Thursday, 08 January 2026
  1.  Home
  2. Wusat Ullah Khan
  3. Bharat Ko Apne Hathyar Bechne Mein Waqt Lage Ga

Bharat Ko Apne Hathyar Bechne Mein Waqt Lage Ga

بھارت کو اپنے ہتھیار بیچنے میں وقت لگے گا

گذشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور ونگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی تاریخ میں اس سے بڑے المیے رونما ہوئے ہیں۔

انیس سو تہتر میں پیرس ایر شو کے دوران ایرو فلوٹ کا پہلا سپر سانک ٹیوپولوف ٹی یو ون فورٹی فور طیارہ پہلی نمائشی پرواز کے دوران ہی گر پڑا۔ عملے کے تمام پانچ افراد اور زمین پر موجود دیگر آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اٹھائیس اگست انیس سو اٹھاسی کو مغربی جرمنی میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال رامسٹین ایر بیس کے فضائی میلے میں آسمانی کرتب دکھانے والے اطالوی فضائیہ کے تین طیارے ٹکرا کے آگ کا گولہ بن گئے۔ تینوں پائلٹوں سمیت ستر افراد ہلاک اور تین سو چھپن تماشائی شدید زخمی ہو گئے۔

آٹھ اکتوبر انیس سو نواسی کو بھارتی یومِ فضائیہ کے موقع پر دہلی میں ایک میراج طیارہ قلابازیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیچے گر پڑا۔ ونگ کمانڈر رمیش بخشی اور زمین پر کھڑا ایک اور شخص جان کی بازی ہار گئے۔

جولائی انیس سو ستانوے میں بلجئیم میں اوسٹینڈ ایر شو کے دوران اردنی فضائیہ کا ایک طیارہ کرتب دکھانے کے لیے ٹیک آف کے دوران نیچے گر پڑا۔ پائلٹ سمیت آٹھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔

جولائی دو ہزار دو میں یوکرین میں ایک فضائی نمائش کے دوران کرتب دکھاتے ہوئے یوکرینی فضائیہ کا سوخوئی طیارہ توازن کھونے کے سبب نیچے گر پڑا۔ اس وقت نمائش میں دس ہزار تماشائی موجود تھے۔ اٹھائیس بچوں سمیت ستتر افراد ہلاک اور ساڑھے پانچ سو زخمی ہوئے اور نیچے کھڑے کئی طیارے تباہ ہو گئے۔ مگر حادثاتی طیارے کے دونوں پائلٹ زندہ بچ گئے۔

البتہ ایسے حادثات کے کاروباری نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً دوبئی ایر شو میں تیجس کا پائلٹ سمیت تباہ ہو جانا ایک ایسا حادثہ ہے جس کے سبب بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کی شہرت اور صلاحیت پر بھی کچھ بنیادی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ویسے بھی دنیا میں چند ہی ممالک ہیں جن کے درمیان ہتھیاروں کی تجارت کا گلا کاٹ مقابلہ ہے۔ ایسا کوئی بھی حادثہ ہتھیار فروخت کرنے والے ملک کی شہرت پر وقتی طور پر سہی مگر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ اس ملک کا نقصان کروڑوں اربوں ڈالرز کے آرڈرز کی شکل میں اسلحے کے دیگر تاجر ممالک کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

جیسے انڈونیشیا نے فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کا سودا کیا مگر پاکستان سے لڑائی کے دوران ایک بھارتی رافیل کی تباہی کے بعد انڈونیشیا نے سودا منسوخ کر دیا اور طیارہ ساز کمپنی کے حصص کی قیمت بھی گر گئی۔

فورتھ جنریشن کا تیجس بھارتی اسلحہ انڈسٹری کے سر کا تاج ہے۔ تیجس کا یہ پہلا حادثہ نہیں۔ مارچ دو ہزار چوبیس میں جیسلمیر کے قریب ایک تربیتی پرواز کے دوران پہلا تیجس گر کے تباہ ہوا۔ خوش قسمتی سے پائلٹ محفوظ رہا۔

تیجس انیس سو تراسی میں ڈرائنگ بورڈ پر آیا مگر اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ سترہ برس بعد دو ہزار ایک میں ممکن ہو سکی۔ اس کے پچپن فیصد آلات ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے تیار کیے ہیں۔ ریڈار اور الیکٹرونکس سسٹم ساختہ اسرائیل ہے۔ اس میڈ ان انڈیا طیارے کی تیاری پر انیس سو تراسی سے اب تک ڈیڑھ بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

ہندوستان ایرو ناٹیکل لمیٹڈ (ایچ اے ایل) عرصے سے طیارے اور ہیلی کاپٹر تیار کر رہا ہے مگر سب سے بڑا گاہک یعنی بھارتی فضائیہ بھی ایچ اے ایل کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ تیجس مارک ون کی پروڈکشن دو ہزار چھ میں شروع ہوگئی۔ دو ہزار گیارہ تک بیس طیارے فضائیہ کے حوالے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تاہم یہ ڈلیوری ستمبر دو ہزار چوبیس میں مکمل ہو سکی۔

فضائیہ کے سربراہ ایر چیف مارشل اے پی سنگھ نے تو کھلم کھلا چند ماہ پہلے کہہ دیا کہ فضائیہ کو ایچ اے ایل کی کارکردگی پر اعتماد نہیں۔ ایچ اے ایل نے گذشتہ فروری تک گیارہ تیجس فضائیہ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن وہ ان میں سے ایک بھی طیارہ وعدے کے مطابق ڈلیور نہ کر سکی۔ مگر اب فضائیہ کو چالیس طیارے بالاخر مل گئے ہیں۔ بھارتی فضائیہ اپنے بیڑے میں تین سو چوبیس تیجس (اٹھارہ اسکواڈرن) شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاکہ مگ اکیس نامی " فضائی تابوت " سے گذشتہ برس جان چھوٹنے سے پیدا ہونے والا خلا بھرا جا سکے۔ مگر پروڈکشن اور سپلائی لائن پر کلرک مزاج سرکاری بابو بیٹھے ہیں۔ بھارتی فضائیہ کا تین سو سے زائد طیاروں کا آرڈر دو ہزار بتیس سے پہلے مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

جس قیمت پر تیجس غیر ملکی گاہکوں کو مہیا کیا جاتا ہے۔ اسی قیمت میں دوبئی ایر شو میں چینی ساختہ جے ایف سیونٹین، جے ٹین اور جے تھرٹی ون طیارے اور سویڈن کا گروپن بھی موجود تھا۔

دوبئی ایر شو میں تیجس کی تباہی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ آرمینیا نے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر مالیت کے بارہ طیاروں کی خریداری کا سودا معطل کر دیا۔ یہ اس لیے بھی نیک شگون نہیں کہ پہلی بار کسی ملک نے تیجس خریدنے میں سنجیدگی سے دلچسپی ظاہر کی تھی۔ برازیل، ارجنٹینا، کانگو، مصر اور ملیشیا بھی تیجس کو مختلف اوقات میں شارٹ لسٹ کر چکے ہیں مگر سخت بین الاقوامی مقابلے کے سبب یہ بیل کہیں بھی منڈھے نہیں چڑھ سکی۔

معاملہ صرف تیجس کی مارکیٹنگ کو دھچکا لگنے تک محدود نہیں۔ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ نے دو ہزار آٹھ میں جنوبی امریکا کے ملک ایکویڈور کی فضائیہ کو ساڑھے بیالیس ملین ڈالر مالیت کے سات دھروو ایڈوانس ہیلی کاپٹر فروخت کیے۔ بھارتی فوجی ہیلی کاپٹرز کا یہ پہلا بڑا بین الاقوامی آرڈر تھا۔

مگر سات میں سے چار ہیلی کاپٹر یکے بعد دیگرے تکنیکی وجوہات کے سبب کریش ہو گئے۔ ایکویڈور نے دو ہزار پندرہ میں ایچ اے ایل سے مزید ہیلی کاپٹرز کی خریداری کا سودا ہی منسوخ کر دیا۔

دو ہزار بائیس میں ایچ اے ایل کے سربراہ اننتھا کرشن نے اعلان کیا کہ ارجنٹینا، مصر اور فلپینز دھروو ہیلی کاپٹرز خریدنے پر آمادہ ہیں۔ مگر اس اعلان کے چند ماہ بعد ایک اور دھروو ہیلی کاپٹر ارونا چل پردیش میں کریش کر گیا۔ اس کے بعد اس ہیلی کاپٹر کی برآمد کے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ معلوم نہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر بھارتی فضائیہ بھی خوشی خوشی استعمال کر رہی ہے یا اسے زبردستی ٹکایا گیا ہے۔

اگرچہ امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین جیسے ممالک کے طیارے بھی حادثات کا شکار ہوتے رہے ہیں مگر یہ ممالک چونکہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں لہذا گاہکوں پر ان کا اعتماد کسی ایک پروڈکٹ کے نقصان کے سبب وقتی طور پر تو متزلزل ہوتا ہے تاہم ان ممالک کی عسکری مصنوعات اتنی ہیں کہ کسی ایک نقصان سے ان کی تجارتی صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ بھارت جیسے ممالک چونکہ اسلحے کی فروخت کے میدان میں نئے نئے ہیں اور ان کے پاس بیچنے کے لیے آئٹم بھی کم ہیں۔ ایسے میں کوئی ایک گڑبڑ بھی گاہک کا اعتماد گڑبڑانے کے لیے کافی ہے۔

بھارت کے سرکردہ دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کے بقول دنیا بھر میں جدید اسلحہ سازی کے شعبے میں نجی شعبہ چھا رہا ہے۔ مگر بھارت میں ہتھیار سازی کے کلیدی منصوبے آج بھی سرکاری سیکٹر میں ہیں۔ لہذا جب بابو ٹکنیکل کمپیٹیشن کے میدان میں اتریں گے تو بہت دور اور دیر تک نہیں دوڑ سکتے۔ اس صنعت کو شفاف، اسمارٹ اور سخت مقابلے بازی کا عادی ہونے میں وقت لگے گا۔

About Wusat Ullah Khan

Wusat Ullah Khan is associated with the BBC Urdu. His columns are published on BBC Urdu, Daily Express and Daily Dunya. He is regarded amongst senior Journalists.

Check Also

Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

By Asif Masood