Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Safwan
  4. Sindh Mein Muhajir Aik Qaum Kyun Banay?

Sindh Mein Muhajir Aik Qaum Kyun Banay?

سندھ میں مہاجر ایک قوم کیوں بنے؟

ہمارے کچھ دوست پوچھتے ہیں کہ "مہاجر قوم" کیا چیز ہوتی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اِن میں زیادہ تر تو "یو پی سی پی" سے آئے ہیں، لیکن اِن میں حیدرآباد دکن سے آئے ہوئے بھی ہیں، گجراتی اور میمنی بولنے والے میمن، خوجے، بوہرے اور آغا خانی بھی ہیں، تامل بولنے والے مدراسی بھی ہیں، اِن میں مختلف نسلوں لوگ بھی ہیں جیسے لودھی، غوری اور روہیلہ لوگ پختون نسل کے ہیں، رانگھڑ وغیرہ بھی اِن میں شامل ہیں، تو اِس تنوع کے بعد یہ خود کو "قوم" کیسے کہہ سکتے ہیں؟

اِس کو یوں سمجھیے کہ قیامِ پاکستان کے بعد بہت سے مسلمان اپنے آبائی علاقوں کو جو آزادی کے بعد بھارت کا حصہ بنے، چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرکے آ گئے۔ یہاں پہلے سے "قوم" کی اصطلاح ایسے گروپوں کے لیے استعمال ہو رہی تھی جو کسی خاص علاقے کے آبائی باشندے ہوں۔ اُن کی تاریخ، زبان، تہذیب، تمدن، رسوم و رواج، لباس، غذا، لوک داستانیں وغیرہ ایک جیسی ہوں اور وہ خود کو ایک قوم سمجھتے ہوں۔

یہاں آ کر جب تک حکومت، سول سروس، تجارت، صنعت اور اشرافیہ میں ہجرت کرکے آنے والے اِن لوگوں کا غالب حصہ رہا تو اِنھیں اقلیت میں ہونے سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ یہ لوگ مطمئن اور خوش و خرم رہے۔

پھر وقت گزرنے کے ساتھ نئی ریاست کے ثمرات یہاں کے قدیم باشندوں تک پہنچے اور وہ بڑی تعداد میں اُن میدانوں میں آنے لگے جن میں مہاجروں کی اکثریت تھی۔ اہم تر بات یہ ہے کہ یہ لوگ آبادی میں مہاجروں سے کہیں زیادہ تھے۔ یوں شروع میں آہستہ آہستہ اور بعد میں تیزی سے مہاجروں کی بالادستی کم ہوتی چلی گئی۔ اِس سے اِن میں احساسِ عدمِ تحفظ پیدا ہونے لگا۔

اِس کے ساتھ ساتھ اُنھیں یہ احساس بھی ہونے لگا کہ مقامی لوگ اُنھیں ناپسند کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر جگہ مقامی آبادی باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو پسند نہیں کرتی۔ اُن کے لیے توہین آمیز نام رکھے جاتے ہیں اور اُنھیں تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ مہاجروں کو احساس ہوا کہ اُن کے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت وہ القابات ہیں جو اُنھیں دیے گئے جیسے "پناہ گیر"، "بھگوڑے"، "مکڑ"، "تلیر"، "بھئیے"، "ہندوستوڑے"، "توڑے" (اور اب تو "یہودی" بھی کہا جانے لگا ہے)۔

رہی سہی کسر کوٹہ سسٹم اور بھٹو صاحب کے حکومت میں آنے کے بعد اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ سندھ ٹیلنٹڈ کزن جناب ممتاز علی بھٹو کے اقدامات نے پوری کر دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکریوں، صنعت اور کاروبار میں مہاجروں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوتی گئی۔ اِس سے ملک میں اُن کی حیثیت اور اثر و رسوخ میں کمی پیدا ہوئی۔

یہ سب چیزیں فطری تھیں۔ اِنھیں ہونا ہی تھا۔ لیکن اِن کی وجہ سے مہاجروں میں جو احساسِ عدمِ تحفظ اور خوف پیدا ہوا اُس میں اُنھوں نے سوچا کہ ہم بے شک برِصغیر کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے یہاں آئے ہیں، بے شک ہم مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں، بے شک ہماری زبانیں اور رسوم و رواج، کھانے اور لباس وغیرہ مختلف ہیں لیکن ہم سب کو ایک جیسے مسائل درپیش ہیں اور ہمارے ساتھ مقامی لوگوں کا برتاؤ ایک جیسا ہے، اِس لیے ہماری بقا اِسی میں ہے ہم سارے باہر سے آئے ہوئے لوگ اپنے اندرونی تنوع کے باوجود ایک گروپ بن کر اِن مسائل کا سامنا کریں۔ اِس اکٹھے ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کی تعداد زیادہ ہوجائے گی اور ہم اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکیں گے۔

یوں اپنی گرتی ہوئی حیثیت اور بڑھتے ہوئے تعصب سے پیدا ہونے والے خوف اور اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر سندھ کے شہری علاقوں میں آباد بہت سے مہاجروں نے خود کو ایک گروپ سمجھنا شروع کر دیا اور ایک دفعہ ایک گروپ بن جائے تو اُس کی اپنی حرکیات group dynamics بن جاتی ہیں۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ اب یہ گروپ ایک مخصوص علاقے، یعنی سندھ کے شہری علاقوں میں بستا ہے۔ اِس کے ممبران چاہے "پیچھے سے" کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں، ہندوستان کے کسی علاقے سے آئے ہوں، اُن کے جو بھی مخصوص رسوم و رواج رہے ہوں، اُنھوں نے وہ کلچر اور رسوم و رواج اپنا لیے جو اِن علاقوں میں بسنے والے مہاجروں میں پچھلے 75-80 برسوں میں ارتقا پذیر ہوا اور اُنھوں نے اردو زبان کو برضا و رقبت اپنے گروپ کی زبان کے طور پر اپنایا اور شادیاں زیادہ تر اپنے گروپ میں ہی کیں۔

یہ بات اہم ہے کہ احساسِ عدمِ تحفظ، تعصب کا شکار ہونے اور اپنے مفادات کے تحفظ کی وجہ سے مہاجر اُس عمل سے ذرا زیادہ تیزی سے گزرے جس عمل سے گزر کر پاکستان میں رہنے والے مقامی علاقائی اور لسانی گروپ "قوم" بنے تھے۔ باقی لوگ فطری ارتقا کی وجہ سے قوم بنے جب کہ یہ لوگ حالات کے جبر کی وجہ سے قوم بن رہے ہیں۔

تاہم، یہ امرِ واقع ہے کہ یہ لوگ ابھی پوری طرح قوم بنے نہیں ہیں۔ لیکن جیسے تیز آنچ پر پیاز، لہسن، ادرک، نمک، ہلدی، لال مرچ کالی مرچ، لونگ وغیرہ کو گھی میں ڈال کر چمچہ چلا کر مسالہ بھونا جاتا ہے اُسی طرح شہری سندھ کی دیگچی میں مشترکہ خطرات، خدشات اور مفادات کے گھی میں یو پی سی پی، مدراس، بہار، حیدرآباد دکن، بینگلور، گجرات وغیرہ وغیرہ سے آئے ہوئے مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ سندھی قومیت پرستوں کی نفرت اور تعصب کی تیز آنچ پر موجودہ دور کے حالات اور سوشل میڈیا کے چمچے سے بھنائی ہونے کی وجہ سے بہت جلد ایک قوم بن جائیں گے۔

Check Also

Kasb e Kamal Kun: Baba Ahmund

By Asif Masood