ ہے جس کے حقوق طاقت، پیسے اور سرکاری بے حسی کے درمیان کچل دیے جاتے ہیں۔ یہ ہر اس بیرونِ ملک پاکستانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو اپنی عمر بھر کی کمائی وطن میں لگا کر اپنے خوابوں کا آشیانہ بنانا چاہتا ہے۔
وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزا فاطمہ سے گذارش ہے اب آپ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ ٹیلی کام کمپنیاں آپکے انڈر ہیں۔ ٹاور اکھاڑ کے اکابر عباسی کے گھر کا راستہ کلئیر کریں۔ محمد اکابر شاید اپنے کھوئے ہوئے انیس برس تو واپس نہ پا سکے، مگر زندگی کے چند رہے سہے سال تو اس گھر میں گذار لے۔
آپ نے کچھ نہ کیا تو تاریخ یہی لکھے گی کہ اس ملک میں گھروں کو بلاک کرنے والے ٹاور نہیں بلکہ آپ جیسے ظالم حکمران تھے جو ٹیلی کام کمپنیوں کے مفاد تو عزیز رکھتے تھے مگر عام شہری کو انصاف فراہم کرنے سے ان کو کوئی سروکار نہیں رہا۔
محترمہ شیزا فاطمہ، اگر یہ مضمون آپ تک پہنچتا ہے تو آپ محمد اکابر سے ان کے کینیڈا فون نمبر 7911 775 (514) 1+ دوبئی فون نمبر 585190946 971+ اور ای میل [email protected] پہ تصدیق اور تفصیلات کے لئے رابطہ کر سکتی ہیں اور حقائق کا میرٹ پہ فیصلہ کر سکتی ہیں۔ محمد اکابر کا یہ کیس آپ لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

