پاک فوج اثاثہ یا بوجھ؟
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے اندر داخلی سطح پر افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہاہے، خلیجی ریاست کویت نے پاکستان کے ساتھ سعودی طرز کے دفاعی معاہدے کی درخواست کی ہے اور اس حوالے سے کافی حد تک ابتدائی ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے۔ کویت رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے لیکن توانائی، وسائل، مالی استحکام اور خلیج میں جغرافیائی حیثیت سے اسے اہم مقام حاصل ہے۔ دفاعی بجٹ کو ہمیشہ ملکی معیشت، جغرافیہ، خطرات اور قومی ضروریات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جسے مشرق میں ایک بڑی فوجی طاقت، مغرب میں غیر مستحکم سرحد، شمال میں حساس جغرافیائی حالات اور اندرونی دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ملک کے لیے مضبوط دفاع کوئی عیاشی نہیں بلکہ بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ فوج پر کتنا خرچ ہوتا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا فوج صرف خرچ کرتی ہے یا قومی ترقی کا ایک ذریعہ بھی بن سکتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی تقریباً ہر بڑی طاقت نے اپنی عسکری قوت کو صرف دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قومی معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔
آج امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس، چین، ترکی، جنوبی کوریا اور اسرائیل جیسے ممالک دفاعی صنعت کو اپنی معیشت کا اہم ستون بنا چکے ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف اپنے لیے جدید اسلحہ تیار کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر کو دفاعی سازوسامان، تربیت، مشاورتی خدمات، ٹیکنالوجی اور سیکورٹی تعاون فراہم کرکے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ ان کے لیے فوج صرف ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ قومی معیشت، تحقیق، صنعت اور برآمدات کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان بھی اب اس میدان میں قدم رکھنے والا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے دفاعی پیداوار کے شعبے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار ہونے والا جے ایف-17 تھنڈر دنیا کے کئی ممالک کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ نائجیریا اور میانمار اس طیارے کے خریدار بن چکے ہیں۔ دفاعی خدمات صرف اسلحہ فروخت کرنے کا نام نہیں بلکہ جدید دنیا میں عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون، سائبر سیکورٹی، بارڈر مینجمنٹ، انسداد دہشت گردی، فوجی مشاورت، امن مشنز، لاجسٹک سپورٹ اور تکنیکی معاونت بھی ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
پاکستانی افواج ان تمام شعبوں میں قابلِ ذکر تجربہ رکھتی ہیں۔ پاکستانی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی دنیا کی بہت کم افواج کو اس نوعیت کا عملی تجربہ حاصل ہے۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کا خاتمہ، شہری جنگی حکمت عملی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، بارڈر مینجمنٹ اور انسدادِ شدت پسندی جیسے شعبوں میں پاکستان نے عملی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک پاکستانی عسکری تربیت اور تجربے سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
خلیجی ممالک اس حوالے سے پاکستان کے لیے سب سے موزوں منڈیاں ہیں۔ ان کے پاس مالی وسائل موجود ہیں لیکن آبادی کم ہونے کی وجہ سے انہیں پیشہ ور افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ہے، عسکری تجربہ بھی اور قابلِ اعتماد ساکھ بھی۔ اگر اس شعبے میں منظم حکمت عملی اختیار کی جائے تو دفاعی تعاون پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کے بعد افریقہ ایک وسیع اور ابھرتی ہوئی منڈی ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ دنیا میں کسی بھی ملک کی معیشت صرف بینکوں، فیکٹریوں یا تجارت کے ذریعے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک محفوظ ماحول ہوتا ہے۔ سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگاتا ہے جہاں استحکام ہو، امن ہو اور ریاست اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اگر فوج مضبوط نہ ہو تو صنعت، تجارت، زراعت، سرمایہ کاری اور ترقی سب خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس لیے دفاعی اداروں کو صرف خرچ سمجھنا درحقیقت معیشت کی بنیادی حقیقت سے لاعلمی ہے۔
اس ساری گفتگو کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دفاعی ادارے تنقید سے بالاتر ہیں یا ان کی ہر پالیسی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ جمہوری معاشروں میں تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی احتساب کے اصول سے مستثنیٰ نہیں ہوتے۔ تاہم تعمیری تنقید اور ادارہ جاتی تضحیک میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ آج پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ مشرقی سرحد پر مسلسل چیلنجز موجود ہیں، مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خطرات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں، خطے کی جغرافیائی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں قومی وحدت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

