Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Wo Maa Jo Maa Na Rahi

Wo Maa Jo Maa Na Rahi

وہ ماں جو ماں نہ رہی

گذشتہ روز میڈیا اور اخبارت میں یہ خبر سن اور پڑھ کر کلیجہ منہ کو آگیا۔ ذہن سن ہو کر رہ گیا کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟ یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ اس پورے عہد کے ضمیر پرایک لرزہ طاری کردینے والا سوال ہے۔ یہ تو سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ کوئی عورت اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کا گلہ گھونٹ سکتی ہے؟ ان کے معصوم جسموں کو آگ لگا سکتی ہے؟ ان کو ویران نالے کی مٹی میں دبا سکتی ہے؟ ماں ممتا اور پھرقتل ایک سوال جو پورے معاشرے کو کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے کیونکہ حقیقت میں ایسے واقعات محض انفرادی جرم نہیں بلکہ سماجی ناکامیوں کی اجتماعی دستاویز بن جاتے ہیں۔ خبر کے مطابق ٹک ٹاک پر ہونے والی ایک دوستی نے تین معصوم بچوں کی جان نگل لی۔ سرائے عالمگیر سے تعلق رکھنے والی ایک ماں عشق کے جنون میں اندھی اور پاگل ہو کر بھمبر کے رہائشی بابر نامی اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے فرار ہوگئی۔ تحقیقات کے مطابق خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے ہی تین معصوم بچوں کو بےدردی سے قتل کیا اور لاشیں ویران نالے میں چھپا دیں۔ بچوں کے والد کی اطلاع پر پنجاب پولیس نے اس علاقے میں کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ملزم بابر اور اس خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے تینوں معصوم بچوں کی لاشیں ویران نالے سے برآمد کرلیں۔ یہ واقعہ صرف ایک قتل کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور اخلاقی زوال کا دردناک ثبوت بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عشق اتنا اندھا ہو سکتا ہے کہ ماں اپنی ہی گو اپنے ہاتھوں ہی اجاڑ لے؟ یہاں ہمیں عشق یا محبت کی بات نہیں بلکہ بدکرداری اور جنسی ہوس کی بات کرنی چاہیےجسے عشق یا محبت کے پاک جذبے سے کبھی بھی ملایا نہیں جاسکتا۔ یہ شاید ہوس اور بدکرداری ہی ہوتی ہے جو ایک عورت کو اپنے ماں باپ کی عزت تک خاک میں ملانے پر مجبور کردیتی ہے اور ایسا گناہ جو اپنے ہی بچوں کی جان لے لیتا ہے۔ یہ ذہنی بیماری یا شدید ڈئپریشن ہی ہو سکتا ہے جو ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم جرم بنادیتے ہیں۔۔ یہ سوال جتنا سادہ لگتا ہے اتنا ہی گہرا اور تکلیف دہ ہے۔ کسی ماں کا اپنے بچے قتل کرنا فطرت، مذہب اور سماج تینوں کے لیے ایک صدمہ ضرور ہےمگر افسوس کہ ایسے واقعات اب خبروں میں دکھائی دے رہے ہیں۔

ماں جسے تخلیق، تحفظ اور بےلوث محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر محبوب کے حصول کے لیے اپنے ہی بچوں کی جان لے لے تو سوال عورت کی محبت کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی تربیت، اقدار اور ترجیحات پر اٹھتا ہے۔ ماں کی محبت فطری ضرور ہوتی ہے مگر جب خواہش، محرومی، خوف، تنہائی یا جذباتی غلامی عقل، اخلاق اور ذمہ داری پر غالب آجائے تو رشتے مقدس نہیں رہتے صرف استعمال کی چیز بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہ بھی کرتا ہے کہ ہم نے عورت کو محبت سکھائی مگر شاید حد شعور اور خودی نہ سکھا سکے۔ ہم نے، ہماری فلموں، ہماری کہانیوں، ہمارے ڈراموں نے اسے یہ تو بتایا کہ محبت زندگی ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اولاد زندگی کی امانت ہوتی ہے۔ جب محبت خدا سے، اقدار سے اور ذمہ داری سے کٹ جائے تو عبادت نہیں رہتی ایک اندھا جنون بن جاتی ہے۔ انسانیت ہر صورت مقدم ہوتی ہے۔ مگر جب ہوس انسانیت کو کچل دے تو خون ہی بہتا ہے۔ ماں پھر ماں نہیں رہتی شیطان کا روپ بن جاتی ہے۔ ماں ہونا فطری ہے مگر ماں بن جانا کافی نہیں کیونکہ ماں بن جانا جسمانی عمل ہے لیکن ماں بن کر رہنا جذباتی، ذہنی اور اخلاقی پختگی مانگتا ہے۔ ہم عورت کو ماں تو بنا دیتے ہیں لیکن اسے انسان، باشعور فرد اور ذہنی طور پر مضبوط بنانا بھول جاتے ہیں۔ کردار کی بات کرتے ہیں مگر کردار سازی کا نظام کہیں موجود نہیں۔ آج اصل المیہ یہ نہیں کہ ماں نے بچے قتل کردیے بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اندر کی ماں کو مرنے دیا۔ اسکے ماں والے جذبات پہلے ہی مر چکے تھے۔ شاید وہ بچے پیدا کرنے کے باوجود ماں جیسے رتبے پر فائز نہ ہو سکی تھی۔ سوال اب صرف عورت سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے، خاندان سے، معاشرے سے اور شاید ریاست سے بھی کہ ماں بچے قتل کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟

جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے، پڑھتے اور دیکھتے آئے ہیں کہ ماں اپنے بچوں کے لیے جان قربان کرتی چلی آئی ہے۔ انسان تو انسان جانور اور پرندئے بھی اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔ اس سے قبل غربت، بھوک، ذہنی پریشانی، گھریلو جھگڑوں کی وجہ سےتنگ آکربہت سی ماوں نے بچوں کو زہر دے کر یا دریا میں پھینک کر مارا ضرور ہےلیکن ساتھ خود کو بھی موت کے سپرد کردیا۔ مگر اس بیدردی سےاپنی محبت کے حصول کے لیے قتل کی مثال کم ازکم ہمارے معاشرئے میں یقینا" نہیں ملتی۔ اسکی وجہ ذہنی مرض یا نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ بھی ہو سکتی ہے۔ معاشی تنگی اور سماجی دباؤ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کرسکتا ہے۔ ٹک ٹاکر کا یہ دور انسان کو جذبات سے عاری کرتا جارہا ہے۔ یہ معاشرتی المیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آج کی اس خواہشات کی دنیا میں تربیت کی اہمیت اور ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ جذبات کا احساس تربیت سے بھی اجاگر ہوتا ہے۔

انسانی خون کے سفید ہونے کی دلیل ہے کہ آج ہماری انسانی بے حسی اوراخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ مائیں اپنے بچے خود قتل کرنے لگیں ہیں۔ کتنا اذیت ناک ہوتا ہے وہ لمحہ جب جھوٹے عشق یا ہوس کی ماری محبت کے نام پر بدنامی کا خوف اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کا خون کر دیتا ہے۔ "قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری ہے "ایک ماں سے ڈائن بننے کا یہ دردناک سفر کیسے طے ہوا یہ تو پوری کہانی اور پولیس تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل سکے گا لیکن میری سوچ ان بےشمار اولاد کے لیے ترستی ماوں کی جانب لوٹ گئی ہے جو بےاولادی کی وجہ سے دن رات اولاد کی دعائیں کرتی ہیں۔ جو ماں بننا اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش سمجھتی ہیں اور بڑی حسرت اور رشک سے دوسروں کے بچوں کو دیکھ کر خود کو تسکین دیتی ہیں۔ بےاولادی کا دکھ ایسا دکھ ہوتا ہے جو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ صرف ماں بننے یا کہلانے کی خواہش کا نام نہیں ہوتا بلکہ سماجی سوالوں، خاموش طعنوں، ٹوٹتی امیدوں اور اندر ہی اندر رستے زخموں کی داستان ہوتی ہے۔ بےاولاد ماں کی راتیں زیادہ لمبی ہوتی ہیں، دعائیں طویل، سجدے خاموش اور آنکھیں اکثر نم رہتی ہیں۔ جہاں ہر شادی کے بعد پہلا سوال اور ہر محفل میں بے اولادی کا ایک چبھتا سوال ان کی دکھ کو اور بھی گہرا کر دیتا ہے۔ ایک جانب بچوں کا ماں کے ہاتھوں قتل اور دوسری جانب بانجھ پن سے اجڑتے ہوئے گھر ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہیں جو صرف جذبات نہیں تربیت بھی چاہتے ہیں۔

Check Also

Suger Ke Mareezon Ke Liye

By Javed Chaudhry