Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Main Wahan Marna Chahta Hoon

Main Wahan Marna Chahta Hoon

میں وہاں مرنا چاہتا ہوں

یہ جملہ کوئی عام خواہش نہیں، یہ ایک عمر بھر کی کمائی، شناخت، یقین اور انجام کی کہانی ہے۔ میزورام کے دارالحکومت آئیزول کے عین مرکز میں واقع ایک بڑے مگر خاموش گھر کی دیواروں پر آویزاں تصویریں ایک خاندان کی مکمل داستان سناتی ہیں۔ 76 سالہ موسائی ہنامتے، بنی مناشے برادری سے تعلق رکھنے والے، سابق پولیس افسر، پہلوان، اپنے گھر میں بیٹھے یہ کہتے ہیں تو الفاظ میں ایک عجیب سی ٹھہراؤ والی تپش ہوتی ہے: "ہمیں میزورام کی یاد آئے گی، یہ ہماری جائے پیدائش ہے، مگر یہ ہمارا آخری ٹھکانہ نہیں۔ ہمیں جانا ہوگا۔ " ان کی بات میں ہجرت کا رومانس نہیں، انجام کا سکون ہے۔ ان کے والدین بیس برس پہلے اسرائیل جا چکے، وہیں دفن ہیں۔ موسائی ہنامتے کہتے ہیں: "میں بھی وہیں مرنا چاہتا ہوں۔ " یہ خواہش بہتر معاشی مستقبل کا لالچ نہیں، مذہبی شناخت اور وجودی یقین کا تسلسل ہے، ایک ایسی سرزمین جہاں ریاست شہری کو بنیادی سہولتیں، تحفظ اور پینشن جیسے حقوق دینے پر آمادہ ہے۔

یہاں سوال موسائی ہنامتے کی ہجرت کا نہیں، سوال ریاستوں کی ترجیحات کا ہے۔ اسرائیل ایک ایسے شخص کو، جو دنیا کے کسی کونے سے آئے، شہری سہولتیں اور پینشن دینے کو تیار ہے، کیونکہ ریاست اپنے شہری کو محض ووٹر نہیں، ذمہ داری سمجھتی ہے۔ پینشن وہاں احسان نہیں، حق ہے، وہ حق جو انسان اپنے جوانی کے بہترین سال دے کر کماتا ہے۔ پولیس، فوج، سول سروس، یہ سب محض نوکریاں نہیں، یہ قربانیاں ہیں۔ راتوں کی نیند، گھر کی خوشیاں، بچوں کے ساتھ وقت، سب ریاست کے نام پر گروی رکھ دیے جاتے ہیں۔ جب عمر ڈھلتی ہے تو پینشن اس وعدے کی تکمیل ہوتی ہے جو ریاست اپنے کارکن سے کرتی ہے: "ہم تمہیں آخری سانس تک بے یار و مددگار نہیں چھوڑیں گے۔ "

اور پھر اپنا ملک دیکھ لیجیے۔ یہاں پینشن کو آہستہ آہستہ ایک بوجھ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ خزانے کی کمزوری کا ماتم ہے، مگر کمزور کی قربانی سب سے پہلے۔ وہی لوگ جو اقتدار سے پہلے دودھ اور شہد کی نہروں کے وعدے کرتے تھے، اقتدار ملتے ہی حساب کتاب میں پینشنرز کو لائن آئٹم بنا کر کاٹنے لگتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پینشن کا بجٹ بہت بڑھ گیا ہے، خزانہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ خزانہ کس کے لیے ہوتا ہے؟ اگر ریاست اپنے ان لوگوں کے لیے نہیں جو عمر بھر اس کے لیے کھڑے رہے، تو پھر خزانہ کس مقصد کے لیے جمع کیا جاتا ہے؟ کیا ریاست صرف بڑے منصوبوں، اشتہارات، مراعات اور پروٹوکول کے لیے ہوتی ہے؟ کیا قربانی صرف نچلے درجے کے لیے مخصوص ہے؟

یہ تضاد چیخ چیخ کر نظر آتا ہے۔ ایک طرف دنیا کے کسی حصے سے آنے والے یہودی کو، اس کے مذہبی و نسلی رشتے کی بنیاد پر، شہریت، سہولتیں اور پینشن دینے پر آمادگی، دوسری طرف اپنے ہی ملک کے بزرگوں، ریٹائرڈ ملازمین، شہدا کے خاندانوں سے یہ حق چھیننے کی تیاری۔ دشمنوں کے خلاف جن محاذوں پر یہ پینشنرز کھڑے رہے، آج انہی دشمنوں کی ریاستیں اپنے شہریوں کو سوشل سکیورٹی کی مضبوط چھتری دیتی ہیں اور ہم اپنے محافظوں کو "بوجھ" قرار دے دیتے ہیں۔ یہ محض معاشی پالیسی نہیں، یہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ ریاستیں اپنے بزرگوں کے ساتھ جیسا سلوک کرتی ہیں، تاریخ انہیں اسی ترازو میں تولتی ہے۔

پینشن ایک عدد نہیں، ایک تہذیبی عہد ہے۔ یہ عہد ٹوٹتا ہے تو اعتماد ٹوٹتا ہے۔ نوجوان دیکھتے ہیں کہ انجام کیا ہے تو ان کے دل میں خدمتِ ریاست کا جذبہ کمزور پڑتا ہے۔ کون اپنی جوانی دے گا اگر بڑھاپا بے یقینی ہو؟ کون محاذ پر کھڑا ہوگا اگر ریٹائرمنٹ پر سوالیہ نشان ہو؟ ریاست کی اصل طاقت ٹینک، عمارتیں یا بیلنس شیٹ نہیں، اس کے لوگوں کا اعتماد ہے۔ جب یہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو ہجرتیں جنم لیتی ہیں، جسمانی بھی، ذہنی بھی۔ موسائی ہنامتے جیسے لوگ کہتے ہیں "میں وہاں مرنا چاہتا ہوں " کیونکہ وہاں ریاست نے انہیں یقین دیا ہے کہ وہ آخری دنوں میں بھی باوقار شہری رہیں گے۔

افسوس کہ ہم اس سادہ سچ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اصلاحات کے نام پر کمزور پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے، مگر فضول خرچی، مراعات، بدانتظامی اور کرپشن پر ہاتھ نہیں پڑتا۔ پینشنرز کو نشانہ بنانا آسان ہے کیونکہ وہ سڑکوں پر نہیں آتے، ان کی آواز مدھم ہوتی ہے، ان کے ہاتھوں میں طاقت نہیں، صرف تجربہ ہوتا ہے۔ مگر یہی تجربہ بتاتا ہے کہ جو ریاست اپنے بزرگوں کا احترام نہیں کرتی، وہ اپنی جڑیں خود کاٹتی ہے۔ وقت ابھی بھی ہے کہ ہم ترجیحات درست کریں، پینشن کو حق مانیں، بوجھ نہیں اور یہ تسلیم کریں کہ ریاست کی عظمت اس کے وعدوں کی پاسداری میں ہے، نہ کہ وعدوں سے پھر جانے میں۔

موسائی ہنامتے کی خواہش ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں مرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو کہاں جینے کے قابل چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے پینشن کو حق کے بجائے رعایت سمجھا، اگر ہم نے بزرگوں کو بوجھ کہا، تو کل کو یہ جملہ ہمارے گھروں سے بھی سنائی دے گا: "میں وہاں مرنا چاہتا ہوں " اور پھر ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔

ریاستیں اپنے شہریوں سے وعدے الفاظ میں نہیں، عمل میں نبھاتی ہیں۔ جو معاشرے اپنے بزرگوں کے حق کو بوجھ سمجھنے لگیں، وہ دراصل اپنی ہی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پینشن کوئی خیرات نہیں، یہ عمر بھر کی خدمت کا وقار بھرا اعتراف ہے اور یہی اعتراف قوموں کو زندہ رکھتا ہے۔

یہ جو بڑھاپے میں سہارا چھیننے کی بات ہوئی

یہ ریاست کی نہیں، کسی بازار کی بات ہوئی

جنہوں نے عمر لٹا دی سرحدوں کی خاک پر

انہی کے حق کو بوجھ کہنے کی بات ہوئی

وعدے تھے دودھ و شہد کے موسم بہار میں

اقتدار آیا تو حساب کتاب کی بات ہوئی

جو مرنے کی جگہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئے

سمجھو کہ شہر میں کسی اور کی بات ہوئی

اگر بزرگ ہی بے وقعت ٹھہریں اس دیس میں

تو پھر وفا، اصول، روایت کی بات ہوئی

Check Also

12 February Dhaka Election Aur Tawaquat

By Mushtaq Ur Rahman Zahid