Muhammad Arif Jan Ke Sunehri Huroof
محمد عارف جان کے سنہری حروف

ہمارے ابا جی ایک درویش انسان تھے وہ فرماتے تھے کہ سب سے مشکل کام بچوں کے لیے کچھ لکھنا ہوتا ہے۔ بچوں کا ادب اور وہ بھی ان کے معیار کو پرکھ کر لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ مشکل کام کوئی بلند پایہ ادیب یا دانشور ہی کر سکتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بچوں کے لیے لکھی جانے والی تحریر کے حروف سنہری ہوتے ہیں کیونکہ یہ تحریر خلوص نیت سے اصلاح اور بھلائی کے لیے معاشرے کی خاموش خدمت ہوتی ہے جو قلم سے نہیں دل سے لکھی جاتی ہے۔
بچوں کے لیے لکھنا دراصل آنے والی نسلوں کی ذہنی واخلاقی امانت کی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ دور شور، اسکرین اور تیز رفتار مفاد کا ہے ایسے میں بچوں کے لیے اصلاحی اور سبق آموز کہانیاں لکھنا محض ادب نہیں بلکہ معاشرے کی ایک خاموش مگر عظیم خدمت ہے۔ ایسے میں میرے عزیز دوست محمد عارف جان کی شائع شدہ دو خوبصورت عنوانات اور دیدہ زیب ٹائٹل کی کتب "تاریخ عالم دلچسپ حکایات "اور بچوں کا انسائیکلوپیڈیا "نظر سے گزریں تو بےساختہ اس مصنف اور دوست کی منفرد کوشش کو خراج تحسین پیش کرنے کو بےساختہ دل چاہا کہ جس نے وقت کےسخت و تند ہوا کے ریلے کے آگے چراغ جلانا نہیں چھوڑا۔
تحریریں بتاتی ہیں کہ وہ یہ خوب جانتے ہیں کہ کہانی صرف تفریخ نہیں ہوتی یہ کردار بناتی ہے سوچ کو سمت دیتی ہے اور معصوم دلوں اور ذہنوں میں سچ، ہمدردی اور امید کے بیج بوتی ہے۔ کسی بڑے کا کسی چھوٹے کے لیے لکھنا واقعی بڑا کمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب بچے لفظوں کے ذریعے اچھے اور برے کا فرق سیکھتے ہیں تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگتا ہے۔ ایسے میں بچوں کے لیے لکھنے والا قلم کار دراصل مستقبل کا معمار ہوتا ہے۔
اچھی کتاب اچھی سوچ دیتی ہے اور یہی سوچ ہماری عادات بناتی ہے اور ہماری عادات ہماری زندگی سنوارتی ہیں۔ سلام ہے ایسے قلم کو اور ایسی اچھی نیت اور سوچ کو جو آج بھی بچوں کی دنیا کو بہتر بنانے میں مصروف ہے اور یہ قلم ہمارے دوست محمد عارف جان کا ہے جو امید کا دامن تھامےاپنی قلمی جدوجہدجاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو انہیں بچوں کے لیے لکھنے والے بلند پایہ لکھاریوں حکیم سعید دہلوی اور صوفی تبسم جیسے بڑے لکھاریوں کا پیروکار بنا دیتا ہے۔
بچوں کے لیے لکھنا اس لیے بھی بہت ضروری ہے کہ یہ معاشرےکی جڑوں کو مضبوط کرنے کا بے حد ضروری مگر مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ کیونکہ جو بیج بچپن میں بویا جائے وہی گھنا اور بلند درخت بن کر سایہ، پھول اور پھل دیتا ہے۔ بچپن میں سنی اور پڑھی گئی کہانیاں ہمیشہ ہی سچ، امانت، ہمدردی اور انصاف جیسے اوصاف کو بچوں کے دل میں اتارتی ہیں۔ نصیحت کی بجائے کہانی کے ذریعے بات پہنچے تو اثر بھی بڑا گہرا ہوتا ہے۔ بچوں کی کردار سازی کی ابتدا یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے والے کسی فوری داد کے خوہشمند نہیں ہوتے کیونکہ ان تحریروں کے اثرات نسلوں تک پھیلتے رہتے ہیں۔ وہ کسی شہرت، منافع اور داد کی دوڑ سے باہر ہوتے ہیں اور اگر معاشرہ ان کی کوشش کو سراہتا نہیں تو یہ قیمتی آواز خاموش ہو جانے کا خدشہ موجود ہوتا ہے۔
حوصلہ افزائی ملے تو اچھا ادب زندہ رہتا ہے۔ اس لیے جب معاشرہ کہتا ہے کہ "تمہارا کام اہم ہے" تو لکھاری مزید احتیاط، دیانت اور اخلاص سے قلم اٹھاتا ہے۔ بچوں کو ادب زبان کو زندہ رکھتا ہے۔ اس کے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی دراصل تہذیبی ورثے کی حفاظت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی تحریریں آج کے میں جو قدریں پیدا کرتی ہیں وہی کل کے معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔ اس لیے ایسے لکھاریوں کی قدر کرنا صرف کسی فرد کی تعریف نہیں بلکہ یہ اپنے مستقبل کو مضبوط کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھا گیا ادب زبان سنوارتا ہے، ذخیرہ الفاظ بڑھاتا ہے اور بچے کو اپنے جذبات لفظوں میں ڈھالنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ جو بچہ اچھی تحریر سے لطف اٹھانا سیکھ لے وہ کتاب کو دوست بنا لیتا ہے اور جب کتاب دوست ہو تو راستہ خود بن جاتا ہے۔
"تاریخ عالم دلچسپ حکایات" اردو کی مختصر، دلچسپ اور سبق آموز واقعات پر مبنی سچی اور عقل و دانش سے بھری حکایات کا مجموعہ ہے۔ جسے قلم کار کے بہترین اسلوب اور ترتیب نےایک شاہکار بنا دیا ہے۔ تین سو حکایات کا انتخاب اور ان کو یکجا کرنا اور پھر سادہ اور سلیس اردو میں پیش کرنا تاکہ بچے اور بڑئے دونوں ناصرف لطف اندوز ہو سکیں بلکہ ان کی ذہنی واخلاقی تربیت بھی ممکن ہو سکے ایک بہت ہی مشکل اور ذمہداری کا فریضہ ہے جو اس کتاب میں جس بہترین طرز تحریر سے انجام دیا گیا ہے، وہ یقیناََ قابل صد تحسین ہے۔
حکایات بچوں کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ یہ عقل کو کہانی اور اخلاق کو تجربہ بنا دیتی ہے۔ بچے ہمیشہ حکم سن کر نہیں بلکہ قصہ پڑھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر میں اس کتاب میں موجود حکایات کا احاطہ کروں تو مجھے ان میں محمد عارف جان کی سادہ اور دلچسپ انداز میں کئی گہری اور یاد رہنے والی باتیں اور حکایتیں دکھائی دیتی ہیں۔ جو انسانی کردار سازی کا بہترین سبق دیتی ہیں۔ یہ حکایات بچے کے ذہن میں تصویریں بناتی اور اس کے تخیل اور تخلیقی سوچ کی پرورش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جن سے اچھے اور برے کاموں اور نتائج کا فرق واضح ہوتا ہے۔
کہانی پڑھنا اور سننا بچے کی توجہ مرکوز کرنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے اور صداقت، صبر، شکر، محنت اور احترام جیسی اچھی قدریں حکایات کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ اس لیے اس کتاب میں محمد عارف جان نے بچوں کو صرف کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ انہیں اچھا انسان بننے کی ترغیب بھی دی ہے۔ سچ پوچھیں تو بچوں کے لیے لکھی گئی یہ حکایات بچوں سے زیادہ بڑوں کے لیے زیادہ ضروری ہیں۔ مصنف کی محنت اور ترتیب کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہوگی۔
محمد عارف جان کی دوسری کتاب "بچوں کا انسائیکلوپیڈیا"بھی نہایت شاندار کتاب ہے۔ بچوں کے لیے انسائیکلو پیڈیا اس لیے بہت اہم ہوتا ہے کہ یہ ان کے ذہن میں جدید علم کا ایسا نقشہ بناتا ہے جہاں ہرسوال کا سرا کسی نئے دروازئے سے جڑجاتا ہے۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں یہ محض معلومات کی کتاب نہیں بلکہ سیکھنے کی عادت کی بنیاد ہے۔ میرے نزدیک یہ کتاب "بچوں کا انسائیکلوپیڈیا "سوال سے شعور تک کا محفوظ سفر ہے جو پرانی اور جھوٹی کہانیوں سے ہٹ کر حقائق کی منزل کے جانب پیش رفت کرتا ہے۔ جسے مصنف نے اپنی بہترین تحریری اور تحقیقی صلاحیتوں کو برو کار لا کر ترتیب دیا ہے۔ اس میں جہاں زبان اور اصطلاحات کی مضبوطی دکھائی دیتی ہے وہیں اسکرین اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک مستند انسائیکلوپیڈیا بچے کے لیے قابل اعتماد رہنما ہے جو سوشل میڈیا کے اس دور میں مختلف معلومات کی بہتات اور افواہوں کی دھند میں درست راستہ دکھاتا ہے اور اسکول کی کتابوں سے آگے لے جاکر بچے کو رٹنے والا نہیں بلکہ سمجھنے والا طالب علم بناتا ہے۔ انکی تعلیمی بنیاد کو مضبوط بنا کر خود سیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
بچوں کے ذہنوں کو افواہوں اور آدھی سچائیوں سے بچاتا ہے۔ جدید ترین تحقیق اور عمدے حوالے بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ کتاب بچوں کے تجسس کو درست سمت دیتی ہے۔ درست اور غیر جانبدار علم کے ذریعے وسیع النظری کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ بےشک یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہر بچے کے لیے لازمی ہے اور جو والدین کی خواہشات کے عین مطابق لکھی گئی۔ اس میں وہ سب کچھ ہے جس کی تلاش بچوں کو اور ان کے والدین کو ہمیشہ رہتی ہے۔ اسی لیے مصنف نے اسے ہر اس درد مند پاکستانی کے نام منسوب کیا ہے جو اس ملک میں فروغ تعلیم کے لیے کوئی نہ کوئی کردار ادا کر رہا ہے یا کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے اور ہر اس بچے کے نام جو اعلیٰ تعلیم اور محنت کے ذریعے بڑا آدمی بننا چاہتا ہے۔
آج کے اس ٹیکنالوجی کے جدید دور میں جدید تریں تحقیقی معلومات کی فراہمی کا یہ مشکل ترین کام انجام دے کر مصنف نے بچوں کو ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی دعوت فکر دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ کتاب پڑھ کر صرف معلومات ہی نہیں انسان کے ادبی ذوق کی تسکین بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ کتاب الفاظ و بیان کے بہترین اصناف سے سجائی گئی ہے۔ جو ثابت کرتی ہے کہ مصنف لفظوں کاہی کاریگر نہیں سوچ کا بھی معمار ہے۔ اس کا قلم بچوں کے ہاتھ میں کوئی کھلونا نہیں بلکہ ایک روشن چراغ تھماتا ہے۔ ایسے دانشور لوگ شاید وقت سے پہلے نہیں وقت کے بعد پہچانے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نسلیں ان کے سنہری لفظوں میں اپنا راستہ ڈھونڈھتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں۔ خدا کرے کہ ان کا یہ ذوق سفر یونہی جاری رہے اور ان کا قلم اسی طرح موتی پروتا رہے اور وہ اپنی تحریروں سے ملک وقوم ترقی کے لیے ایسی ہی بہترین روایات پیش کرتے رہیں۔

