Jaisal Klasra Ka Beta
جیسل کلاسرا کا بیٹا

آئن اسٹائن کے آخری الفاظ کیا تھے، کسی کو معلوم نہیں۔
بسترِ مرگ پر پڑے لوگ آخری لمحات میں عموماً محبت کا اظہار کرتے ہیں، نصیحت کرتے ہیں، ندامت ظاہر کرتے ہیں، افشائے حقیقت کرتے ہیں، اعترافِ معصیت کرتے ہیں یا مسلمان ہونے کی صورت میں وردِ کلمہ کرتے ہیں۔
البتہ کسی کو نہیں معلوم کہ آئن اسٹائن کے آخری الفاظ کیا تھے، باوجود اس کے کہ شبینہ ذمہ داری پر مامور نرس اس کا خیال رکھنے کو وہاں موجود تھی۔
اپنے دور کے بلکہ ہر دور کے، اپنے سماج کے بلکہ ہر سماج کے نابغہُ روزگار سائنس دان آئن اسٹائن کی پیدائش جرمنی کی تھی۔ جنگِ عظیم اوّل کے بعد امریکا منتقل ہونے والے جرمن ماہرِ طبیعیات نے انگریزی زبان پر قابلِ قبول حد تک عبور حاصل کرلیا تھا۔ وہ انگریزی میں لیکچر دیتا تھا اور بعینہٖ اسی زبان میں بھرپور ذکاوت و فکاہت سے سوالوں کے جواب بھی دے لیتا تھا۔ طبیعیات پر کامل دست رس کے علاوہ دیگر کئی معاملات پر دانش ورانہ فکر اورحاضر جوابی کے باعث وہ تکنیکی ماہرین کے علاوہ عامۃ الناس میں بھی مقبول ہوچکا تھا۔
البتہ جب وہ اسپتال کے ایک کمرے میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا تو دمِ آخریں وہ چند الفاظ بڑبڑایا۔ نرس اس کے قریب ہوئی تاکہ وہ اس نادرِ روزگار آدمی کی بات سُن اور سمجھ سکے۔ وہ آخری الفاظ اُس کی ماں بولی جرمن میں تھے اور نرس فقط انگریزی سمجھتی تھی۔ ایک زمانہ پردیس میں گزار کر، ہزاروں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرکے جب چھہتر سالہ درماندہ آئن اسٹائن ایک خاموش کمرے میں تنہا لیٹا تھا تو اس نے دہائیوں پر مشتمل واپسی کا سفر چند ثانیے میں طے کیا اور اپنی مادری زبان میں دنیا کو آخری آواز دی۔ غالباً یہ آخری آواز ہی اُس کی اصل آواز تھی۔
ایک مرتبہ غالباً مُنّو بھائی نے فیض احمد فیض سے پوچھا تھاکہ وہ کس زبان میں شاعری کریں تو فیض نے جواب دیا تھا "جس زبان میں تُم خواب دیکھتے ہو"۔ یعنی انسان کے تحت الشعور میں اُس کی مادری زبان اس طرح ورود کرجاتی ہے کہ لاشعور کے اندھیروں میں بھی ماں بولی کے روشن الفاظ اُس کی راہ نُمائی کرتے ہیں۔ سو جب اکیسویں صدی کے اوائل کے ایک جاڑوں میں پاکستانی صحافیوں کا ایک وفد بھارت کے دورے پر جاتا ہے تو اس میں شامل رؤف کلاسرا سے لوک سبھا کے دورے کے دوران ایک اجنبی ایک انوکھی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اجنبی وہاں کے دارالکتب کا نگران ہوتا ہے۔ اُس کی ماں تقسیمِ ہند کے وقت ڈیرہ اسماعیل خان سے ہجرت کرکے دِلّی آباد ہوئی ہوتی ہے۔ وہ خود تو وہاں سے چلی آئی مگر اُسے اپنا آبائی وطن یوں یاد آتا رہا جیسے انتظار حسین کو ڈبائی، اے حمید کو امرت سر، خوش ونت سنگھ کو ہڈالی، کل دیپ نائر کو سیال کوٹ اور گل زار کو دینہ یاد آتا رہاہے۔
معاشی خوش حالی اور زندگی میں استحکام کے باوجود ماں کے اندر خواہش کلبلاتی رہی کہ اُس کے آبائی علاقے سے کوئی آئے اور اپنے ساتھ وہاں کی مہک لے کر آئے، اُس کے بالوں میں ماں دھرتی کی گرد ہو، چہرہ وہاں کی شناسا دھوپ سے سنولایا ہو اور اس کی زبان پر وہاں کی میٹھی بولی جاری ہو۔ سو جب سپرا نامی اُس نگران کو معلوم ہوا کہ رؤف کلاسرا کا اُس کے آبائی علاقے کے قرب وجوار سے تعلق ہے اور وہ وہاں کی بولی سرائیکی بولتا ہے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے۔ وہ درخواست گزار ہوتا ہے کہ رؤف اُس کی ماں سے مل کر اُس کی خواہش پوری کرکے اُسے آسودہ کردے۔ اُس شام سپرا ہوٹل سے رؤف کلاسرا کو اپنے گھر لے جاتا ہے جہاں اس کی ملاقات اُس کی مہرباں صورت مہرباں مزاج ماں سے ہوتی ہے۔
ماں کسی اور کے بیٹے کو اپنے بیٹے کی طرح دیر تک گلے لگائے رکھتی ہے۔ چند لمحوں میں تکلف کی اجنبیت ان کے بیچ سے یوں غائب ہوجاتی ہے جیسے سردیوں کی صبحوں میں مہربان سورج کی دھوپ سے سویرکی اوس۔ وہ آپس میں سرائیکی میں باتیں کرتے رہتے ہیں، سپرا کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے ہیں اور وقت کی موم بتّی پگھلتی رہتی ہے۔ رؤف حیرت سے سپرا سے استفسار کرتا ہے کہ اُس کی پیدایش تو اُدھر کی ہے مگر وہ اپنی ماں کے آبائی وطن کے تذکرے پر اتنا جذباتی کیوں کر ہوگیاہے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ گو وہ جسمانی طور پر دلی میں رہتا ہے مگر اپنے اماں بابا کی اپنی ماں مٹی کے بارے میں پریم بھری باتیں سُن سُن کر وہ روحانی طورپر وہیں رہتا آیا ہے۔
وہ طویل نشست اختتام کو پہنچتی ہے تو واپسی کے سفر میں رؤف کی آنکھیں بھی بھیگ جاتی ہیں، سپرا کی آنکھوں کی نمی اُس کی آنکھوں میں اُترآتی ہے۔ ماں بولی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، یہ اپنے بیٹوں کے ساتھ سرحدپار دُور دیسوں کا سفر کرتی ہے اور وہیں کہیں ٹھیرجاتی ہے۔ اگر یہ مذہب کی زبان نہ ہو تو افسوس کہ ماں بولی یہ ایک یاد دو نسل تک ہی بدیس میں زندہ رہتی ہے۔
ماں بولی سے محبت اور اس کے کھوجانے کا دکھ رؤف کلاسرا کی تحریر میں جابہ جانمایاں ہوجاتا ہے۔ یہ ایک زمین سے منسلک خالص ٹھیٹھ آدمی کا خاصا ہے۔ لندن کا ایک انگریزی اخبار تقسیم کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی اور طویل رپورٹ مرتب کرتا ہے۔ اس میں ہر دو جانب ہجرت کرجانے والے لوگوں سے مکالمہ تھا۔ ان کے جذبات، نئے وطن میں آمد کے بعد کے حالات، کھوجانے کا دکھ اور پالینے کی مسرت کامیزانیہ تھا۔ زیادہ توجہ کام یابی، شہرت اور معاشی خوش حالی حاصل کرلینے والوں پرمرکوز رکھی گئی تھی۔
رؤف کلاسرا نے اپنے لندن قیام کے دوران یہ رپورٹ پڑھی مگر جس بِپتانے اُنھیں اپنی اَور زیادہ متوجہ کیا وہ ایک کام یاب بھارتی کاروباری شخصیت کا احوال تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے ہجرت کرکے، مشکل حالات کا مقابلہ کرکے، نئی زمین پر استحکام حاصل کرنے اور کاروباری کام یابی حاصل کرنے کے بعد اپنی دھرتی کو چھوڑنے کا غم تو اپنی جگہ مگر ایک دکھ سب سے بڑا ہے "مجھے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اب ہماری وہ ماں بولی نہیں بولتی جو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہم بولتے تھے"۔ "بھارتی ارب پتی کا اصل خسارہ" میں یہ بیان کرتے ہوئے رقیق القلب کلاسرا مزید رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔
جو لوگ اپنی ماں بولی یا تو کُھو دیتے ہیں یا اُس سے رشتہ توڑ لیتے ہیں وہ اپنا اصل کھو دیتے ہیں کہ روایات و تہذیب، لوک حکایات و کہاوتیں، ماضی کا ورثہ ماں بولی کے ذریعے خالص اور سُچے انداز میں آیندہ نسل تک منتقل ہوتا ہے۔
رؤف کلاسرا غالباً ایک مختصر حکایت سے متاثر نظر آتے ہیں۔
ایک خوب صورت پرندہ اپنی سریلی آواز میں مختصر راگ الاپتا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی خوب صورت آواز میں چھوٹے چھوٹے گیت کیوں گاتا ہے تو وہ بولا "میری زندگی مختصر ہے اور میرے پاس سُنانے کو بہت سے گیت ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی چھوٹی سی زندگی میں سب ہی گیت گالوں"۔
کلاسرا کے پاس سنانے کو بہت سے گیت ہیں اور آدمی کی زندگی مختصر ہے۔
یہ سب ہی گیت سنا دینا چاہتے ہیں سو ان کی باتیں، مشاہدے، کہانیاں چھوٹی چھوٹی سی اورمعصوم ہیں، کہیں بصیرت افروز، البتہ نکتہ خیز زیادہ ہیں۔ مزاجاً صحافی ہیں سو بات کے مغزسے زیادہ سروکار رکھتے ہیں، تام جھام، روپ سنگھار سے زیادہ غرض نہیں رکھتے سو سیدھے سبھاؤ کی بات کرتے ہیں، ادبی حُسن پیدا کرنے کے لیے پیچیدہ بیان اور ریشمی زبان سے احتراز کرتے ہیں "کام کی بات" سے زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جو آدمی اپنے محسن کو یاد رکھتا ہے وہ محسن سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر قابلِ قدر ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ کتاب ڈاکٹر ظفر الطاف کے نام انتساب کی ہے اور انھیں مرحوم لکھا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک رؤف کلاسرا زندہ ہیں ان کی تحریروں میں ڈاکٹر ظفر الطاف بھی زندہ رہیں گے۔ کہتے ہیں کہ آدمی تب مرتا ہے جب اُسے دیکھنے والی آخری آنکھ بند ہوجاتی ہے۔
سادہ بیانی سے جذبات برانگیختہ کرنے کے اعجاز سے واقف قلم کار جب اپنی پہلی حکایت "ایک بے رحم صحرا کے قیدی" میں شکیل انجم، اس کے گائیڈ حکیمن اور دیگر ساتھیوں کے شکار کے دوران چولستان کے لامتناہی ریگستان میں بھٹک جانے اور ان میں سے کئی ساتھیوں کی موت کی کہانی بیان کرتے ہیں تو اُدھر کا سنسان منظر، بے آب وگیاہ وسعت اور سر پر منڈلاتے موت کے گِدھ یوں موثر طریقے سے چشم تصور پر اُتر آتے ہیں کہ قاری کے لیے یہ خود بیتی بن جاتی ہے۔ اس میں بارش کے پانی سے بھرے ٹوبوں تک پہنچنے کی اُمید، تیز جلتا دہکتا سورج، تپتی ریت، مُردہ جان وَروں کے ڈھانچے، جھاڑیوں میں پڑی لاش، نیم بے ہوش آدمی اور آزرُودہ ماں اسے ناول کا باب بنا دیتے ہیں۔
ایسی ہی حساسیت اور جزئیات نگاری اِدھراُدھر مختلف کہانیوں میں بکھری نظر آتی ہے۔ کہیں کہانی بیان کرنے کی للک بات کی رفتار بڑھاکر اسے صحافتی روداد کا رنگ دیتی ہے تو کہیں قدیم چوپالوں میں ٹھیرے وقت کا سا ٹھیراؤ تحریر میں بس جاتا ہے۔
امجد اسلام امجد عمدہ شاعر، ڈراما نگار اور انسان تو تھے ہی مگر اُن کی نکتہ فہمی اور عمیق نگاہی بھی قابلِ قدر تھی۔ اپنی شاعری اور ڈراموں سے بے پناہ شہرت پانے والے امجد داد و دہش کی بے معنویت سے خوب واقف تھے۔ ایک مرتبہ فرمانے لگے "لوگ مختلف طرح کا نشہ کرتے ہیں، شراب، چرس، بھنگ اور مختلف نوع کے جدید نشے لیکن ایک نشہ ان سے بھی بڑھ کر خطرناک ہوتا ہے"۔
میں ہمہ تن گوش تھا۔
"یہ نشے تو آدمی کو اپنا عادی بنالیتے ہیں، وہ نشہ نہ صرف انسان کو اپنا عادی بنالیتا ہے بلکہ اُسے رسوا بھی کردیتا ہے"۔
"کون سا نشہ؟" میں نے دریافت کیا۔
"تالی کا نشہ"۔ میری توجہ پوری طرح سے اُن کی جانب مبذول تھی۔ کچھ توقف کرکے وہ بولے۔
"شہرت کی ایک عمر ہوتی ہے۔ جب شہرت کا عادی شخص اس سے محروم ہوجاتا ہے تو اُس کے کان تالیاں سننے کے لیے مچلنے لگتے ہیں، جیسے نشہ نہ ملنے پر نشئی کا بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ تب وہ تالی سننے کے لیے اپنے مقام سے گری ہوئی بات یا حرکت کرتا ہے، بعض اوقات مضحکہ خیز حرکت۔ ایک ایسی حرکت جو اس کے مقام، مرتبے اور شخصیت کو زیب نہیں دیتی۔ سو وہ ایک حرکت اُس کی برسوں کی محنت اور عزت پر پانی پھیر دیتی ہے"۔
ایک "ناجائز" نامی بھارتی فلم ہے۔ رؤف کلاسرا نے "ناجائز بیٹا" کے عنوان سے اس سے ایک سبق کشید کرکے مضمون باندھا ہے۔ اس فلم میں اجے دیوگن ایک پویس افسر ہے جو نصیر الدین شاہ کا بیٹا ہے۔ ایک فرض شناس اور محنتی افسر ہونے کے ناتے وہ واہ واہ اور شاباش سننے کا عادی ہوتا ہے۔ اُسے نہیں معلوم ہوتا کہ نصیر الدین شاہ جو راج سولنکی نامی بدمعاش کا کردار ادا کررہا ہے اُس کا باپ ہے۔ سولنکی اپنے بیٹے کو اپنی حقیقت بتا کر اُسے اپنی گرفتاری دینے کی پیش کش کرتا ہے لیکن وہ گرفتاری والے دن تھانے آکر اپنی گرفتاری دینے نہیں آپاتا۔ کیوں کہ اُس کی اصل بیوی کی اُسی روز وفات ہوئی ہوتی ہے۔ اس جذباتی سانحے سے گزرنے کے باوجود بیٹا باپ کو گرفتار کرنے پہنچ جاتا ہے۔ باپ اُس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اسے چند گھنٹوں کی مہلت دے دے۔ بیٹا باپ کو گرفتار کرکے تھانے لے جانے لگتا ہے تو اس کی اپنی ماں اُسے طعنہ دیتی ہے "تمھارا پیٹ نہیں بھرا دنیا کی واہ واہ سن کر۔ تجھے اس دنیا سے کتنی واہ واہ چاہیے"۔
رؤف کلاسرا رقم طراز ہیں کہ اس دن اُنھیں احساس ہوا کہ یہ واہ واہ، بلّے بلّے کا شوق یا جنون کتنی خطرناک چیز ہے۔ پس اس ایک سین نے اُنھیں واہ واہ بلے بلے اور تالی کے نشے سے دور کردیا۔ ایک فلم کے سین کے تذکرے سے مصنف نے قاری کے ذہن پر ایک ایسی حقیقت کو نقش کردیا جسے کام یابی کی شاہ راہ پر رواں دواں خود مگن وخود پرست فراموش کردیتے ہیں۔
"داماد کی تلاش" میں ایک موزوں رشتے کو ایک بیٹی کی ماں اس لیے ناپسند کردیتی ہے کہ اُسے لڑکے کے بیٹھنے کا انداز ناموزوں لگتا ہے کہ وہ اُس کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتا ہے۔ درحقیقت یہ انداز اس کے آیندہ رویے کا پتا دیتا ہے۔ آدمی کی جسمانی حرکت و سکنات دیکھ کر اُسے مزید جانچنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ بدن کی زبان بسا اوقات تالوسے چپکی، منہ میں بند زبان سے زیادہ بلند آواز رکھتی ہے۔ اس پر باقاعدہ ایک عِلم علمِ حرکت شناسی (Kinesics) وجود رکھتا ہے۔
میرے لڑکپن میں یونی ورسٹی کا ایک رفیق حد درجہ غم گین رہتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے اُس سے اس ہمہ وقت ملال زدہ کیفیت کی وجہ پوچھی تووہ گویا ہوا "میں بہت محنت کرکے اِس یونی ورسٹی میں داخل ہوا، میری انٹرمیڈیٹ میں ممتاز پوزیشن تھی۔ میں کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ شغل کے طور پر سگریٹ کے چند کش لگا لیتا تھا۔ ایک روز میں گھرآیا تو میرے منہ سے سگریٹ کی بوُ آرہی تھی جو میری ماں نے سونگھ لی۔ گھر میں ایسا کہرام مچا جیسے کسی کی موت واقع ہوگئی ہو۔ اب جب کسی خاندانی محفل میں رشتہ دار میری تعریف کرتے ہیں کہ یہ خاندان کا لائق لڑکا ہے تو وہاں میری ماں اُنھیں ٹوک دیتی ہے کہ اس میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ اس کے بعد وہ بھری محفل میں میری خامیاں بتانے لگتی ہے جن میں میری سگریٹ نوشی کی حرکت کا بھی ایسے ذکر کرتی ہے جیسے میں کوئی چرسی، نشئی ہوں۔ اب میں خاندان میں کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہا"۔ کچی عمر میں چھوٹی چھوٹی باتیں شخصیت پربہت پکے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ بعد ازاں وہ ہم جماعت کینیڈا میں کیلگری کے مقام پر ہجرت کرگیا اور اپنے گھر والوں سے بھی اُس نے رسمی تعلق رکھا۔
بڈی ماموں نامی خاکے میں مذکور ہے کہ بڈی ماموں کا بھانجا میرا دوست تھا۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ماموں کے ساتھ سگریٹ پی رہا ہے۔ جب میں نے اُس کی اِس حرکت پر حیرت کا اظہار کیا تو بڈی ماموں نے مجھ سے تخلیے میں وضاحت کی "آج یہ میرے سامنے سگریٹ پی لیتا ہے، میں اسے پیار سے سگریٹ کم کرواسکتا ہوں، چھڑوا بھی سکتا ہوں۔ اگر میں اس پر سختی کروں گا تو کل کو یہ چھپ کر سگریٹ پیے گا، ہوسکتا ہے دوسرے نشے بھی کرے۔ یوں یہ میرے قابو سے باہر ہوجائے گا"۔ بہرحال یہ ایک نقطہ نظر ہے جس سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے۔
ایسے ہی "اماں اور سگریٹ" میں رؤف کلاسرا نے اپنے سے بڑے نعیم بھائی کے حوالے سے واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح ان کے ماموں نے ان کی والدہ کو شکایت کی کہ وہ سگریٹ پینے لگے ہیں۔ اس دور میں سگریٹ پینا بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ جب ماموں نے اپنی بات مکمل کرلی تو ان کی والدہ نے اطمینان سے اپنے بھائی کو بتایا کہ انھیں تین برس سے پتا ہے کہ اُن کا نعیم بیٹا سگریٹ پیتا ہے۔ البتہ انھوں نے اپنے اور بیٹے کے بیچ حیا اور لحاظ کا پردہ برقرار رکھنے کی خاطر اس بات کو اخفائے راز میں رکھا۔ اگر وہ نعیم کو یہ بتا دیتیں تو اُس کی جھجک اور شرم چند روز میں زائل ہوجاتے اور وہ جو چھپ کر سگریٹ نوشی کرتا ہے، کھلے عام منہ سے دھوئیں کے مرغولے برآمد کرتا پھرتا۔ اپنی بہن کی دانش مندانہ اور متانت بھری گفت گو سُن کر ماموں ہک بک چپ رہ گئے۔
چھوٹے چھوٹے واقعات، دانش بھرے اقوال، روزمرہ کی باتیں، عمومی مشاہدے اور یاد رہ جانے والے قصّے اور واقعات ہیں جن سے یہ خوش رنگ، خوش ذائقہ متنجن تیار ہوا ہے جسے نرالے لوگ نرالی کہانیاں، کا نام دیا گیا ہے۔
یہ کتاب نہ تو کوئی عظیم صحیفہ ہے اور نہ ہی اس کی اشاعت ادب کی تاریخ کا یادگار واقعہ ہے۔ البتہ یہ جدید صحافت کا ایک اہم واقعہ ضرور ہے۔ ایک دور تھا جب مولانا ظفر علی خاں سے لے کر شورش کاشمیری اور چراغ حسن حسرت سے لے کر م۔ ش تک صحافی علم و ادب میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ موجودہ صدی میں یہ تعلق ختم ہوگیا ہے۔ دورِ حاضر میں وہ ممتاز صحافی جن کا ادب سے گہرا شغف ہے ایک ہاتھ کی اُنگلیوں پر گِنے جاسکتے ہیں۔ رؤف کلاسرا ان میں نمایاں تر ہیں۔
اس کتاب اور اپنی گزشتہ کتابوں میں نہ صرف وہ ایک ثقہ ادیب کے طور پر سامنے آئے ہیں بلکہ ان کی انسان دوستی کا من موہنا پہلو بھی بہت نمایاں ہوا ہے۔ ایک عاجز شخص، ایک خوب صورت ادیب، ایک وسیع المطالعہ قاری اور ایک پیارے آدمی کا روپ۔ ایک ایسا پیارا آدمی کہ جو کوئی بھی اس کی صحبت میں بیٹھے یا اس کی کتابوں کی بھینی بھینی مہک سونگھے اُسے جیسل کلاسرا کے اس بیٹے سے پیار ہوجائے۔