Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Aala Tareen Civil Award Ya Azmat Ka Eteraf

Aala Tareen Civil Award Ya Azmat Ka Eteraf

اعلی ترین سول ایوارڈ یا عظمت کا اعتراف

فرانس میں ایک پاکستانی نژاد تہتر سالہ بزرگ اخبار فروش کو ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دیا جاتا ہے جو پیرس کے مشہور لاطینی کوارٹر میں گذشتہ پچاس سال سے زائد عرصے سے اخبارات بیچ رہا ہے۔ انہیں فرانس کا یہ اعلی ترین اعزاز یعنی (نیشنل آرڈر آف میرٹ) کا "میں نائٹ ہوں" کا لقب دیا گیا۔ اس اعزاز کو فرانسیسی صدر ایما نوئل میکرون نے ایلیزے پیلس (فرانسیسی صدارتی محل) میں ایک سرکاری تقریب میں علی اکبر کو سینے پر لگایا۔

صدر نے ان کی خدمت کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے فرانس کی ثقافت اور معاشرئے میں رچ بس کر لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ یہ بوڑھا علی اکبر روالپنڈی پاکستان سے ستر کی دھائی میں فرانس آئے تھے۔ انہوں نے وہاں پیرس کی سڑکوں پر بطور ہاکر اخبارت بیچنے کا کام شروع کیا اور اپنے دوستانہ انداز، مخصوص آواز اور مزاحیہ انداز کی وجہ سے شہر بھر میں اپنی پہچان بنا لی۔ پرنٹ میڈیا کے زوال کی وجہ سے انہیں پیرس کا آخری اخبار فروش بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان جیسے روائتی اخبار فروش اب بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

اسے ملنے والا یہ فرانس کا ایک معزز شہری اعزاز ہے جو غیر معمولی خدمات پر دیا جاتا ہے چاہے وہ معاشرتی، ثقافتی یا پیشہ ورانہ ہوں یہ اعزاز علی اکبر کے طویل اور متحرک پیشوارانہ کیریر، ان کی محنت اور فرانسیسی معاشرے کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کا اعتراف ہے اور اس سے پاکستانی کمیونٹی میں بھی فخر کا اظہار کیا جارہا ہے۔ آواز لگا کر سیاسی خبروں کو گھروں کی اوپری منزلوں تک پہنچانے کے لیے مشہور پاکستان کا علی اکبر یوں حیرت انگیز طور پر فرانس کا قومی ہیرو بن گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اخبار بیچتے ہوئے "میں مزاحیہ جملے بولتا رہتا ہوں جس پر لوگ ہنستے ہیں اور میری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ میں لوگوں کے دلوں میں اترنے کی کوشش کرتا ہوں جیبوں میں نہیں" واضح رہے کہ اس ساری تگ ودو کے باوجود وہ آٹھ گھنٹوں میں محض بیس اخبار ہی بیچ پاتا تھا۔ فرانس میں ایک اخبار فروش کو ریاستی سطح پر یہ عزت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ اخبار فروش ملکی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں۔

آج جب پرنٹ میڈیا دم توڑ رہا ہے، اخبار فروش کام چھوڑ رہے ہیں اور اخبار اب خبر نہیں لاگت سمجھا جاتا ہے اور صحافت کو اشتہار کی بیساکھی پر کھڑا کردیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ اعزاز ہمیں آئینہ دکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں پیشوں کو نہیں انسانوں کو عزت دی جاتی ہے قوموں کی شناخت عمارتوں یا دولت سے نہیں وہاں کے لوگوں سے بنتی ہے۔ محنت کش کسی بھی طبقہ سے ہو وہ اپنے کردار کی وجہ سے قابل احترام ہوتا ہے۔

مجھے یہ واقعہ پڑھ کر اپنے شہر احمد پور شرقیہ کے مشہور اخبار فروش چاچا حاجی عبدالشکور مرحوم یاد آگئے۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا اور اخبار کی چاہت اور اہمیت کس قدر ہوا کرتی تھی یہ تو وہی جنریشن جانتی ہے جو اس دور سے گزری ہے کہ اخبار والے کی اہمیت صحافی سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ صبح ہوتے ہی لوگوں کو پہلا انتظار اخبار کے لیے حاجی عبدالشکور کا ہوا کرتا تھا۔ ریلوئے اسٹیشن اور پھر چوک منیر شہید احمدپور شرقیہ سے ڈیرہ نواب صاحب تک تین میل کا یہ سایکل کا سفر وہ اخبارات بانٹتے ہی طے کرتے تھے۔

ہوا کے گھوڑے پر سوار موسم کی سختی اور نرمی سے بےنیاز صبح سویرئے اخبار گھر کے آنگن میں گرتا تو اسے خوش آمدید کہنے والے اور پڑھنے والے ٹوٹ پڑتے۔ اباجی کی ہدایت تھی کہ اخبار پڑھا کرو اس سے اردو پڑھنے اور لکھنے میں مہارت حاصل ہوتی ہے اور پھر باری باری اخبار کی ایک ایک سطر تک پڑھ ڈالتے تھے۔ چاچا حاجی عبدالشکور مرحوم جب سب اخبار بانٹ کر واپس ہوتے تو سیدھے اباجی کے پاس آتے اور تھکن اتارنے کے لیے چائے ضرور پیتے اور پورے گھر کی خریت دریافت کرتے۔ وہ اپنی ذات میں شہر کے کسی مقامی اخبار سے کم نہ تھے پورے شہر کی خبریں ان سے ہی ملتی تھیں۔

بچپن سے جوانی تک اور پھر بڑھاپے کے آغاز تک چاچا حاجی عبدالشکور ہمارے دلوں میں بسے رہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وہ کیا واقعی ایک اخبار فروش تھے یا پھر ہمارے نگران بھی تھے جہاں کہیں ہمیں گھومتے ہوئے یا آوارہ پھرتے دیکھتے فوراََ جواب طلبی ہو جاتی کہ "کہاں سے آئے ہو کہاں جا رہے ہو" ان کی نظروں سے بچنا مشکل ہوتا تھا۔ آج بھی اس سڑک پر نظریں انہیں دیکھنے کی منتظر رہتی ہیں۔ کان ان کے سائیکل کی گھنٹی سننے کو بیتاب رہتے ہیں۔ ان کے غصے میں چھپی محبت اور شفقت کبھی نہیں بھولتی۔

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے اس کام کی نذر کردی یہ کام ان کا روزگار تو تھا ہی ان کا شوق اور عشق بھی تھا۔ اس لیے زندگی کے آخری ایام تک اس سے وابستہ رہے۔ یہ صرف ہمارے شہر کے حاجی عبدالشکور ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہر میں ایسے اخبار فروش ہوا کرتے تھے جنہوں نے پوری زندگیاں اس شعبہ میں گزار دیں۔

کہتے ہیں کہ اخبار فروشی روزگار ضرور ہے مگر یہ روزگار سے زیادہ شوق اور جذبہ بھی ہوتا ہے۔ کاش حاجی عبدالشکور اور ان جیسےاخبار فروشوں کو ان کی پیشے سے وابستگی اور خدمت کے اعتراف میں کوئی ایورڈ دیا جاتا جنہوں نے ہر حال میں اخبار بینی کی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔

مجھے یاد ہے کہ حاجی عبدالشکور مرحوم کو ہمارے اباجی نےخراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک مرتبہ پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک تقریب میں ان کی بے پناہ خدمات کے اعتراف میں "گولڈ میڈل" دیا تو وہ نم دیدہ ہو گئےتھے۔ خبریں تو آج بھی مختلف میڈیا سے ملتی رہتی ہیں مگر وہ محبت، خلوص اور اخبار اور اخبار والے سے لگاو کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے اباجی جب مشرقی پاکستان کی جنگ کے دوران زخمی ہوکر جنگی قیدی ہو گئے تو کچھ عرصہ تک وہ لاپتہ رہے کسی جانب سے ان کی زندگی کی کوئی اطلاع نہیں مل رہی تھی تو ایسے میں حاجی عبدالشکور مرحوم اخبار دینے کے ساتھ ساتھ ہر روز ان کی خریت اور زندگی کے بارے میں دریافت کرتے رہتے اور ان کی زندگی کی دعا کرتے پھر ایک دن وہ صبح کی بجائے شام کو آئے اور خوشخبری دی کہ آپکے والد صاحب ناصرف زندہ ہیں بلکہ خریت سے ہیں۔

پھر انہوں بتایا کہ رجب صاحب ٹیلی فون والے نے بتایا ہے کہ اس کے بہنوئی شریف کا خط ملا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ ساگر کیمپ میں اس کی ملاقات آپکے والد سے ہوئی ہے ان کی زخموں کی وجہ سے حالت اچھی نہ تھی اس لیے میں نے اپنی وردی اور کمبل انہیں دیا تھا۔ یہ اباجی کی زندگی کے بارے میں پہلی اطلاع تھی اس لیے وہ صبح کا انتظار کئے بغیر رات کو ہی پہنچ گئے۔ اباجی کی قید کے دوران بھی وہ اخبار دیتے رہے تو امی جان نے کہا کہ انہیں بتا دو اباجی کی غیر موجودگی میں اخبار کی ضرورت نہیں ہے بند کردیں تو وہ رنجیدہ ہو گئے اور کہنے لگے آپ کے اباجی کہتے تھے کہ جب تک وہ زندہ ہیں اخبار دیتے رہنا۔ چاہے وہ جنگی قیدی ہیں مگر زندہ ہیں اور میں بھی جب تک زندہ ہوں یہ اخبار جاری رہے گا۔

اس دوران انہوں نے ہمیشہ مفت اخبار دے کر اپنا وعدہ نبھایا۔ آج سوال یہ ہےکہ فرانس میں ایک اخبار فروش کو ملنے والا یہ سب سے بڑا سول اعزاز کیا دنیا بھر کے ان اخبار فروشوں کی عظمت کا اعتراف نہیں ہے؟ جنہوں نے اپنی زندگی اس کام کے لیے وقف کردی؟ یہ سلام ہے ان کی خدمات کو جو انہوں مشکل ترین حالات میں انجام دیں اور یہ خراج تحسین ہے ان کی اس جدوجہد کو جو انہوں نے پرنٹ میڈیا کی ترقی اور بقا کے لیے لگاتار کی ہے۔ کہتے ہیں لوگوں کے دلوں میں کسی کے لیے احترام ہی اس کے لیے سب سے بڑا ایوارڈ ہوتا ہے۔

Check Also

Brain Drain Ya Brain Gain?

By Atiq Chaudhary