Mashriq e Wusta Mein Barhti Be Chaini
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی بے چینی

امریکا اور ایران کی جنگ ختم ہوچکی ہے لیکن اس کے اثرات کافی عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ جنگ بندی نے بظاہر خطے میں سکون پیدا کردیا ہے لیکن درحقیقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تلاطم ہے۔ پرانے اتحاد، پرانے دشمن اور پرانے حفاظتی تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ امریکا اب بھی خطے کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے لیکن اس کے اتحادی پہلی بار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مستقبل میں اس پر پہلے جیسا اعتماد کیا جاسکتا ہے؟
اگرچہ جنگ سے ایران کو بھاری فوجی نقصان پہنچا ہے لیکن اس نے ایسی صلاحیت بھی دکھائی جس نے پورے خلیجی خطے کو چونکا دیا۔ آبنائے ہرمز پر اس کے عملی کنٹرول نے ثابت کردیا کہ وہ عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جنگ کے دوران ہزاروں میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی ریاستوں کو احساس دلایا کہ جدید فضائی دفاع کے باوجود وہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے باوجود عدم تحفظ کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
جنگ سے سب سے بڑا سبق شاید سعودی عرب نے سیکھا۔ چند برس پہلے تک ریاض ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا تھا، لیکن حالیہ بحران میں اس کی ترجیح جنگ کو طول دینے کے بجائے اسے روکنا تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق محمد بن سلمان نے ایک مرحلے پر امریکی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا، کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ اس سے دوبارہ جنگ بھڑک سکتی ہے۔ انھوں نے ایران کے ساتھ براہ راست رابطوں کو بھی جاری رکھا تاکہ آبنائے ہرمز، میزائل پروگرام اور علاقائی ملیشیاؤں جیسے معاملات پر مذاکرات ہوسکیں۔
یہ تبدیلی صرف سعودی عرب تک محدود نہیں۔ دوسرے خلیجی ممالک بھی امریکی ضمانت پر مکمل انحصار کے بجائے متبادل راستے تلاش کررہے ہیں۔ چین پہلے ہی سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرانے میں کردار ادا کرچکا ہے، جبکہ پاکستان اور دوسری علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج کی خارجہ پالیسی اب کثیرالجہتی ہوتی جارہی ہے۔
فارن افیئرز کے مطابق اس جنگ نے امریکی فوج کی طاقت ضرور ثابت کی لیکن اس کی کمزوریاں بھی نمایاں کردیں۔ امریکا نے ہزاروں فضائی حملے کیے، سیکڑوں اہداف تباہ کیے اور ایرانی میزائلوں کو روکنے میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ لیکن اس کے باوجود نہ ایرانی حکومت گری، نہ تہران نے مکمل ہتھیار ڈالے اور نہ ہی خطہ زیادہ محفوظ ہوا۔ اس کے برعکس امریکی اسلحے کے ذخائر پر غیر معمولی دباؤ آیا اور اتحادیوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ امریکا ہر بحران میں مستقل اور قابل اعتماد محافظ نہیں رہے گا۔
امریکی پالیسی میں بھی تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ فارن افیئرز کے مطابق واشنگٹن اب خود کو خطے کا واحد "سیکیورٹی گارنٹر" بنانے کے بجائے مختلف اتحادیوں کو مشترکہ دفاعی نظام میں مربوط کرنے کی کوشش کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں امریکا براہ راست ہر محاذ پر لڑنے کے بجائے اتحادی ممالک کو زیادہ ذمے داریاں سونپنا چاہتا ہے۔
جنگ نے خلیجی معیشتوں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ دی اکانومسٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں دبئی، دوحہ اور ریاض نے اپنی معیشتوں کو تیل سے آگے لے جانے کی کوشش کی تھی۔ سیاحت، مالیاتی خدمات، مصنوعی ذہانت، لاجسٹکس اور غیر ملکی سرمایہ کاری ان کی نئی شناخت بن رہے تھے۔ لیکن جنگ نے احساس دلایا کہ سرمایہ کار صرف کم ٹیکس نہیں دیکھتے بلکہ سب سے پہلے سلامتی کو اہمیت دیتے ہیں۔
جریدے کے مطابق متحدہ عرب امارات اپنی معاشی طاقت کے باعث نسبتاً جلد سنبھل سکتا ہے جبکہ بحرین جیسے ممالک کو زیادہ مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ ان پر قرضوں کا بوجھ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ سعودی عرب بھی اپنے بعض انتہائی مہنگے منصوبوں، مثلاً نیوم پر نظرثانی کررہا ہے اور زیادہ توجہ لاجسٹکس، بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر کے راستوں پر دے رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہوسکے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق اگر خلیجی ممالک واقعی خود کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو انھیں اپنی باہمی رقابتیں ختم کرنا ہوں گی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قیادت کی کشمکش، یمن اور افریقا میں پراکسی لڑائی اور دفاعی تعاون کی کمی مستقبل میں ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ مشترکہ فضائی دفاع، انٹیلی جنس کا تبادلہ، آبنائے ہرمز کے متبادل پائپ لائن راستے، ریلوے اور بندرگاہوں کا مشترکہ نیٹ ورک ہی ایران کے دباؤ کا مؤثر جواب ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ نے صرف فوجی توازن نہیں بدلا بلکہ اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل قریب کا دور شاید پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ اس میں طاقت صرف میزائلوں اور جنگی طیاروں سے نہیں بلکہ سفارت کاری، اقتصادی راستوں، علاقائی اتحادوں اور باہمی اعتماد سے طے ہوگی۔ اگر خلیجی ریاستیں اپنی رقابتیں کم کرکے مشترکہ دفاعی اور معاشی حکمت عملی اختیار کرلیتی ہیں تو وہ اس نئے معمول کو سہہ لیں گی۔ لیکن اگر پرانے اختلافات برقرار رہے تو ایران کی طاقت اور امریکا کی غیر یقینی پالیسی خطے کو طویل عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

