Murree Aur Galiyat Ke Junglaat Bachane Ki Akhri Koshish
مری اور گلیات کے جنگلات بچانے کی آخری کوشش

جنگلات ترمیمی ایکٹ 2026 پہ مری کے جنگلات کی ممکنہ تباہی کے خدشے پہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پہ سول سوسائٹی اور اہلیان مری نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چونکہ معاملہ اب پنجاب اسمبلی سے پاس ہو کے ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا تھا اور سٹریٹ ایجی ٹیشن بے محل تھی، لہذا ہم چند دوستوں نے غور و خوض کے بعد عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔
مری کی مقامی لیڈر شپ تاہم عوام الناس کی تشویش کے باوجود اس معاملے پہ پراسرار طور پہ مکمل خاموش رہی۔ ادھر انھی دنوں میں گلیات میں بھی غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی بناء جنگلات کی تباہی کی افسوسناک خبریں سامنے آئیں۔
ان حالات کے پیش نظر ہم نے ہمارے معروف قانون دان دوست جناب اظہر صدیق صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سے معاونت کی درخواست کی جو ایسے مقدمات کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے ممنون ہیں۔ انہوں نے ہماری التجا کو پذیرائی بخشی اور انجنئیر ارشد عباسی صاحب کے فراہم کردہ تکنیکی ڈیٹا کی بنیاد پہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائیکورٹ میں مری اور گلیات کے جنگلات کے تحفظ کے لئے تفصیلی آئینی درخواست کے لئے ڈرافٹ نوٹس تیار کر دیا۔ یہ نوٹس اگلے دو روز میں دائر ہو جائے گا۔
ہم اظہر صدیق صاحب کی اس معاملے میں بطور سن آف سوائل اور ماحولیاتی ماہرین ہر دو عدالتوں میں معاونت بھی کریں گے۔
اس تاریخی قدم کو تقویت دینے اور پاکستان میں ایک سرسبز انقلاب کی بنیاد رکھنے کے لیے جوڈیشل ایکٹوزم پینل (JAP) کے نامور وکلاء درخواست دہندہ بن کے ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہو چکے ہیں تاکہ ہمارے ان قدیم و نایاب جنگلات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
ہمارا ہدف محض جنگلات اور ماحولیاتی توازن کا تحفظ ہی نہیں، بلکہ مری اور جنگلات میں پانی کے قدرتی چشموں سمیت وفاقی دارالحکومت کو سیراب کرنے والے اہم ترین ذخائر خان پور، سملی اور راول ڈیم کی بقا اور صفائی کو یقینی بنانا ہے۔
قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم جس حد تک جا سکتے تھے، یہ اقدام اس کا انتہا پسندانہ اور حتمی سنگِ میل ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی راستہ بچتا ہے تو وہ عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں سے اپنے حکمرانوں کا احتساب مانگنا ہوگا۔
ہم یہ بھاری ذمہ داری کسی ذاتی مفاد کے بغیر محض اپنے وطن کی مٹی، اسلام آباد کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور اپنے شہروں کے گرد پھیلے قدرتی جنگلات کے تحفظ کی خاطر اٹھا رہے ہیں۔
یہ وقت آگے بڑھنے اور اس پاکیزہ مقصد کا دست و بازو بننے کا ہے۔ کامیابی ہوتی ہے ناکامی کل جب تاریخ ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرے گی، تو یہ جدوجہد اس بات کی گواہی دے گی کہ ہم نے اس حساس معاملے پہ اپنا فرض ادا کیا ہے اور خاموش نہیں رہے۔
اللہ ہم سب کا اور ہماری دھرتی کا حامی و ناصر ہو۔

